انقلاب ثور: تیسری دنیا اور سوشلزم

تحریر: حمید خان

کسی مبالغہ کے بغیر آمو اور اباسین دریاؤں کے درمیان آباد لینڈلاک مگر ہنگامہ خیز افغان خطے کی ہزاروں سالہ تاریخ میں خلق ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت میں ثور انقلاب کا واقعہ اپنے ہر پہلو سے تاریخ کے تمام تر واقعات میں سب سے اہم، فوری و دور رس اثرات رکھنے میں سب سے متاثر کن، طبقاتی جدوجہد اور سماجی و معاشی آزادی کے حصول کی کوششوں میں انتہائی اہم سنگ میل اور سنہری دور کی حیثیت رکھتا ہے۔ انقلاب کے فوری بعد قرونِ وسطٰی میں رکھے جانے والے پسماندہ سماج میں مظلوم طبقات اور محروم و محکوم قومیتوں کو آزادی کی سانس لینے اور انہیں اپنے مستقبل کا تعین خود کرنے کا اختیار حاصل ہوا۔ خواتین کو رقم کے عوض یا دشمنی میں کسی جانی و مالی نقصان کی بھرپائی کے لئے کسی اجنبی کے پلو سے جانور کی طرح باندھ دینے جیسے غیر انسانی فعل پر پابندی لگی۔ آئینی شقوں اور حکمرانوں کی روایات کے ذریعے محکوم قومیتوں اور نام نہاد اقلیتوں کے افراد کی ریاست اور اس کے اداروں میں اہم نشستوں پر تعیناتی پر لگائی گئی قدغنوں کو اکھاڑ پھینکا گیا اور انقلاب نے ملک کے ہرشخص کی بلاامتیاز رنگ و نسل و زبان و مذہب و مسلک کسی بھی عہدے پر تعیناتی کے راستے کھول دیئے۔ انقلابیوں نے زرعی اصلاحات کی راہ اپنائی، تعلیم کو مفت اور لازمی قرار دیا، تعلیم کی ترویج اور علاج کی دستیابی کے لئے تعلیم و صحت کے ادارے تشکیل دیئے اور بڑے پیمانے پر وسیع اصلاحات کا آغاز کیا۔ اس عظیم تبدیلی کو امریکی سامراج نے اسلامی بنیاد پرستی کے ساتھ مل کر کس طرح عظیم سانحے میں بدلتے ہوئے افغان سماج کو خون میں نہلایا، اسے پسماندگی اور جہالت کے اندھیروں میں دھکیلتے ہوئے درندگی کے ننگے رقص کے میدان میں تبدیل کردیا۔ ثور انقلاب افغان تاریخ کا ایک ایسا باب ہے کہ جس کی حمایت یا مخالفت میں لکھے بغیر افغانستان اور اس خطے کا کوئی بھی تجزیہ اور تناظر مکمل نہیں ہوتا۔ سوشلزم اور طبقاتی جدوجہد کے خاتمے کے اعلانات کرنے والے لبرل اور مذہبی بنیاد پرست آج بھی اس شاندار انقلابی دورانیے کا، جسے وہ اب معدوم سمجھتے ہیں مگر ان کا ہر تجزیہ اور ہر پروگرام اس کا ذکر کئے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ وہ اس دورانیے کو عوام کے ذہنوں سے محو کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں۔ افغان ثور انقلاب کے برپا ہونے اور انقلاب کو رد انقلاب میں بدلنے، اس کی حاصلات اور زوال کے عوامل کے تناظر میں بہت کچھ لکھا جاچکا، بہت سارے تجزیئے کئے گئے۔ ثورانقلاب کی اس سالگرہ کے موقع پر ہم تیسری دنیا کی پچھڑی ہوئی معاشی و سماجی حالت اور یہاں کی پیداواری و ٹیکنالوجیکل پسماندگی کے سٹیج پر ترقی یافتہ سماجی و معاشی نظام یعنی سوشلزم کی تعمیر کے بظاہر متضاد مظہر پر بحث کرتے ہوئے افغانستان اور خطے کے حالات سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ سوشلزم جس کو عموماً صرف مغرب کے صنعتی ترقی یافتہ سماج کے ایڈوانس سماجی و معاشی ڈھانچے کے اوپر ترقی یافتہ سماجی و معاشی نظام کی تعمیر کا ہی سوال سمجھا جاتا ہے یا پھر یوروسینٹرک مارکسسٹ (انقلاب اور انقلابی طریقہ کار میں مغرب اور یورپ کی اندھی تقلید) انقلاب کا وہ تصور جو ذرائع پیداوار اور سماجی و ٹیکنالوجیکل ترقی یافتہ مغربی دنیا میں رائج ہے اسی مستعار ادراک، مصنوعی تصور اور لگے بندے طریقہ کار کو من و عن ایشیاء سے لے کر افریقہ اور لاطینی امریکہ یعنی تیسری دنیا کے پچھڑے ہوئے پسماندہ سماجوں پر لاگو کرنے کے عشروں پر مبنی عبث خواب دیکھتے رہے ہیں۔

غیرہموار اور مشترکہ یا باہم مربوط ترقی

غیرہموار اور مشترکہ یا باہم مربوط ترقی کارل مارکس اور اینگلز نے ایکو سسٹم کے تحت انسانی سماج کی اپنے ماحول اور حالات کے مطابق اکٹھے شکار کرنے کے گروہوں کے وقت سے سماج کی غیر ہموار اور ان گروہوں کی ایک دوسرے کے ساتھ تعامل اور تعاون کی بنیاد پر مشترکہ ترقی کے فطری سماجی قانون کو دریافت کرلیا تھا۔ اس سے آگے بڑھ کر مارکس نے ایشیائی طرز پیداوار کے عنوان سے براعظم براعظم اور خصوصاً ہندوستان کی تاریخی طرزِ ترقی اور معاشی و سماجی نظام کے مخصوص و منفرد حالات کا تجزیہ کیا۔ ایشیائی سماج کے ہزاروں خودکفیل یونٹوں اور یونٹ کے ممبران کے درمیان زمین کی مشترکہ ملکیت رکھتے ہوئے خاندان میں افراد کی تعداد کے مطابق اس کی کاشت کے لئے تقسیم اور تقسیم محنت کے نظام میں قدر زائد کی عدم تخلیق کی وجہ سے معاشی و اقتصادی بنیادی پر کسی بالادست طبقے کے ظہور کا نہ ہونا اور یونٹ کی داخلی خود کفالت پر مبنی زندگی اور سرگرمی نے یونٹوں کے بیچ رابطے کی ضرورت کے نہ ہونے کے عوامل نے یونٹ کو سماج کے بالائی سطح پر ریاستی و حکومتی ڈھانچے کی تشکیل کے عمل سے باہر کردیا تھا۔ جس سے مغرب کے برعکس ایشیائی سماج ہزاروں سال سے ایک ہی جیسی معاشی و سماجی زندگی گزارتے رہے تا آنکہ برطانوی سامراج نے یہاں قابض ہوکر ایشیائی طرزِ پیداوار پر مبنی یونٹوں کے نظام کو تہس نہس نہیں کیا۔ انقلاب روس کے راہنما اور بالشویزم کے زوال کے دور میں کمیونسٹ انٹرنیشنل اور بالشویزم کی روایات کو بائیں بازو کی حزبِ مخالف کی تحریک کے ذریعے زندہ رکھنے والے مارکسی دانشور کامریڈ ٹراٹسکی نے سماج کی غیرہموار اور مشترکہ ترقی کے نظریے کی تخلیق کے ذریعے طبقاتی نظام خصوصاً سرمایہ داری کی اس نااہلی کو اجاگر کیا کہ نظام زر اور طبقاتی نظام ملکی اور عالمی پیمانے پر سماج کو ہمہ جہت یکساں ترقی دینے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے سرمایہ داری میں غیر ہموار ترقی کی وضاحت کرتے ہوئے مشاہدہ اور پھر تجزیہ کیا کہ جہاں تاریخی طور پر ایک جانب عالمی پیمانے پر ہر سماج ایک دوسرے سے مختلف اور ممتاز ہے تو وہیں دوسری جانب ایک مخصوص سماج بھی مختلف مدارج اور متنوع خصوصیات کا حامل ہے۔ کامریڈ ٹراٹسکی نے مختلف سماجوں کی امتیازی ، متفرق اور متنوع کیفیات کا ان کی مقداری اور معیاری، دونوں حوالوں سے ادراک کیا۔ سماجوں کی اس آفاقی او عمومی متنوع حالت کو "غیرہموار ترقی” کے مقولے میں سمویا۔ یہ ناہمواری اپنی گہرائی میں کسی شخص تک اس کے خیالات، عقائد، نظریات اور اس کی ثقافت سے اس کے زیر استعمال اجناس و ٹیکنالوجیکل سہولتوں کے استعمال تک کے درمیان خلیج کی صورت میں دیکھی جاسکتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی تیز تر صنعتی، ٹیکنالوجیکل اور رابطے و ترسیل کی ترقی نے، سامراجی ممالک کی سامراجی بالادستی، خام مال اور منڈیوں پر قبضوں، تجارتی پابندیوں اور عالمی مالیاتی سامراجی اور مالیاتی سرمائے کا غریب اور پسماندہ ممالک و سماجوں کے استحصال اور لوٹ نے سماجوں کی اس غیر ہموار کیفیت کو عالمی اور مقامی و شخصی سطح پر ان دیکھے پیمانے پر وسیع اور گہرا کردیا ہے۔

مشترکہ یا باہم مربوط ترقی کو کامریڈ ٹراٹسکی نے غیر ہموار ترقی کی آفاقیت کا مقولہ تشکیل دیتے ہوئے غیر ہموار سماجوں میں سے کسی مخصوص سماج کی آگے کی جانب بڑھوتری کے عمل کا نہایت دقیق تجزیہ کرتے ہوئے یہ مشاہدہ کیا کہ مختلف مدارج کے حامل سماج اور یہ غیر ہموار کیفیت میں ہونے کے باوجود یہ سب بحیثیت مجموعی ایک کل کی حیثیت سے مختلف طریقوں ذرائع اور رابطوں کے زریعے ایک دوسرے کے ساتھ تعامل اور اثرانداز ہونے اور اثر لینے کی اکائی میں پروئے ہوئے ہیں۔ اس سے انہوں نے ایک اور آفاقی مقولہ تخلیق کیا جو مشترکہ و باہم مربوط ترقی کا تھا۔ انہوں نے تاریخی عمل میں یہ واضح کیا کہ غیرہمواریت کے ساتھ ساتھ مختلف سماجوں (خصوصاً کسی پسماندہ سماج) کی ترقی کا راستہ جداگانہ، ایک دوسرے سے بالکل الگ، مکمل طور پر علٰیحدہ اور صرف اپنے تئیں ترقی کے مدارج اس طریقے سے حاصل کرنا بالکل بھی نہیں ہے جس طرح کسی دوسرے ترقی یافتہ سماج نے ماضی میں مخصوص راستے پر چل کر وہی ترقی حاصل کی تھی۔ اس عمل کی وضاحت کے لئے ٹراٹسکی ایک مثال دیتے ہیں کہ جب کوئی بدھو تیر اور کمان پھینک کر بندوق اٹھاتا ہے تو وہ درمیان کے وہ تمام مدارج ایک لمحے میں پھلانگتا ہے، جسے پھلانگنے میں کسی دوسرے سماج کو صدیاں لگی تھیں۔ اس طرح پسماندگی ایک نعمت بن جاتی ہے، ایسی حالت میں کہ جب اسے ان تمام تکالیف، اذیتوں اور کانٹوں بھرے راستے پر چلے بغیر جدید حاصلات میسر ہو جاتی ہیں۔ اس طرح مارکس اور اینگلز کی فطری طور پر سماج کی ناہمواریت کو کامریڈ ٹراٹسکی ایک نظریے "غیر ہموار اور مشترکہ یا باہم مربوط ترقی” کے ذریعے پوری تکمیل کے ساتھ واضح کرتا ہے۔ وہ واضح کرتا ہے کہ سماج کے ارتقاء کا عمل یکسر کسی ایک ہی سیدھی لکیر میں سفر اور اسی راستے پر قطار میں تکرار کے ساتھ مکینیکل حرکت نہیں بلکہ عالمی پیمانے پر ترقی یافتہ سماج اپنی ناگزیر سماجی، سیاسی، معاشی و پیداواری ضرورت کے تحت کسی دوسرے سماج کے ساتھ ماضی سے چلے آرہے تعامل میں سائنسی، ٹیکنالوجیکل، تہزیبی اور پیداواری صلاحیت کے انتقال اور بحیثیت مجموعی عالمی سماج کی ترقی کے علت کا درجہ حاصل کرتی ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح اسی ترقی یافتہ سماج نے ماضی میں اپنی پسماندگی میں کسی دوسرے ترقیاتی یافتہ سماج کے ساتھ تعامل میں سماجی ترقی میں جست کی صلاحیت پانے کی بنیادیں حاصل کی تھیں۔ پسماندہ سماج جب بالائی سیاسی ڈھانچے میں انقلابی تبدیلی حاصل کرتا ہے اور جب تاریخی سماجی معاشی تعامل کے سبب جدید پیداواری و سائنسی صلاحیت حاصل کرتا ہے تو وہ عالمی سماج کے ارتقاء میں ایک ایڈوانس قدم رکھتا ہے۔

انسانی تاریخ میں کرہ ارض پر ایسا کوئی براعظم یا کوئی ملک، خطہ یا کوئی ایسا سماج بشمول مغرب اور سامراجی شمالی زون کے، وجود نہیں رکھتا کہ جس نے ابتدائی شکار کرنے والے سماج سے ایک سیدھی لکیر میں درمیان کے غلامانہ ، جاگیر دارانہ سماج والے مدارج حاصل کرنے کے پراسس سے گزر کر جدید پیچیدہ معاشی، اقتصادی و پیداواری سرمایہ دارانہ نظام تک ارتقاء کیا ہو۔ غیرہموار اور مشترکہ یا باہم مربوط ترقی کے نظریے کی رو سے سماجی ترقی مقداری طور پر متنوع اور معیاری طور پر مختلف سماجی اکائیوں کا ارتقاء الگ الگ ایک ہی جیسے تاریخی مدارج طے کرنے والا راستہ اور سفر نہیں بلکہ تاریخی سماجی تعامل یعنی مؤثر ہونے اور تاثر لینے جیسے باہمی تعامل کے ساتھ انسانی سماج کا مجموعی طور پر ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کا عمل ہے۔

انقلاب پیہم
اس عمل کے دوران تنوع یا مختلف ہونے کے عوامل تاریخی جغرافیائی ہوں یا اس کی علت طبقاتی اور علاقائی و سامراجی تسلط ہو، نتیجے کے طور پر ہمارے عہد کی نام نہاد تیسری دنیا اور ترقی پزیر ممالک کے سماجوں کی پچھڑی ہوئی حالت، ظلمتوں اور جہالت کی تاریکیوں سے نکلنے ، سامراجی طاقتوں کے شکنجوں اور ان کے مقامی گماشتہ دلال حکمرانوں سے نجات اور ترقی کا راستہ زوال پزیر سرمایہ داری کے پاس نہیں بلکہ سیاسی انقلاب کی صورت میں ذرائع پیداوار اور تیکنیک کو اجتماعی ملکیت میں لاکر سرمایہ داری کے تکرار والے تصور سے چھٹکارہ پاکر کسی بدھو کے تیر کمان کو پھینکنے والی مثال کے مطابق جدید اور ترقی یافتہ ذرائع اور ٹیکنیک کے استعمال میں ہی ممکن ہے، جو ترقی یافتہ سماجوں کے ساتھ تعامل اور انسانی ترقی کے ثمرات سے استفادہ کئے بغیر ممکن نہیں۔ اسی بنیاد پر انقلاب پیہم کے نظریے کے اطلاق کی ناگزیریت مسلم بن جاتی ہے کہ جہاں انقلاب پیہم ایک ملک میں سوشلزم کے باطل خیال کو جھٹلاتا ہے، وہیں عالمی سطح پر سوشلسٹ سماج کی تعمیر کے سائنسی راستے کو یقینی بناتا ہے۔ یعنی کسی ملک میں انقلاب کے بعد اس کی معیشت کو نجی ملکیت سے آزاد کرکے منصوبہ بندی کے سوشلسٹ خطوط پر استوار کیاجاتا ہے اور دوسرے اصول کے تحت اس سوشلسٹ سماج کی تعمیر کو دوسرے سماجوں کے محنت کش مزدوروں، محکوموں اور محنت کش عوام کی حمایت حاصل کرنے اور ان کو طاقت فراہم کرنے جیسی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوتا ہے جو دراصل انقلاب کو عالمی سطح پر پھیلانے اور سماج کے اعلیٰ تر درجے سوشلزم کے حصول کی جدجہد ہوتی ہے۔ جس کا حتمی مقصد جدید ذرائع پیداوار اور تیکنیک کے حصول یعنی باہمی تعامل اور یکساں ترقی کے راستے پر چل کر غیرہموار ترقی کا عالمی سطح پر خاتمہ کرکے مشترکہ یا باہمی تعامل کے نتیجے میں اجتماعی ترقی یافتہ منزل تک پہنچنا ہوتا ہے۔

نیو اکنامک پالیسی
یورو سینٹرک اعتقادات جو یورپ اور مغربی دنیا کے انقلابات کے تصور کی تیسری دنیا پر بھی ویسا ہی اطلاق کرتے ہیں، کے برعکس تیسری دنیا کے ممالک اور یکسر مختلف و پسماندہ سماجوں کو سرمایہ داری کے تخلیق کردہ جدید ذرائع پیداوار، تیکنیک اور سائنس کی سطح تک رسائی کے بغیر جدید طرز کی سوشلسٹ پیداوار کا حصول ناممکن ہے، اسی طرح سرمایہ داری کے تحت جمہوری انقلاب کے فرائض، جن میں بنیادی و سماجی ڈھانچے کی تعمیر، سیکولر ریاست میں خواتین و اقلیتوں کے حقوق کا حصول، جمہوری اقدار کی ترویج اور قومی سوال کے حل جیسے سیاسی اقدامات کے بنا سوشلسٹ سماج کی تعمیر ایک سہانا خواب ہی ہے۔ کسی ترقی یافتہ ملک میں سوشلسٹ انقلاب کے بعد کے عالمی سطح پر انقلابات اور سوشلسٹ تعمیر کا تصور نسبتاً آسان ہے لیکن تیسری دنیا یا روس کی طرز پر ایشیاء اور یورپ کے بیچ والی کیفیت میں رہنے والے ممالک کی سوشلسٹ سطح تک پہنچنے کے لئے سرمایہ داری میں حاصل کئے گئے پیداواری اور سیاسی و سماجی حاصلات کا حصول بنیادی سوال ٹھہرتا ہے۔ روس میں بالشویک انقلاب کے بعد وار کمیونزم کے تحت ترقی کے حصول کے مقاصد کی ناکامی نے لینن اور بالشویک قیادت کو 1922ء میں بخارن کی "نیو اکنامک پالیسی” کو اختیار کرنے پر مجبور کیا، جسے بعد میں ایک ملک میں سوشلسٹ انقلاب کے نظریے کے زیر اثر سٹالن نے 1928ء میں ختم کردیا۔ اپنے پہلے قدم میں نیو اکنامک پالیسی دراصل ریاست کی بنیادی معیشت اور معیشت کے کمانڈنگ ھائیٹس یا مرتفع اداروں کو قومی تحویل اور مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں رکھا جاتا ہے جبکہ معیشت کے ان ذیلی حصوں میں جہاں ریاستی پوٹینشل میں کمی کی وجہ سے ترقی دینے کی صلاحیت کی رسائی ممکن نہیں ہوتی وہاں نجی طور پر پیداوار کے حصول کا راستہ ہموار کیا جاتا ہے جبکہ دوسرے قدم پر معیشت کی بنیادی جدید پیداواری صلاحیتوں میں اضافے اورجدید تیکنیک کے حصول کے لئے ترقی یافتہ ممالک اور ان صلاحیتوں کے مالکان کے ساتھ معاشی تعامل کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔ تیسری دنیا کے ملک میں سوشلسٹ انقلاب یا تو دنیا کے دوسرے ممالک تک انقلاب کے پھیلنے کے عمل سے زندہ رہ پائے گا یا پھر دنیا سے کٹ کر اس کا اپنی سرحدوں کے اندر دم گھٹ کر خاتمہ ہو جائے گا۔ روس کے انقلاب پر لینن اور دیگر قیادت کے دور اندیشی پر مبنی درست تجزیے ہمارے سامنے ہیں۔ سوشلسٹ انقلاب کا دوسرے ممالک اور سماجوں میں پھیلنے اور وسعت کا راستہ بند ہونے کی وجہ معروضی ہو، مختلف ممالک میں انقلابات کی ناکامی ہو یا مسخ شدہ نظریات، انقلاب کو محدود کرنے کی وجہ بنے ہوں وہ انقلابات تصوراتی خاکوں کے کلاسیکل نقشوں کے مطابق آگے نہیں بڑھ سکتے۔ کسی بڑے اور محنت کش طبقے کے لئے تباہ کن اثرات رکھنے والے تباہ کن رد انقلاب کی نسبت مسخ شدہ مزدور ریاستوں میں طبقاتی جدوجہد کے زریعے سیاسی تبدیلی کے انقلابی امکانات کا آپشن ہمیشہ کھلا رہتا ہے جبکہ سوویٹ یونین کی ٹوٹ پھوٹ اور انہدام پر جشن منانے والی چوتھی انٹرنیشنل کی تمام تنظیمیں اب ان ہولناکیوں کا رونا رو رہی ہیں، جو امریکی سامراج کی سربراہی میں نیو لبرلزم کے تحت جنم لے رہی ہیں۔ اسی طرح چین کی ترقی کو سرمایہ داری کے ساتھ جوڑنے والے انقلابی دوسرے ہی لمحے اور سانس میں سرمایہ داری کی فرسودگی نااہلی اور تہزیب کو تباہ کرنے کے تجزیئے اگلتے ہیں۔ اگر ان انقلابیوں کے تجزیوں کے مطابق چین میں سرمایہ داری اسی (80) کروڑ لوگوں کو خط غربت سے باہر نکال سکتی ہے۔ شرحِ ترقی کے ریکارڈ قائم کرکے معجزہ کہلائی جاسکتی ہے۔ صدی سے بھی کم عرصہ قبل جو افیونی قوم کہلاتی تھی اور جن کی خواتین ہندوستان کے بازاروں میں بکتی تھیں۔ یہ انقلابی گمراہ کن تجزیئے دے رہے ہیں کہ چینی سماج سرمایہ دارانہ نظام کی برکات کے ذریعے ایک آزاد اور خودمختار سماج کی تشکیل کی چوٹی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہ انقلابی سرمایہ داری کی تعریف و تحسین اور فیوض و برکات کے گن گا رہے ہیں۔ یہ تیسری دنیا کے انقلابیوں اور محنت کشوں کو منصوبہ بند معیشت کی برکات کی بجائے، انہیں سرمایہ داری کی جانب راغب کرنے میں مگن ہیں۔ اگر منصوبہ بند معیشت بیوروکریٹک کنٹرول میں ترقی کے ایسے مدارج طے کرسکتی ہے تو اسی منصوبہ بند معیشت کی محنت کش طبقے کے جمہوری کنٹرول میں حاصلات اور ثمرات کیا ہوں گی۔ اسی طرح قومی بنیادوں پر اور قابض بیوروکریسی کے مفادات کی حامل خارجہ پالیسی کے تباہ کن اثرات بلوچستان، افریقہ اور تیسری دنیا کے ممالک میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس کی بجائے محنت کشوں اور محکوموں کے باہمی تعاون کی بنیاد پر تشکیل کردہ خارجہ پالیسی کے اثرات کا تصور کیا جاسکتا ہے۔ بیوروکریسی کو ایک طبقہ گردان کر اور چینی معیشت کو ریاستی سرمایہ داری کہنا، دراصل سیاسی اور نظریاتی بانجھ پن ہے۔ کامریڈ ٹیڈ گرانٹ نے کہا تھا کہ بیوروکریسی جتنے بھی بڑے عالیشان گھر میں رہائش رکھے، ٹرانسپورٹ کے لئے آرام دہ ترین گاڑیاں استعمال کرے اور بہت سی مراعات پر قابض ہو، وہ سرمایہ دار حکمران طبقہ نہیں بن سکتی۔ بیوروکریسی کا مفاد ارفع اداروں یعنی کمانڈنگ ھائیٹس کے ریاستی کنٹرول میں ہے۔ ارفع اداروں کی نجی ملکیت اس کی ذات کے خاتمے کا پروانہ ہے۔ سوویٹ یونین کے تجربے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ایک ملک میں سوشلسٹ منزل کے حصول کا نظریہ دراصل نظریاتی بے راہ روی اور گمراہ کن پالیسی ہے اور اب یہی توقع چین جیسے نسبتاً پسماندہ ملک میں چینی بیوروکریسی سے ایک ملک میں سوشلسٹ سماج کی تعمیر کے ھدف کا پورا کرنا مضحکہ خیز اور ایک ملک میں سوشلزم کی نظریاتی ترمیم کا حصہ بننا ہے اور اپنے جوہر میں تاریخی اور زمینی حقائق سے ماوراء یوروسینٹرک تصورات کے زندانوں کے اسیر ذہنوں کے طفلانہ پن کی غمازی ہے۔

افغان انقلاب، ترقی کاغیرسرمایہ دارانہ راستہ
افغانستان سمیت ایشیاء، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں قومی، سماجی و معاشی آزادیوں کی تحریکیں اور انقلابات اس تاریخی حقیقت اور منطقی ناگزیریت کا بہت واضح اظہار اور ثبوت ہیں کہ تیسری اور مستعمرہ دنیا کی ترقی فرسودہ سرمایہ داری میں ناممکن ہے مگر چوتھی انٹرنیشنل کی ٹراٹسکی اسٹ تنظیموں کے غالب حصے نے شروع میں ان انقلابات کو ان کی قیادت کی سوویٹ یونین کے قربت کی وجہ سے اسے سٹالنزم کا پھیلاؤ قرار دے کر یا تو مکمل طور پر رد کردیا یا ان ممالک اور خطوں میں مزدوروں اور محنت کشوں کی عدم موجودگی کو صرف نظر کرکے ان انقلابات کی کلاسیکل مزدور ہیئت نہ ہونے کی بناء پر ان فوجی مداخلتوں کو آمریتوں سے تعبیر کرتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا اور کرتے رہے۔ چوتھی انٹرنیشنل کے ٹراٹسکائیٹس یورو سینٹرک خیالات اور تصورات کے زعم میں مشرقی یورپ اور تیسری دنیا خصوصاً ایشیائی اور افریقی ممالک میں ان بنیادی اور اساسی تبدیلیوں کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ آج بھی افریقہ میں فرانسیسی سامراجیت کے خلاف فوجی مداخلتوں کو جمہوریت کے ساتھ مشروط کرنے کے پردے میں ان مداخلتوں پر کڑی تنقید کی جارہی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا بھر میں برپا ہونے والے انقلابات کو عالمی سطح پر سرمایہ داری کی نسل انسان کو ترقی دینے کی اہلیت کے خاتمے کی غمازی گرداننے کی بجائے چوتھی انٹرنیشنل کے ٹراٹسکائیٹس اسے بدترین آمریتیں اور رجعتی ریاستیں قرار دےکر اسے سٹالنزم کا پھیلاؤ قرار دیتے رہے۔ وہ کمیونسٹ پارٹیوں اور حکومتوں کو سٹالنزم کی پیروکار گردان کر اس کی مخالفت میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹیوں میں مداخلت کی پالیسی پر عمل پیرا تھے۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ یہ عالمی پیمانے پر انقلابات کے برپا ہونے اور سرمایہ داری کی ناکامی اور سکڑنے کا ایک مسلسل عمل ہے۔ یوگوسلاویہ کی کمیونسٹ پارٹی کی 1948ء میں سٹالنسٹ روس سے علیٰحدگی نے چوتھی انٹرنیشنل کے پورے تناظر اور زاویہء فکر کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔ اس کے بعد کی کانگریس سے انہوں نے ان انقلابات کو مسخ شدہ مزدور ریاستیں یا لوئی بوناپارٹ کی طرز پر بادشاہت کے قیام کی کوششوں کو، ان انقلابات کے ساتھ جوڑ کر پرولتاری بوناپارٹسٹ انقلابات کہنا کرنا شروع کردیا۔ ٹراٹسکائیٹس تیسری دنیا کے مخصوص حالات، پسماندہ سماجی ساخت اور قدیم پیداواری رشتوں کی کیفیت کو نظر انداز کرتے رہے حتیٰ کہ ٹراٹسکی کے غیرہموار اور مشترکہ یا باہم تعامل کے نظریئے کو بھلا بیٹھے ہیں اور پسماندگی کی پاتال میں خالص مزدور تحریک کا مطالبہ اور اصلی سوشلسٹ انقلاب کے یوروسیٹرک تصور کی مالا جپتے رہتے ہیں۔ ٹراٹسکائیٹس کے خالص انقلاب کا یہی تصور اور یہی رویہ بلا استثنیٰ افغان ثور انقلاب کی جانب بھی رہا۔ مجموعی طور پر یوروسینٹرک ٹراٹسکائیٹس ثور انقلاب کی درج بالا کیفیت کو نظر انداز کرکے اسے ایک فوجی کودتا کے طور پر پیش کرتے رہے۔ وہ انقلاب کی تفصیلات سے اتنے بے خبر تھے کہ انہوں نے ایک عمومی گھڑے گئے بیانیے کے تحت 1978ء کے ثور انقلاب کو سوویٹ روس کی افسر شاہی کی سازشوں اور کوششوں سے محض اقتدار کی تبدیلی کہہ ڈالا، حالانکہ سوویت یونین افغانستان میں ہونے والی تبدیلی سے اتنا بے خبر تھا کہ انہیں نئی انقلابی حکومت کو کئی رپورٹوں اور حالات کی جانچ کے بعد اور انقلاب کے چار دن بعد تسلیم کرنا پڑا جبکہ انقلابی حکومت کے پیش رو داؤد کی کودتا کو سوویت یونین نے اسی دن ہی تسلیم کرلیا تھا کیونکہ ظاہر شاہ کا تخت گرانے میں سوویت روس داؤد خان کے ساتھ تھا۔ پسماندہ سماجوں میں ظلم و استحصال پر مبنی عوام دشمن شہنشاہیتیں و آمریتیں جو سامراجی استحصال کے پنجوں میں بھی جکڑی ہوں، سے حقارت و نفرت کے نتیجے میں اس سے نجات کے انقلابی راستے پر مزدوروں کی عدم موجودگی میں فوجی افسر اور جوان بھی چل سکتے ہیں۔ یہ افسر اور جوان جنہوں نے نہ صرف داؤد خان کی ظالم حکومت اور نادر غدار کی خاندانی شہنشاہیت کا خاتمہ کردیا تھا بلکہ جیل میں قید پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت کو نکال کر حکومت اور اختیارات انقلابی کونسل کو منتقل کر دیئے تھے، جو اس بات کا اظہار ہے کہ فوجی جوان اور آفیسرز انقلابی پارٹی کے نظریاتی کیڈرز تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ابھرنے والی مزدوروں، محنت کشوں اور خاص کر قومی آزادی کی دیوہیکل تحریکوں نے جہاں سامراج اور سرمایہ داری کی مقبوضہ خطوں میں گرفت کمزور کردی تھی، وہاں ان تحریکوں کو عالمی پیمانے پر دیکھنے اور ان کا گہرائی سے تجزیہ کرنے کی اشد ضرورت تھی۔ یہ تحریکیں مجموعی طور پر ایک عالمی انقلاب کا آغاز تھیں لیکن ایک طرف سٹالنزم ایک ملک میں سوشلزم کے غیر سائنسی نظریئے کے ساتھ چمٹا رہا تو دوسری جانب ٹراٹسکائیٹس ان انقلابات کو رجعتی آمریتیں ثابت کرنے کی کوششیں کرتے رہے جبکہ کمزور اور نحیف تنظیمی اور افرادی حیثیت کے ساتھ مزدوروں کی بڑی بڑی تحریکوں میں کوئی قابل ذکر کردار ادا کرنے کے قابل نہیں تھے۔ سٹالنسٹ روس نے ٹراٹسکی اور اس کے مشترکہ یا باہم تعامل کی ترقی کے نظریئے کا نام لئے بغیر ” ترقی کا غیر سرمایہ دارانہ راستہ” کے نام سے ایک پالیسی دی جس کے تحت باہمی تعاون اور اشتراک سے پسماندہ انقلابی ممالک کی ترقی کا سوشلسٹ طریقہ وضع کیا گیا تھا لیکن یہ پالیسی مزدوروں و محنت کشوں کی حکمرانی اور اقتدار یعنی سوویت یونین میں انقلابی جمہوریتوں کی شرکت کے ساتھ وسعت کی بجائے الگ الگ ممالک میں سوشلزم کی تعمیر کی غیر سائنسی، مکینکل اور تفرقے کی سوچ کی بھینٹ چڑھ گئی۔ سوویٹ یونین اور انقلابی ریاستوں کے سقوط، ناکامی اور ٹوٹ پھوٹ کو مزدور تحریک میں آگے کی جانب ایک اہم قدم قرار دینے والے آج کف افسوس ملتے ہوئے ان انقلابات کی عظمت و مرتبت کے قصیدہ خواں بنے ہوئے ہیں۔ وہ ٹراٹسکسیٹس جو مزدوروں و محنت کشوں کی کسی سیاسی روایت کی موجودگی سے مکمل انکاری ہیں اور ان سیاسی روایتوں کو تاریخ کا کوڑے دان سمجھتے ہیں اور نتیجتاً محنت کشوں، مزدوروں کو اپنی خودساختہ تنظیمی ڈھانچوں میں ٹھونسنا چاہتے ہیں، وہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کا احیاء بھی چاہتے ہیں اور پارٹی کی سٹالنسٹ قیادت کے گن گاتے ہوئے خود کو ان کے وفادار ساتھی ثابت کرنے کی متضاد اور بے ثمر کوششوں میں مصروف ہیں۔

کامریڈ ٹراٹسکی کے غیر ہموار اور مشترکہ ترقی کے سماجی علوم کے کڑے اصولوں پر پورا اترنے والے سائنسی نظریئے کے مقابلے یا ارتقائی صورت میں پسماندہ سماجوں کی ترقی کا آج تک کوئی متبادل نظریہ کوئی تصور تخلیق نہیں کیا جاسکا۔ تیسری دنیا کے پسماندہ ممالک میں انقلابی پارٹیوں کا اقتدار پر قبضہ اور سرمایہ داری کو اکھاڑ پھینکنے کی ناگزیریت پر مبنی کوششوں نے یہ امر پایہء ثبوت کو پہنچا دیا ہے کہ سرمایہ داری میں رہتے ہوئے پسماندگی کا خاتمہ ناممکن ہے بلکہ اس پر استہزاء یہ ہے کہ سامراجیت کی اس اعلیٰ ننگی جارحیت اور ظلم کے نیو لبرلزم کے مرحلے پر پسماندگی کو خاک و خون میں لتھیڑا جارہا ہے، اسے مزید تاریکیوں اور ظلمتوں کی غاروں میں دھکیلا جارہا ہے۔ ان پسماندہ سماجوں میں بربریت کی بدترین شکلیں تخلیق کی جارہی ہیں۔ مظلوموں، محکوموں اور افتادگان خاک کے لئے اس درندگی اور وحشت سے نجات کا واحد راستہ انقلاب ہی رہ گیا ہے۔

مارکس نے اجتماعی طور پر انسانی تہذیب کے دو مرحلوں کی وضاحت کی تھی۔ ابتدائی تہزیب کے لئے زرخیز میدان، دریا اور موسمی ضروریات بنیاد تھیں جبکہ جدید صنعتی تہذیب کے لئے زیر زمین ذخائر کی موجودگی اساس ٹھہری ۔ ظالم نظام زر اور آزاد منڈی میں جن خطوں، ممالک، سماجوں اور اقوام کے پاس جدید تہذیب کے اثاثوں کی جتنی فراوانی ہے وہ اتنے ہی برباد ہیں۔ استحصال، لوٹ اور بربریت کے شکار ہیں وہ بھوک کو مٹانے کی خاطر اپنی ہی زمین پر اپنی ہی ملکیت کے ذخائر پر استحصالی طاقتوں اور سامراجی قوتوں کے قبضے کے محافظ ہیں۔ ان ذخائر کو نکالنے، انہیں ڈھونڈنے اور منڈی میں فروخت کے قابل بنانے اور مالکان کے منافعوں میں زندگی جھونکنے پر مجبور ہیں۔ نظام زر میں صنعتی خام مال کے ذخائر کی کسی علاقے میں موجودگی وہ بڑی وجہ ہے کہ جو زرداروں کو اپنے منافعوں کی ہوس مٹانے کے لئے اس کے باسیوں کو کچلنے پر راغب کرتی ہے۔ سیرا لیون میں ہیروں کی موجودگی نے ہر تیسرے بندے کو جنگی اپاہج بنا ڈالا ہے۔ ذخائر سے مالامال افریقہ فرانس اور مغربی سامراجی ممالک کے لئے توانائی کے حصول کا ذریعہ جبکہ افریقیوں کے لئے جہنم بنا ہوا ہے۔ یوکرین مغربی یورپ اور امریکی سرمایہ داروں کے بیچ بزکشی کے جانور کا نظارہ پیش کررہا ہے کہ کس طرح یوکرین کی زمینیں اور ذخائر زیلینسکی جیسے ٹٹو کے ذریعے جنگ کی آڑ میں سامراجی زون کے زردار اور کمپنیاں ہتھیا رہی ہیں۔ افغانستان بھی نصف صدی سے اپنے جدید صنعتی، تہذیبی ذخائر کے حسن کے سبب عالمی سطح کے ڈاکووں کے سامنے اس کی قیمت ادا کررہا ہے۔ پیٹی بورژوا قوم پرستوں کا زیر زمین معدنی ذخائر اور دیگر وسائل کی موجودگی کو سرمایہ داری میں ہی بہتر مستقبل کی نوید گرداننا بہت بڑا فریب اور دھوکہ: سرمایہ داری میں مظلوم و محکوم قومیتوں کے حکمران طبقات ریاستی حکمرانوں سے رائیلٹی اور مراعات کے ساز باز کے ذریعے ان ذخائر کی سودا بازی کرتے ہیں یا اجارہ دار کمپنیوں کے خفیہ ایجنٹ بن کر ان کے لئے سیاسی مطالبات کے نعروں کے پیچھے اپنا یہی مکروہ دھندہ چلاتے ہیں۔

افغانستان کی داخلی ریاستی خودمختاری نصف صدی سے امریکی سامراج کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ ثورانقلاب کے خلاف خفیہ آپریشنز سے لے کر جہادی تنظیموں کی تشکیل اور اس جنگ کے لئے افرادی قوت کی فراہمی جاری رکھنے کے لئے مدرسوں کی تعمیر اور جہاد کی ترویج و ذہن سازی کی خاطر یونیورسٹی آف نبراسکا میں کتابوں اور نصاب کی مذہبی بنیادوں پر ترتیب و تدوین کا اہتمام کیا گیا۔ جہاد اور خفیہ سامراجی آپریشن پر اٹھنے والے اخراجات کو خودکار طریقے سے پورا کرنے اور مزید منافعے کے لئے ہیروئن کی تخریبی تخلیق کا کارنامہ بھی امریکی سامراج کے سر جاتا ہے۔ ثورانقلاب کو رد انقلاب اور وحشت میں بدلنے کے بعد سے ہر افغان حکومت سامراجی آشیرباد سے بنتی اور ٹوٹتی رہی۔ شکل کوئی بھی تھی لیکن اقتدار پر جنگ سالار یا وار لارڈز ہی براجمان رہے۔ ربانی و گل بدین کی بالواسطہ سامراجی گماشتہ حکومت سے لے کر کرزئی اور اشرف غنی تک کی براہ راست سامراجی تسلط کی حکومتیں ڈالر جہادیوں کی حکومتیں رہیں۔ طالبان کی موجودہ تھیوکریٹک ریاستی حالت اور براہ راست امریکی تسلط کے بیچ معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے جو ریاستیں اور اجارہ داریاں امریکی آشیرباد سے مختلف ٹھیکے لیتی تھیں، وہی لوٹ ایک دوسری صورت میں جاری ہے۔ ایک بنیادی فرق افیون کی کاشت اور ہیروئین کی پیداوار کا ہے، جس کی تجارت میں سی آئی اے اور امریکی آفیسرز و ڈپلومیٹس و افغان کٹھ پتلی حکمران پوری طرح ملوث تھے۔ افیون کی کاشت اور ہیروئین کی پیداوار پر طالبان حکومت نے پابندی لگائی ہے جس سے افغانستان میں ہیروئین کی پیداوار ختم کردی گئی ہے اور افیون کی کاشت پچانوے فیصد تک گرا دی گئی ہے۔ ٹیکنالوجیکل صلاحیتیں نہ ہونے کی بنیاد پر طالبان کی حکومت بھی انہیں ریاستوں اور اجارہ داریوں کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتی نظر آتی ہیں جو امریکی چھایا میں وسیع پیمانے پر لوٹ کھسوٹ میں ملوث تھیں ملکی معیشت اور حکومتی کنٹرول تجارت کے اعتبار سے اس وقت افغانستان کی سب سے بڑی برآمد جڑی بوٹی ہیں۔ ریاست اور سماجی اداروں کے سقوط اور ٹوٹ پھوٹ سے اس وقت افغانستان کی نوے فیصد سے زیادہ آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ انہتر فیصد عوام کو قحط جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔ ساٹھ لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، جبکہ امریکہ نے افغانستان کے سات ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کر رکھے ہیں۔ یہ پابندی اگرچہ طالبان حکومت کے خواتین کے ساتھ منفی سلوک کے پردے میں، خطے کو عدم استحکام سے دو چار کئے رکھنے کیلئے ہے لیکن اس کے منفی اور تباہ کن اثرات عام عوام خواتین اور بچوں پر پڑ رہے ہیں۔ صحت کی سہولیات ناپید ہیں۔ بھوک و افلاس عام ہے۔ ملک کی آدھی آبادی یعنی خواتین کو گھرپر بٹھا دیا گیا ہے۔ ان کے لئے تعلیم، روزگار اور تفریح کے سارے راستے بند کردئیے گئے ہیں۔ ملکی معیشت بیس ارب ڈالر سے نو ارب ڈالر تک سکڑ گئی ہے۔ ایشیاء کی سب سے بڑی نہر کے ایک پراجیکٹ قوش تیپہ پر کام جاری ہے۔ جو آمو دریا سے نکال کر مرکزی افغانستان کے صوبے جوزجان تک کھینچی جائے گی۔ سامراجیوں اور ان کی گماشتہ ریاستوں کے ہاتھوں افغانستان کے برباد عوام کی بہتری اور مسائل کے حل کا طالبان حکومت کے پاس کوئی پروگرام نہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ عدم استحکام، بے یقینی اور خوف کے سائے گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی سامراج داعش اور قومی مزاحمتی محاذ کے ذریعے طالبان حکومت پر حملوں کے ذریعے افغانستان کو ایک نئی خونریزی میں دھکیل رہا ہے۔ تاجکستان طالبان مخالف قوتوں کو یکجا کرکے طالبان حکومت میں سرائیت اور مخالفت کے ذریعے اسے گرانے کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ ڈیورنڈ لائن کے پار پاکستان میں بھی ریاستی ٹوٹ پھوٹ اور باہمی تناؤ اپنی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ سامراج وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ پر کنٹرول قائم رکھنے کے لئے خطے کو پراکسی قوتوں کے ذریعے عدم استحکام کا شکار رکھنا چاہتا ہے۔ مشرقی اور مغربی سامراجی بلاکس کی تزویراتی اور معاشی جنگ کے میدانوں میں ایک میدان یہ خطہ بھی ہے۔ جہاں بڑی تیزی کے ساتھ ایک نئی خونی گریٹ گیم کی بساط بچھائی جارہی ہے۔ ایران ، پاکستان ، بھارت اور حتیٰ کہ افغانستان میں خواتین ، مظلوموں، محنت کشوں اور مظلوم اقوام کی بنیادی حقوق کے حصول کی شاندار تحریکیں بھی ابھر رہی ہیں۔ کشمیر میں بنیادی ضروریات زندگی کے حصول کی کامیاب سرخ رو تحریک نے محنت کش عوام میں ایک نئی روح پھونکی ہے۔ عوام کو نیا حوصلہ اور ایک نئی توانائی ملی ہے۔ بڑے شہروں سے دور قومی احساس محرومی کی شکار قومیتوں میں شاندار ریڈیکل اور ترقی پسند انقلابی تحریکوں کا ابھار ایک معمول بن گیا ہے۔ بڑے اور صنعتی مزدور شہروں میں نجکاری کی پالیسی کے خلاف محنت کش طبقہ مزاحمتی تحریک کے لئے کروٹ بدل رہا ہے۔ مہنگائی، افراطِ زر، مفلسی اور فاقوں نے اس کی زندگی اذیت بھرا جہنم بنادیا ہے۔ محنت کشوں کی تنظیمی یکجہتی اور طاقت کو ٹھیکہ داری نظام کے ذریعے منتشر کردیا گیا ہے۔ ٹریڈ یونین قیادت حقیقی لڑائی لڑنے سے کترا رہی ہے۔ جس سے محنت کش مزدوروں کا غم و غصہ پھٹنے کے قریب ہے۔ عوام میں حکمرانوں اور حکمران ریاست کے خلاف ان دیکھی سطح کی نفرت پائی جاتی ہے۔ سوال حکمرانوں ان کے نظام زر اور حکمران ریاست جو ان کی رکھوالی کرتی ہے، اس کے خلاف تمام تر مظلوموں محکوموں، محروموں اور محنت کشوں کو ایک وحدت میں اکٹھے کرنے کا ہے۔ یہ فرض ان تحریکوں سے اپیلوں کے زریعے پورا ہونے والا نہیں بلکہ یہ فریضہ انقلابیوں کا ہے جو ہر محروم و محکوم طبقے اور قومیت کی تحریک میں رہ کر ان کو ایک لڑی میں منظم کریں۔ انہیں صبر کے ساتھ وضاحت دیں۔ ان کے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلیں۔ انکی رہبری کی طفلانہ سوچ جھٹک دیں۔ انہیں جدوجہد کے سفر میں منزل کا نشان بتاتے جائیں۔ انسانیت کی مشترکہ ترقی یا باہمی تعامل کے ذریعے ترقی کا راستہ اور منزل جو تاریخی مرحلوں کو پھلانگتے ہوئے پسماندگی کو ایک مراعت ثابت کردیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے