عوام دشمن بجٹ کا جبر

تحریر: عمر شاہد

پاکستان میں حالیہ انتخابات کے بعد ’جمہوری‘ طریقے سے منتخب شدہ حکومت کی جانب سے پہلا وفاقی بجٹ پیش کیا گیا۔ عمومی طور پر بجٹ کے دنوں میں کاروباری حلقوں سے لے کر عام آدمی تک معیشت پر گفت و شنید زیادہ کی جاتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نقطہء نظر کے مطابق کسی ملک کا بجٹ آئندہ مالی عرصہ کے لئے اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور اس میں آنے والے وقت کی منصوبہ بندی اور معاشی پالیسی کا تعین کیا جاتا ہے۔ تاہم پاکستان میں ایک لمبے عرصے سے بجٹ اپنی حقیقی افادیت کھو چکا ہے، چونکہ یہاں مسلسل بے یقینی اور تنزلی کی کیفیت میں پالیسی سازوں اور بجٹ پیش کرنے والوں کو بھی اپنے اہداف پر یقین نہیں ہوتا۔ بے ہنگم اور بے لگام معیشت میں لانگ ٹرم منصوبہ بندی پہلے ہی ناپید ہو چکی ہے۔ ریاست پاکستان کی زیادہ تر معیشت غیر دستاویزی یا کالے دھن پر مبنی ہے اس کے حقیقی حجم کا اندازہ لگانا مشکل ہے تاہم دستیاب ڈیٹا کی روشنی میں قوت خرید کی بنیاد پر پاکستانی معیشت 1.5ٹریلین ڈالرز کے مساوی ہے جبکہ اس بڑی معیشت کا ایک چھوٹا سا حصہ ہی پالیسی سازوں کی دسترس میں ہے۔ تمام تر حکومتی دستاویزات، اشاریے، سروے اور حتیٰ کہ بجٹ سازی بھی معیشت کے اس چھوٹے سے حصے کا تعین کر سکتی ہے۔ اس فارمل معیشت کا بجٹ میں اندازہ 374 بلین ڈالر لگایا گیا ہے جس کا گروتھ ریٹ پچھلے سال 2.38فیصد بتایا گیا لیکن اس دوران آبادی کی شر ح میں اضافہ 2.55فیصد رہا۔ اس کے آسان الفاظ میں معنی یوں لئے جا سکتے ہیں کہ آبادی کی شرح میں اضافے، افراط زر، روپے کی قدر میں گراوٹ جیسے عوامل کو مد نظر رکھا جائے تو پچھلے عشرے سے حقیقی معنوں میں معیشت گراوٹ کا شکار ہے اور اس تنزلی کے عمل میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پچھلے دو سالوں سے معیشت سرکاری طور پر جمود یا stagflation کا شکار ہے، یہ معیشت کی اس حالت کو کہا جاتا ہے جس میں افراطِ زر میں اضافے کی شرح معاشی ترقی سے زیادہ ہو۔اس عرصے میں افراطِ زر کی شرح 29 فیصد تک رہی جبکہ جی ڈی پی گروتھ 3 فیصد سے بھی کم رہی اور اس بجٹ کے اہداف سے اندازہ ہوتا ہے کہ معشیت کی جمودی کیفیت اگلے سالوں تک جاری رہے گی۔ موجودہ بجٹ میں افراطِ زر کا ٹارگٹ 12فیصد جبکہ معاشی ترقی کا ٹارگٹ 3.6فیصد لیا گیا ہے۔ اس کیفیت میں غربت اور بیروزگاری میں بڑھوتری اور معاشی ترقی سست روی کا شکار رہے گی۔ ملک کے سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا کے مطابق ٹیکسز میں بے تحاشا اضافے کے باعث اگلے سال اوسط افراطِ زر کی شرح 19 یا 20فیصد رہنے کی توقع ہے۔

بجٹ کے پیش ہونے سے قبل ہی وزیر اعظم شہباز شریف اور حکومتی معاشی ٹیم کی جانب سے برملا اعلان کیا گیا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے اگلے پروگرام میں جائے گا۔اس سال پچھلے قرضوں کا سود ادا کرنے کے لئے نئے قرضے لئے جائیں گے۔ سرمایہ دارانہ ریاستوں کی جانب سے قرضے لے کے ان سے ترقیاتی کام یا میگا پراجیکٹس لگائے جاتے ہیں جن سے یہ وقتی گروتھ اور معاشی سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ن لیگ بھی اسی معاشی ماڈل پر کام کرتی رہی لیکن اب حالات یہ ہو چکے ہیں کہ کرنٹ اخراجات کو پورا کرنے کے لئے قرضے لئے جا رہے ہیں۔ ن لیگ ہمیشہ ہی اسحاق ڈار کو ایک ٹرمپ کارڈ کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ اسحاق ڈار صرف اعداد و شمار میں ہیرہ پھیری اور پاکستانی روپے کو ’مستحکم‘ کرنے میں مشہور رہا ہے۔ پی ڈی ایم اقتدار میں اس کی ہوشیاریاں جو کہ ثقل کے قانون کے برخلاف پاکستانی روپے کی مستحکم کرنے کی ناکام کوشش میں روپے کی ویلیو میں تیزی سے اپنی حقیقی ویلیو کے قریب آگئی۔ ابھی بھی پاکستانی روپیہ اپنی حقیقی ویلیو سے زائد قیمت پر ہے، جسے پھر امپورٹ کنٹرول اور معیشت پر سخت کنٹرول کے ذریعے قابو کیا گیا۔ لیکن آئی ایم ایف کے احکامات کہ روپے کو آزاد منڈی کے سہارے چھوڑا جائے، اس میں مزید گراوٹ لانے کا باعث بنیں گے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب ملک کے وزیر خزانہ کے لئے پھر ایک سابق بینکر کو تعینات  کیا گیا، جس کا واحد مقصد سامراجی آقاؤں کے معاشی نسخوں پر عمل درآمد یقینی بنانا ہے تاہم وہ اس میں کس قدر کامیاب ہو سکے گا اس کا تعین پھر حالات کریں گے۔ پاکستان میں امپورٹ اور بڑی تعداد میں سرمائے کی بیرون ملک منتقلی کی وجہ سے ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان کے بیرونی حقیقی ذرائع ایکسپورٹ، ٹیکنیکل خدمات یا دیگر شعبوں میں اتنی سکت نہیں کہ یہ بڑے پیمانے پر زرمبادلہ کما سکیں جس کی وجہ سے بیرون ملک محنت کشوں کی ترسیلات زر، امداد اور قرضے ہی بیرون ملک سے ڈالر ملک میں آنے کے بنیادی ذرائع ہیں۔ یہ غیر حقیقی اور غیر پیداواری شعبے ہیں جن پر لانگ ٹرم میں انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری اہم وجہ یہاں حکومت کی جانب سے بے تحاشا اندرونی قرضوں کا حصول ہے، حکومت کی جانب سے نوٹ چھاپنے اور بے تحاشا قرضوں کے حصول کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی واقع ہو رہی ہے۔اس مالی سال روپے کی قدر میں مزید کمی واقع ہو گی جس کا اثر پھر یہاں اشیاء ضروریات کی قیمتوں پر پڑے گا۔

پاکستانی ریاست اپنی نامیاتی کمزوری اور خصلت کی وجہ سے صحت مند سرمایہ دارانہ معاشرہ تشکیل دینے میں ناکام رہی ہے۔ خطے میں آمدن اور منافعوں پر سب سے کم ٹیکس کولیکشن پاکستان میں ہوتی ہے، سرمایہ دار الٹا ریاستی مراعات پر پل رہے ہیں۔حکومت کی جانب سے روپیہ چھاپنے کے عمل کے دوران دیکھا گیا کہ money supply کی شرح یہاں کی جی ڈی پی گروتھ سے زیادہ رہی، معاشی زبان میں منی سپلائی کی گروتھ جب جی ڈی پی گروتھ سے زیادہ ہورہی ہو تو یہ گروتھ حقیقی نہیں بلکہ قرضوں پر ہوتی ہے اس سے روپے کی قدر پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور معشیت افراطِ زر کے ایک گھن چکر میں پھنستی چلی جاتی ہے۔ اس منی سپلائی کو کنٹرول کرنے کے لئے کلاسیکل طریقے سے شرح سود میں اضافہ کیا جاتا ہے یعنی (quantitative easing) کی پالیسی پر عمل کیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے بحران کا علاج ایک نئے بحران سے کیا جا رہا ہے۔اس بحران پر قابو پانے کےلئے یہاں کی بنیاد یعنی ایمپورٹس اور کنزمشن پر روک لگائی گئی جس کاسیدھا مطلب معاشی سرکل کا گلا گھونٹنا ہے، یہی وجہ تھی کہ معاشی گروتھ کا ڈھانچہ جو کہ سارا ہی اشیاء و خدمات کی کھپت پر کھڑا ہے وہ شدید متاثر ہوا اور اس کا نتیجہ یہاں ایک سنگین معاشی بحران کی شکل میں نکلا۔

تاہم کسی بھی سماج یا ملک کی معیشت بھی یک رخی نہیں بلکہ یہ دو مختلف معیشتیں ہوتی ہیں، اس میں میکرو اکنامک کی ٹرم عام طور پر ملکی معیشت کے لئے استعمال کی جاتی ہے جو کہ دراصل حکمرانوں کی معیشت پر مبنی ہوتی ہے۔ مارکسسٹوں کے نزدیک اہم سوال ان اعدادوشمار کے گورکھ دھندے سے پرے حقیقی بنیادوں پر معیشت کے سماج پر پڑنے والے اثرات اور عام آدمی کی معیشت (جسے مائیکرو معیشت کہا جا تا ہے) کا احاطہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ موجودہ بجٹ احسن طریقے سے آئی ایم ایف سمیت دیگر مالیاتی اداروں کے اپنے قرضوں کی وصولی کا دردناک بجٹ ہے جو کہ درحقیقت محنت کشوں کے سماجی و معاشی قتل عام کے مترادف ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون میں چھپنے والے ایک پبلک سروے کے نتائج کے مطابق ملک کی 94فیصدآبادی جی ڈی پی گروتھ ریٹ، کرنٹ اکاؤنٹ جیسی معاشی ٹرمز سے نا آشنا ہے، 98فیصد کے نزدیک فی کس آمدن جیسی لغت کوئی خلائی لغت ہے۔ عوام اب ان بجٹ کے گورکھ دھندوں کی اصلیت سے آشنا ہو رہی ہے۔ دوسری جانب ملک کے سرمایہ دارطبقات یہاں کے طفیلی طبقے بن چکے ہیں جو کہ اپنی صنعت کی استعداد کار میں کمی کی وجہ سے ریاستی مراعات پر منافع خوری میں مگن ہیں۔ہر سال اربوں روپے انہیں مختلف مراعات میں دیئے جاتے ہیں اور ان تمام تر مراعات کے باوجود ان کی مصنوعات بیرون ملک مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ ہر سال ایکسپورٹ بڑھنے کی بجائے کم ہوتی جا رہی ہے اوراب ملکی بنیادی ضروریات کی اشیاء جیسے آٹا، دال، کوکنگ آئل تک بھی بیرون ملک سے امپورٹ کرنا پڑ رہی ہیں۔

حکومتی آمدن میں بڑا حصہ ٹیکسز کا شمار کیا جاتا ہے تاہم یہاں ٹیکسزکا زیادہ تر بوجھ مختلف شکلوں میں پھر عام آدمی برداشت کر رہا ہے۔ موجودہ وفاقی بجٹ میں ٹیکسز آمدن میں 37فیصد اضافہ اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی 10.4فیصد کا ہدف لیا گیا ہے۔جو کہ ملکی معاشی و سماجی صورتحال کے باعث غیر حقیقی ٹارگٹ ہے جو کہ مشکل سے ہی مکمل ہو سکتا ہے۔ ملک میں لمبے عرصے سے ٹیکسز کی آمدن میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ جی ڈی کے تناسب سے کمی واقع ہوئی ہے مثال کے طور پر 1974ء میں پاکستان ٹیکسز اور جی ڈی پی کا تناسب 10.3فیصد تھا جو کہ اب 8.7فیصد رہ گیا ہے،2018ء میں یہ بلند ترین شرح 14.1فیصد پر گیا۔ اس سارے عرصے میں جی ڈی پی میں اضافہ ہوا مگر اس تناسب سے ٹیکسز میں اضافہ نہیں ہوا۔2018-19ء سے پچھلے مالی سال تک ٹیکس آمدن میں 14.20فیصد اضافہ ہوا لیکن حقیقی معنوں میں افراطِ زر کے بعد ٹیکس آمدن میں سالانہ 1.15فیصد کی شرح سے کمی واقع ہوئی۔ اس بات کو مدنظر رکھا جائے تو سالانہ کل جمع کئے جانے والے ٹیکسز میں 60 فیصد ان ڈائریکٹ ٹیکسز ہیں جو کہ عام آدمی کو ہر شے کی خریداری پر ادا کرنا پڑتے ہیں۔ اب موجودہ وفاقی بجٹ میں بھی کل ٹیکسز کی آمدن 9.4ٹریلین روپوں میں سے 5.16ٹریلین یعنی 54فیصد ان ڈائریکٹ ٹیکسز کا ٹارگٹ لیا گیا ہے۔ جس میں مختلف اشیا ء پر سیلز ٹیکس اور جی ایس ٹی کی شرح کا نفاذ یا اضافہ شامل ہے، اس سے موجودہ مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ناگزیر ہے۔ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو دی جانے والی بریفنگ کے دوران چیئرمین ایف بی آر نے خود بتایا کہ تنخواہ دار طبقہ 375ارب، درآمدکنندگان 90 سے 100ارب جبکہ ریٹیلرز صرف 5ارب ٹیکس دے رہے ہیں۔ اگرچہ تنخواہ دار طبقے کے لئے انکم ٹیکس کی شرح میں اضافہ نہیں کیا گیا بلکہ ٹیکس سلیب میں تبدیلی کی گئی ہے جس کی وجہ سے تھوڑی آمدن والوں پر بھی ٹیکسز کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم پچھلے 5سالوں میں افراطِ زر، روپے کی گراوٹ اور دیگر عوامل کی وجہ سے تنخواہ دار افراد کی حقیقی آمدنیوں میں 45فیصد کمی واقع ہوئی ہے یعنی موجودہ آمدنیوں میں 45فیصد اضافہ صرف موجودہ حقیقی آمدنیوں کو برقرار رکھنے کے لئے چاہیے۔ لیکن ٹیکسز میں اضافے سے حقیقی آمدنیوں میں مزید کمی واقع ہوگی۔حکومتی اعدادوشمار کے مطابق کل 8کروڑ کی لیبر فورس میں محض 2ملین ورک فورس ہی فارمل اورریگولر تنخواہ دار میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ وہ ورک فورس ہے جو کہ مستقل یا کنٹریکٹ پر کسی آجر کے پاس کام کر رہی ہے اور ان کی باقاعدہ تنخواہیں بنک اکاؤنٹس میں ٹرانسفر ہوتی ہیں۔حکومت کے لئے ٹیکس وصولی کا یہ آسان شکار ہیں، جن سے یہ باآسانی ٹیکس وصول کر سکتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف ایک بڑی تعداد سے ٹیکس جمع کرنے سے قاصر ہے۔

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں آمدنیوں کے مابین وسیع خلیج موجود ہے۔ ایک جانب لامتناہی دولت موجود ہے تو دوسری طرف غربت کے وسیع سمندر۔ عالمی آمدنیوں میں عدم توازن کے انڈکس 2023ء کے مطابق پاکستان میں ٹاپ 1فیصدکی ایک دن کی آمدن 67.34 ڈالرز ہے جو کہ کل قومی آمدن کے 15.73فیصد پر یہ قابض ہیں، دوسری جانب ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی روزانہ فی کس آمدنی 1.39ڈالرز ہے اور ان کے پاس کل ملکی آمدنی کا 16.39فیصد حصہ ہے۔ہر آنے والے دن کے ساتھ عدم مساوات اور آمدنیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔پاکستان کی معیشت میں کالے دھن اور آمدنیوں میں بڑھتی ہوئی غیر ہمواری کا اکنامک سروے میں دیئے گئے ڈیٹا سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اس میں ایک سال کے دوران لارج سکیل مینوفیکچرنگ کی گروتھ میں 28 فیصد اضافہ ہوا یعنی پچھلے سال یہ 26 فیصد منفی گروتھ کا شکار ہوئی اور اس سال یہ 2 فیصد مثبت گروتھ میں ہے لیکن پہلے چھ ماہ میں اس کی گروتھ منفی 10 فیصد رہی۔ دوسری جانب سٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں 73 فیصد اضافہ ہوا اور مارکیٹ capitalization میں 53 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سٹاک ایکسچینج اور فنانشل ادارے ریکارڈ منافع کما رہے ہیں جبکہ عام آدمی روٹی سے بھی لاچار ہے۔ اس بحران کو طبقاتی بنیادوں پر دیکھا جائے تو امیر، امیر تر ہو رہا ہے اور غریب مزید غریب ہو رہا ہے۔پاکستان سٹاک ایکسچینج کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان کی 83 بڑی کمپنیوں نے سال 2023-24ء میں ٹیکس کے بعد 1.66ٹریلین روپوں کا منافع کمایا جو کہ پچھلے سال کی نسبت 45 فیصدزیادہ تھا، اس میں افراطِ زر کااثر نکال بھی دیں تو ملکی بحران کی کیفیت میں کارپوریٹ منافع اس وقت تاریخ کی بلند ترین شرح 18 فیصد پر ہے۔ عالمی بنک کی رپورٹ کے مطابق اسی عرصہ کے دوران ایک کروڑ مزید پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے گر گئے ہیں اورخوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث 82 فیصد پاکستانی گھرانے صحت بخش خوراک کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ایک اوسط پاکستانی گھرانے کو صحت مند اور غذائیت سے بھرپور خوراک کے لیے کم از کم 53,000 روپے ماہانہ خرچ چاہیے لیکن اعلان شدہ کم از کم اجرت محض 37,000روپے ہے یہ ’سہولت‘ بھی چھوٹی سی اقلیت کو ہی میسر آسکے گی۔ 2021ء کے لیبر سروے کے مطابق پاکستانی محنت کشوں کی اوسط تنخواہ محض 24ہزار روپے ہے اور median یعنی آدھے سے زائد محنت کش 18ہزار روپے یا اس سے بھی کم پر کام کرنے پر مجبور ہیں مثلاً مختلف سیکیورٹی کمپنیوں میں بارہ ہزار پہ سیکیورٹی گارڈ سے بارہ بارہ چودہ چودہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے، جبکہ دیگر شعبوں کی صورتحال بھی کوئی زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اس طرح یہ بجٹ غربت ختم کرنے کی بجائے دراصل غریب ختم کرنے کے مترادف ہے۔ بجٹ کے اہداف میں روزگار کی صورتحال کی جانب دیکھا جائے تو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اندازوں کے مطابق 2023ء میں بے روزگاری کی شرح 8.5 فیصد تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ گزشتہ سال کے آخر تک تقریباً 6.9 ملین پاکستانی بے روزگار تھے لیکن اس میں وہ بڑی تعداد شامل نہیں جوکہ مایوس ہو کر لیبر فورس کا اب حصہ ہی نہیں رہی، مثال کے طور پر 2013ء میں پاکستان کے روزگار اور آبادی کا تناسب 64فیصد تھا جو کہ اب کم ہو کر 47.5فیصد رہ چکا ہے۔اس بجٹ میں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی بجائے پہلے مواقع بھی کم ہونے کی طرف جانے کا خدشہ ہے۔ ایک جانب حکومت نجکاری کا پروگرام نافذ کرنے جا رہی ہے جس میں تقریباً تمام عوامی ادارے نجی شعبوں کو منتقل کئے جائیں گے۔ اب بجٹ کے بعد نجی شعبے میں بھی کاروبار کی فی محنت کش کی مجموعی لاگت کو کم کرنے کے لیے’کم کارآمد‘ محنت کشوں کو "موثر محنت کشوں” سے تبدیل کرنے کا کام کریں گے یعنی روزگار کے مواقع مزید کم ہونے کے ساتھ بڑی تعداد میں مزید جبری برطرفیوں کا اندیشہ ہے جس سے نہ صر ف بیروزگار ی بلکہ غربت میں بھی مزید اضافہ ہو گا۔ بجٹ کا اگر سرسری جائزہ لیا جائے تو کل بجٹ کا 51فیصد حصہ اندرونی اور بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں، جبکہ 21فیصد دفاع، سول حکومت چلانے اور پنشنز پر خرچ کیا جائے گا۔ یعنی 70فیصد بجٹ پر بحث ہو ہی نہیں سکتی اور یہ سارے کرنٹ اخراجات ہیں۔ تعلیم و صحت جیسے شعبوں پر صوبائی اور وفاقی اخراجات دونوں کو شامل کر کے بھی یہ4فیصد سے بھی کم ہے۔ بڑھتی آبادی کے تناسب سے یہاں صحت اور تعلیم کی بہتر سہولیات کے لئے موجودہ اخراجات سے تقریباً دس گنا زائد بجٹ چاہیے لیکن اس نظام اور ریاست میں اس کی گنجائش نہیں۔

پاکستانی معیشت کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یہ ایک "casino economy” بن چکا ہے۔ جو کہ سامراجی قرضوں اور امداد کی بیساکھیوں پر چل رہا ہے، یہ ایسی معیشت ہے جو کہ ایک دلدل کی مانند بن چکی ہے جہاں موجودہ معاشی ڈھانچوں میں حقیقی ترقی یا صنعت کاری ناممکن ہے۔ اپنے قیام سے لے کر آج تک اس ملک کی بورژوازی یہاں صنعت کاری یا یہاں جدید معاشرہ تعمیر کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اسی وجہ سے اس ملک کو پچھلے 77سالوں میں قرضوں کے لئے 24 سے زائد آئی ایم ایف پروگرامز میں جانا پڑا ہے۔ پاکستان میں صنعت کاری ایک خواب بن چکا ہے اور 1990ء کے بعد غیر پیداواری معیشت میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہاں ہر آنے والی حکومت سامراج کے طے شدہ نسخو ں پر عمل پیرا ہوتی ہے۔ 1990ء کے بعد کالے دھن پر مبنی معیشت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اسی دوران یہاں فارمل معیشت میں تیزی سے کمی ہوئی ہے۔ اس عرصے کے دوران آنے والی تمام حکومتوں کی جانب سے معاشی بحالی کے ایک ہی پروگرام پر عمل درآمد جاری ہے جو کہ قرضوں یا امداد کی بنیاد پر یہاں "consumption oriented” گروتھ کو پروموٹ کیا گیا۔ اس معاشی پالیسی میں ملک کے اندر پیداوار کی بجائے’اشیاء اور خدمات کی کھپت‘ کے گرد معاشی گروتھ حاصل کی جاتی ہے۔ یہ کہنا مبالغہ آرائی نہ ہو گا کہ ملک کی معاشی ترقی کا انحصار پیداوار کی بجائے اصراف پر ہو چکا ہے۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ اور تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی پارٹیاں اور فوجی آمریتیں سب اسی پالیسی پر متفق ہیں۔ اعدادو شمار کے مطابق پچھلے 15سالوں میں سالانہ جی ڈی پی کا 92 فیصد حصہ حکومتی اور گھریلو صارفین کی اشیاء و خدمات کی کھپت پر ہے۔ اس کھپت کو پھر قرضوں سے برقرار رکھ کر جعلی ترقی دکھائی جاتی ہے، وقتی طور پر اس پالیسی کے نتائج حاصل کئے جاتے لیکن اس کی وجہ سے شارٹ ٹرم میں ہی معیشت اگلے سنگین بحران کا شکار ہو جاتی۔یہ ایسے ہی ہے جیسے کینسر کے مرض میں مبتلا انسانی جسم کو معالج کی جانب سے وقتی طور پر سٹیرائڈز دیئے جائیں، وہ وقتی طور پر تو اچھلتا، کودتا نظر آتا ہے لیکن اگلے ہی پل مزید بیمار ہو جاتا۔ ایسا ہی کچھ پاکستانی معیشت کے ساتھ ہو رہا ہے۔ چہرے بدلتے ہیں مگر معاشی پالیسیاں یکساں رہتی ہے۔ ملک کے سنجیدہ معیشت دانوں کے مطابق اس کیفیت میں اگر ملکی معیشت سالانہ 3 فیصد ترقی کرے تو اس کھپت پر انحصار کردہ ترقی کے لئے سالانہ 7 ارب ڈالر کے بیرونی قرض کی ضرورت ہوگی، ملک کی آبادی کے پیش نظرجی ڈی پی میں کم سے کم سالانہ 5 فیصد گروتھ ضروری ہے جس سے مناسب روزگار پیدا کیا جاسکے اور غربت میں بتدریج کمی لائی جا سکے۔ لیکن یہ موجودہ معاشی پالیسی کے تحت ناممکن ہے۔

اس وقت معیشت میں بحالی اور معاشی ترقی کو دیکھا جائے تو نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی) کے منظور کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سرمایہ کاری کا تناسب 50 سالوں میں اپنی کم ترین سطح پر آ گیا ہے، جوگزرے مالی سال میں معیشت کے 13.1 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ نجی شعبے کی سرمایہ کاری کم ہو کر جی ڈی پی کا 8.7 فیصد رہ گئی ہے، جو تقریباً 25 سالوں میں سب سے کم ترین سطح ہے۔ سرکاری شعبے کی سرمایہ کاری 2.8 فیصد تک گر گئی ہے، جو کہ چار سالوں میں سب سے کم ہے۔اسی طرح اہم اشاریہ بچت سے جی ڈی پی کا تناسب 13.1% سے کم ہو کر 13% تک آ گیا ہے۔ ان سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی معیشت میں سرمایہ کاری اور بچتوں کی شرح نہایت ہی کم ہے، جس سے پیداواری شعبہ تنزلی کا شکار ہے۔ نئی سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے ملازمتوں کے مواقع کم ہو رہے اور معیشت میں بہتری کے امکانات مزید کم ہو رہے ہیں۔ ملک میں پیداواری معیشت کے سکڑاؤ کی وجہ سے یہاں کی لیبر کی پیداواری صلاحیت میں بھی شدید کمی واقع ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے ملک کی ورک فورس کی ہنر مندی اور پیداواری صلاحیت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ لیبر کی پیداواری صلاحیت کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی تصور کی جاتی ہے، یہ ملک کی حقیقی معاشی ترقی اور عوام کی زندگیوں کے معیار کو سمجھنے کا بہتر اشاریہ ہے۔ لیکن دنیا بھر میں پاکستان کا شمار اس وقت لیبر کی پیداواری صلاحیت میں کم ترین گروتھ والے ممالک میں ہوتا ہے۔ عالمی بنک کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں 1990 ء سے 2018 ء کے درمیان صرف 1.29 فیصد کی اوسط سالانہ ترقی کی شرح رہی، اس کے برعکس دیگر تمام جنوبی ایشیا کی معیشتیوں میں لیبر کی پیداوار صلاحیت سالانہ دگنی سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔یہاں کی اشرافیہ کی نالائقی کے چرچے تو اب خود ان کے آقا بھی کرنے لگ گئے ہیں۔ جیسے عالمی بینک کے علاقائی نائب صدر برائے جنوبی ایشیا مارٹن رائزر نے کچھ عرصہ پہلے بیان دیا کہ، ’پاکستان کی معیشت کم ترقی کے گھناؤنے چکر میں پھنسی ہوئی ہے، جس میں انسانی ترقی کے خراب نتائج اور بڑھتی ہوئی غربت جیسے معاشی حالات پاکستان کو موسمیاتی جھٹکوں کے لئے انتہائی خطرے سے دوچار کر رہے ہیں۔ ملک کے پاس ترقی اور موسمیاتی موافقت کے لئے مالی اعانت کے وسائل ناکافی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان فیصلہ کرے کہ ماضی کے نمونوں کو برقرار رکھنا ہے یا ایک روشن مستقبل کی جانب مشکل لیکن اہم قدم اٹھانا ہے۔‘

یہ بجٹ محنت کشوں اور عوام کے لئے ایک نئی معاشی مصیبت لے کر آئے گا، جس میں حکمران اپنی معیشت کو درست کرنے میں یہاں کے انسانوں کی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں۔ یہ معاشی بحران پھر عام آدمی کے لئے بحران ہے، اس بحران کی کیفیت میں امیروں کی عیاشیوں اور ان کی دولت میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ حکمرانوں کے پیدا کردہ ان بحرانوں کی قیمت یہاں کے محنت کش طبقات پچھلے 77سالوں سے اپنی زندگیوں کے کرب اور اذیتوں سے چکا رہے ہیں، لیکن حکمران طبقات کی ان پالیسیوں کے تسلط سے محنت کش عوام کی ان اذیتوں کو برداشت کرنے کی صلاحیتیں اب دم توڑتی جارہی ہیں اور وہ سوچنے پہ مجبور ہو رہے ہیں کہ یوں خاموشی سے اب زندگی گزارنا دن بدن محال ہو رہا ہے۔ کشمیر کی محنت کش عوام نے ابھی ایک انگڑائی لی ہے جس کے اثرات جلد یا بدیر دیگر خطوں تک مرتب ہونے میں شاید اب زیادہ وقت نہ لگے کیونکہ اب یہ تماشا زیادہ دیر تک یونہی نہیں چل سکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے