پاکستان: سماج و سیاست میں بڑھتی خلیج

تحریر: ذکاء اللہ

فروری 2024ء کے عام انتخابات کی دھول اڑنے سے پہلے ہی بیٹھنا شروع ہوگئی، انتخابات سے وابستہ معیشت و سیاست میں بہتری کی امیدیں، مایوسی میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ انتخابات کے حوالے سے ریاست کے ایک دوسرے سے برسرپیکار دھڑوں کے تجزیہ کاروں اور سیاسی پنڈتوں کے اکثر تجزیے اپنی الٹ میں تبدیل ہو گئے ہیں اپنے تجزیوں کی اس خجالت کو مٹانے کے لیے وہ ایک بار پھر دوسری انتہا پر جا کر انہیں درست ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حالیہ انتخابات میں عسکری حلقوں کو بری طرح ناکامی ہوئی ہے، لیکن اگر دیکھا جائے تو انتخابات کے نتائج بنیادی طور پر ریاستی متحارب دھڑوں کے درمیان مفاہمت کی ایک ناکام کوشش تھی جس نے مزید تضادات کو جنم دیا اور واقعات کی رفتار مزید تیز کردی۔

اپنے قیام کے آغاز سے ہی ریاست پاکستان شدید سیاسی و نظریاتی الجھن کا شکار رہی ہے، پاکستانی سرمایہ داری کی تاریخی تاخیرزدگی اور سیاسی اشرافیہ کی طرز حکومت و معاشرت میں واضح پالیسی کی تشکیل میں ناکامی نے عسکری حلقوں کے ریاستی امور میں حد سے زیادہ بڑھتے ہوئے کردار کی بنیاد رکھی اور جنرل ایوب خان مسند اقتدار پر براجمان ہوئے لیکن اپنی تمام تر طاقت و معاشی ترقی کے باوجود تقسیم ہند سے پیشتر موجود ترقی پسند مزدور و طلبہ تحریکوں کے سیاسی شعور کی بدولت، جنرل ایوب خان ریاست کے کردار اور سماجی ہیت کو تبدیل کرنے میں ناکام رہا، 5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء اور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا خاتمہ وہ تاریخی موڑ تھا جس نے پاکستانی سماج و سیاست کی ہیت پر گہرے اثرات مرتب کئے۔

ضیا نے اسلامائزیشن اور مذہب کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ریاستی اداروں عدلیہ، سول و ملٹری بیوروکریسی اور تعلیمی اداروں میں ہم خیال مذہبی لوگوں کی تعیناتیاں کی اور ترقیاں دی گئی بلکہ دوسری طرف سیکولر اور ترقی پسند سوچ کے حامل افراد کو ان اداروں سے بیدخل بھی کیا گیا، اس کہ علاؤہ امریکی سامراج اور عرب ممالک کی امداد سے مدارس اور اسلحہ بردار ذاتی لشکروں کے قیام کے کلچر کو فروغ دیا گیا، جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں جمہوری و ترقی پسند قوتوں کو طاقت کے بہیمانہ استعمال کے ذریعے کمزور کرنا اور اس تشدد اور طاقت کے استعمال کو ایک نظریاتی جواز فراہم کرنا تھا۔

80ء کی دہائی میں جاری سرد جنگ، افغان ڈالری جہاد اور بھارت دشمنی کے پراپیگنڈے نے جنرل ضیاء الحق کی ان سماج دشمن پالیسیوں کو مہمیز عطا کرنے میں اہم کردار ادا کیا، گو کہ ابتدا میں جنرل ضیاء الحق نے ان پالیسیوں کو اپنے اقتدار کی مضبوطی اور اسے طول دینے کے لئے اپنایا تھا لیکن بعد میں یہ پاکستان کے عسکری حلقوں کی اندرونی و خارجہ پالیسیوں کا کلیدی جزو بن گئی اور ضیاء کے بعد آنے والے اس کے پیشرو اُن پالیسیوں کو زیادہ منظم خطوط پر استوار کرنے کی طرف گامزن ہوگئے، اور فی زمانہ پاکستان کی سیاست، سماج و ریاست پر ایک حاوی اور مضبوط کردار کی صورت متشکل ہیں، امریکی سامراج، بھارت دشمنی اور افغانستان آج بھی عسکری حلقوں کے ایک یا دوسرے ریاستی دھڑے کی "سرخ لکیر” ہے۔۔

الیکشن 2024 اور ملکی سیاست

حالیہ انتخابات کے نتائج میں پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدوار، پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی ملکی سطح پر اکثریتی پارٹیاں بن کر ابھریں، فارم47 کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز کی ٪47 تعداد نے آپنے ووٹ کا حق استعمال کیا، وفاق میں مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادیوں پر مشتمل حکومت، جبکہ پنجاب میں مسلم لیگ ن، سندھ اور بلوچستان میں پاکستان پیپلز پارٹی، پختونخواہ میں پی ٹی آئی حمایت یافتہ حکومت قائم ہوئی، 2018 میں پی ٹی آئی اور 2022 میں پی ڈی ایم اتحاد پر مشتمل حکومتوں کی نسبت "نمبر گیم” کے اعتبار سے مرکز اور صوبوں بالخصوص پنجاب اور بلوچستان میں زیادہ مستحکم حکومتیں قائم ہوئی ہیں، پختونخواہ میں حکومت کا مستقبل ملکی سیاست میں پی ٹی آئی کے سیاسی طرزِ عمل اور علاقائی سیاست میں ہونے والی تبدیلیوں پر منحصر ہو گا۔ یوں اس وقت پاکستان کی تقریبأ تمام بڑی سیاسی پارٹیاں مختلف شکلوں میں اقتدار کا حصہ ہیں۔ پاکستان میں حکومتوں کا استحکامِ بہرحال مقتدرہ سے ان کے تعلقات پر منحصر ہوتا ہے اور آج مقتدرہ پاکستان کی تاریخ کی مضبوط ترین شکل میں سول اداروں پر حاوی ہے۔

الیکشن 2024ء میں پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو ملنے والے ووٹ کو عمران خان کی سیاسی مقبولیت سے منسلک کیا جارہا ہے لیکن اگر ہم 2018ء کے انتخابات کے سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو آج "ظلم کا بدلہ ” اور "ووٹ کو عزت” یہ دونوں نعرے پاکستانی مقتدرہ کے سیاست میں عمل دخل کے خلاف ایک بیانیے طور پر دیئے گئے یوں عمران خان جہاں آج کھڑا ہے 2018ء میں نواز شریف اس جگہ پر تھا اور اسی ترتیب سے اپنی تمام تر مقبولیت کے باوجود 2018ء میں عمران خان سادہ اکثریت حاصل کرنے سے بھی محروم رہے اور ن لیگ ایک بڑی اپوزیشن پارٹی بن کر ابھری، اپریل 2022ء میں پی ٹی آئی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد قائم ہونے والی پی ڈی ایم کی حکومتی پالیسیوں کے باعث عوام پر پڑنے والے معاشی دباؤ نے پی ڈی ایم حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا، گو پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی اکثریت عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد فوری الیکشن کی طرف جانا چاہتی تھی لیکن ریاستی اداروں میں غالب "عمران حمایتی” دھڑے کے باعثِ وہ فوری الیکشن کا خطرہ مول نا لے سکے، اس کے باوجود کہ عمران خان اپنی عوامی مقبولیت کی کم ترین سطح پر تھا۔ آج بھی ریاستی اداروں میں عمران حمایتی دھڑا کمزور ضرور ہوا ہے پر ختم نہیں ہوا اور وقتاً فوقتاً وہ اپنی موجودگی کا اظہار کرتا رہے گا۔

الیکشن 2024ء کے انعقادِ سے قبل ن لیگ کا ریاستی "کنگ پارٹی” کے طور پر ابھار اور انتخابات میں کامیابی کے حوالے سے ریاستی مقتدرہ پر مکمل انحصار جہاں ایک طرف خود ن لیگ کے سیاسی کارکنان میں مایوسی کا باعث بنا وہاں دوسری طرف عوام میں اس کے خلاف اشتعال کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ الیکشن 2024ء بنیادی طور پر کسی سیاسی جماعت کی مقبولیت اور مخالفت سے زیادہ حکومت کی معاشی پالیسیوں اور طرز حکومت میں مقتدرہ کے حد سے بڑھتے ہوئے کردار کے خلاف ایک عوامی ریفرنڈم تھا۔ الیکشن فروری 2024ء کے بعد شہباز شریف کے زیر قیادت قائم ہونے والی اتحادی حکومت کو تین بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، پہلا معیشت کی بحالی، دوسرا اندرون ملک ہونے والی دہشتگردی کا مقابلہ اور تیسرا امریکہ و چین کے درمیان جاری سرد جنگ میں متوازن پالیسی کی تشکیل۔

2023ء میں پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کہ انتہائی قریب پہنچ چکا تھا جسے آخری وقت میں آئی ایم ایف کو وزیراعظم کی براہ راست یقین دہانیوں کے بعد ملنے والے بیل آؤٹ پیکیج کے زریعے حکومت پاکستان بچانے میں کامیاب ہو پائی تھی، آج بھی پاکستان دنیا میں معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار ممالک کی فہرست سے باہر نہیں نکل سکا، اس سے پہلے 1999ء و 2000ء میں پاکستان اس صورتحال سے نبرد آزما تھا، اس وقت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں آمریکہ کا اتحادی بننے کے بعد ہی پاکستان دیوالیہ ہونے کے خطرے سے باہر آ سکا تھا، لیکن معیشت کی بحالی اور بہتری کے لئے مسلسل بیرونی امداد و قرضوں کی ری شیڈولنگ نے پاکستانی معیشت کو زیادہ بدترین صورتحال میں لا کھڑا کیا ہے، جنوری 2024ء میں اسٹیٹ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف اس سال بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی مد میں پاکستان کو 29 بلین ڈالر کی ضرورت ہے یعنی پاکستان نا صرف پرانے قرضوں کی ری شیڈولنگ کی ضرورت ہے بلکہ کاروبار معیشت کو آگے بڑھانے کے لئے آئی ایم ایف سے مزید نئے قرض بھی لینا پڑیں گے جس کے لئے آئی ایم ایف کی مجوزہ کردہ پالیسیوں پر پہلے عمل درآمد کروانا ہوگا اور بعد میں قرض کی قسطوں کا اجراء ہوگا۔

اسی تسلسل میں آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت 15 اداروں کو جلد از جلد نجی شعبے کو فروخت کرنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں ان میں پوسٹ آفس اسٹیل مل، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، آر ایل این جی اور پی ائی اے کے علاؤہ دیگر ادارے بھی شامل ہیں۔ پی آئی اے کو اس سال جون تک نجی شعبے کے حوالے کرنے کے تمام تر اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ پی آئی اے کی نجکاری میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ اس کا 429.26 ارب روپے کا موجودہ قرضہ تھا، جسے وفاقی حکومت کی قائم کردہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کر دیا گیا ہے، اور اطلاعات کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری کے لئے ابتدائی بولی 30 ارب روپے مقرر کی گئی ہے۔

پاکستان میں قرضوں کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی پالیسی کے تحت نجکاری کا باقاعدہ آغاز 1991 میں شروع ہو جب کئی منافع بخش سرکاری ادارے بھی نجی شعبے کو فروخت کر دئیے گئے، ان اداروں کی فروخت میں ہونے کرپشن، من پسند افراد اور کمپنیوں کو نوازنے کے علاوہ مارکیٹ ویلیو سے کئی گنا کم قیمتوں پر انہیں نجی شعبے کے حوالے کیا گیا۔

1998 میں پاکستان میں نجکاری کے عمل پر ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی ایک اسٹڈی کے مطابق 1992 سے 1994 کے دوران نجی شعبے کو فروخت کئے گئے اداروں میں سے صرف 22 فیصد ایسے تھے جنہوں نے نجکاری کے بعد بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، 44 فیصد نجکاری سے پہلے والی سطح پر ہی برقراری رہے اور 34 فیصد ادارے زیادہ بدتر صورتحال کا شکار ہوگئے۔

1991 سے 2015 تک نجی شعبے کو فروخت کئے جانے والے 172 اداروں کی فروخت سے حکومت پاکستان صرف 6.5 بلین ڈالر ہی جمع کر پائی۔ پاکستان میں نجکاری کا بنیادی مقصد ملکی قرضوں کے حجم کو کم کرنا اور اس سے حاصل شدہ آمدنی کو غربت کے خاتمے کے لئے استعمال کرنا تھا، پاکستان میں نجکاری کا عمل ان دونوں مقاصد کے حصول میں ناکام رہا ہے بلکہ نجکاری کا عمل بڑے پیمانے پر بیروزگاری کے پھیلاؤ اور غربت میں اضافے کا باعث بنا ہے اور بعض شعبوں میں تو نجی شعبے کی اجارہ داریاں قائم ہو چکی ہیں، پاکستان میں نجی شعبے کے حوالے کئے گئے 172 میں سے 130 ادارے مکمل طور تباہی کا شکار ہو چکے ہیں۔ 2006 میں اسٹیل مل کی نجکاری کیخلاف سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ایک بار پھر بڑے کارٹیلز کو نجکاری کی گنگا میں ہاتھ دھونے کا بھرپور موقع ملے گا، آئی ایم ایف کے تجویز کردہ پلان کے مطابق حکومت کسی نئے ادارے کے قیام کو عمل میں نہیں لائے گی، 203 حکومتی انٹرپرائزز کو ان کے بنیادی محکموں سے نکال کر فنانس منسٹری کے زیر انتظام قائم کردہ یونٹ کے حوالے کردیا جائے گا۔

حکومتی آمدنی بڑھانے کے لئے تاجروں پر براہِ راست ٹیکس کے نفاذ کے لئے ایف بی آر کی جانب سے تاجر دوست اسکیم ابتدائی طور پر 6 بڑے شیروں میں متعارف کروائی جا رہی جس میں فی الوقت سیالکوٹ، فیصل آباد گجرات اور گجرانوالہ شامل نہیں، جو پہلے مرحلے میں دکانداروں کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کر کے اس سال جون سے ان تمام چھوٹے بڑے دکانداروں سے ٹیکس وصولی کا عمل شروع کیا جائے گا، ٹیکس نیٹ اور ریونیو قوانین میں یکسوئی اور بڑھوتری کے لئے اس سال فنانس بل میں انکم ٹیکس ارڈیننس2001, سیلز ٹیکس ایکٹ 1990, فیڈرل ایکسائز ایکٹ2005 اور اسلام آباد کیپیٹل اتھارٹی آرڈیننس 2001 میں بھی ترامیم پیش کی جا رہی ہیں، اس کے ساتھ ہی بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں میں بھی مرحلہ وار اضافہ کیا جائے گا، وفاقی حکومت کے اخراجات میں کمی کے لئے آئندہ سال میں وفاق کی جانب سے صوبوں میں کسی نئی ترقیاتی اسکیم کے فنڈز بھی مختص نہیں کئے جائیں حتی کے ایکسپورٹ فیسلٹیشن اسکیم 2021 کے تحت درآمد کنندگان کو حاصل ٹیکس مراعات کو بھی کم کیا جا رہا ہے گذشتہ سال افراط زر میں اضافے کے باعث پاکستان میں 10 کروڑ سے زائد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے آئندہ سال بڑے پیمانے پر ٹیکسوں کا نافذ اور بجلی، تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ مزید افراد کو غربت کی سطح سے نیچے لے جا سکتا ہے معیشت کی سست روی کے باعث یہ پالیسیاں افراط زر میں غیر معمولی اضافے کے رجحان کو جنم دینے کا باعث بن سکتی ہیں۔

گذشتہ سال اپنی حکومت کے آخری دنوں میں شہباز شریف نے خصوصی سرمایہ کاری کونسل (SIFC) کی بنیاد رکھی، ایس آئی ایف سی ایک سول ملٹری ہائیبرڈ فورم ہے جس میں آرمی چیف بھی بطور ممبر شامل ہیں، اس فورم کے ذریعے پاکستان کی معاشی پالیسیوں میں فوج نے باقاعدہ عملی کردار بھی حاصل کرلیا ہے جو معیشت کے اعتماد و تسلسل کو برقرار رکھنے کے لئے بنیادی معاشی پالیسی کی تشکیل اور فیصلے کرے گی، اس کونسل کے تحت خلیجی ممالک بالخصوص متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے سے زراعت، معدنیات، پیٹرولیم اور توانائی کے شعبے آگلے تین سالوں میں فارن ڈائیریکٹ انویسٹمنٹ FDI کے ذریعے 25 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی توقع کی جارہی ہے، اس سلسلے میں حالیہ دنوں میں ایک لاکھ ایکڑ سے زائد زمین زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے یا اس پر کام جاری ہے، براہ راست سرمایہ کاری فزیکل سرمائے کی خریداری اور حصول کے لئے خالص سرمائے کی منتقلی ہے جس کا جائیداد اور اثاثوں پر مکمل کنٹرول ہوتا ہے براہ راست سرمایہ کاری بذات خود معاشی نمو میں بہتری کا عامل نہیں ہوتا مثلا کساد بازاری کے دوران براہِ راست سرمایہ کاری کوئی اہم معاشی نمو دینے سے یکسر قاصر ہوتی ہے، اس سے پہلے سی پیک کے منصوبوں کے حوالے سے بھی اسی قسم کی توقعات منسوب کی جارہی تھی جسے پاکستانی معیشت میں ایک "گیم چینجر” منصوبہ قرار دیا جا رہا تھا۔

اگست 2021 افغانستان سے امریکی انخلاء سے پیشتر ہی پاک امریکہ تعلقات سرد مہری کا شکار ہو چکے تھے جس میں پاکستانی حکام کی جانب سے بہتری کی کوششوں کے باوجود کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہو رہی تھی لیکن گذشتہ سال ستمبر میں امریکی سفیر کے گوادر بلوچستان کے دورے نے امریکا کی پاکستان سے متعلق پالیسی میں بڑی تبدیلی کا اشارہ دے دیا تھا، پاکستان سے امریکی تعلقات کی بحالی میں پاکستان میں موجود امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم، پینٹاگون اور امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اہم کردار ادا کیا، گذشثہ سال دسمبر میں آرمی چیف کا دورہ آمریکا بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا، امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد اس خطے میں چین اور روس کا اثرو رسوخ بڑھ رہا ہے اگر امریکا اس خطے میں اپنی موجودگی برقرار نہیں رکھتا تو اس سے امریکی مفادات کو اس خطے میں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق افغانستان کی بگرام ایئربیس پر بھی برطانوی فوج کے ہمراہ امریکی فوجی بھی موجود ہیں، امریکی صدر جوبائیڈن کا پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کو لکھا جانے والا خط امریکہ کی اس خطے میں دوبارہ واپسی کا اعلان ہے تاہم فی الوقت یہ واضح نہیں کے پاکستان سے امریکی تعاون حکومتی سطح پر ہوگا یا اس کی نوعیت عسکری سطح پر ہوگا؟

اپریل 2022 کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں نظر آرہا ہے جس میں داعش خراسان، ٹی ٹی پی اور علیحدگی پسند گروپ ان کاروائیوں کی ذمّہ داری قبول کر رہے ہیں، داعش خراسان 2022 سے اب تک 272 حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے جس میں صرف تین حملے ایسے ہیں جو افغانستان و پاکستان سے باہر ہوئے ہیں جس میں اس سال 2 ایران اور روس میں کئے گئے، ٹی ٹی پی نے 2022 سے اب تک 832 حملوں کی ذمہ داری قبول کی اس کے علاوہ تحریک جہاد پاکستان اور دیگر گروپ بے نام گروپ بھی دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہیں اور پاک افغان تعلقات میں کشیدگی کا باعث بن رہے ہیں پاکستان نے اس سلسلے میں بین الاقوامی برداری سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ داعش اور ٹی ٹی پی کو یکساں طور پر ایک خطرے کی صورت دیکھا جائے، 2022 میں شمالی افغانستان میں تحریک طالبان تاجکستان کے قیام کے بعد یہ خیال تقویت پا رہا ہے کہ افغان طالبان افغان سرزمین کو خطے کے دیگر ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے میں مکمل ناکام ہوئے ہیں افغان طالبان کے ایک رہنما نے اس سلسلے میں ٹی ٹی پی اور پاکستانی حکام کو ایک بار پھر مذاکرات کرنے کا مشورہ دیا ہے جو اس بات کا عندیہ ہے کہ افغان طالبان کی ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی بھی کاروائی خود افغان طالبان کے درمیان شدید اختلاف کو جنم دے سکتی ہے اور افغانستان میں طالبان حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

پاکستان میں ان گروپوں کی کاروائیوں کا زیادہ تر نشانہ سی پیک منصوبے اور چینی باشندے ہیں، گذشتہ دنوں بشام میں چینی انجینئرز پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول قبول نہیں کی، بشام واقع کے بعد چین کی وزارت خارجہ کا حکومتی سطح پر سخت ردعمل اس امکان کو مزید فروغ دیتا ہے کہ آنے والے دنوں میں چینی شہریوں اور سی پیک منصوبوں کی سکیورٹی انتظامات چین براہ راست اپنی نگرانی میں کر لے، چین اور امریکہ کی جاری سرد جنگ اور ہمارے خطے میں موجودگی آنے والے دنوں میں ایک نئی پراکسی کو جنم دے سکتی ہیں۔

پاکستان میں ریاست اور معیشت پر ریاستی مقتدرہ کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ اور سیاسی جماعتوں کی قیادت کی بے بسی ریاست اور سیاست عوام کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر رہا، پاکستان میں مصنوعی طریقے سے حکومتیں تشکیل دینے اور پھر ان سے مخصوص قانون سازی کروانے کے عمل نے پاکستان کی معیشت، سیاست اور بذات خود ریاست کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے لیکن یو محسوس ہوتا ہے کے ماضی میں کی گئی غلطیوں کو سدھارنے کے لئے ریاست مستقبل میں زیادہ بڑی غلطیاں کرنے کی طرف جا رہی ہے، پاکستان میں ریاستی مقتدرہ مستقبل میں زیادہ مرتکز نظام حکومت کی خواہ ہے اور 18ویں ترمیم کے حوالے سے ان کے خدشات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ پاکستان میں مستقبل قریب میں ابھرنے والے معاشی تضادات نئے سیاسی و سماجی تضادات کو جنم دیں گے یہ ناصرف حکومتی اتحاد میں پہلے سے موجود دراڑوں کو مزید گہرا کریں گے بلکہ سیاسی پارٹیوں کے درمیان اختلافات اور ٹوٹ پھوٹ کا باعث بھی بن سکتے ہیں اور یہ سلسلہ صرف ان سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اطراف میں موجود مختلف قومی تحریکوں میں نئے رجحانات کو جنم دینے کا باعث بھی بن سکتا ہے جن کے طبقاتی بنیادوں پر قومی دھارے سے جڑنے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ پاکستانی سماجی کسی ٹائم بم کی طرح ایک خاص نقطے کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں بیک وقت کئی تضادات پک کر تیار ہو چکے ہیں، کوئی ایک چھوٹا واقعہ بھی کسی بڑے سماجی دھماکے کا موجب بن سکتا ہے، اس صورتحال میں مارکس وادیوں کے لئے ضروری ہے کے وہ سیاسی عمل پر انتہائی باریکی سے نظر رکھیں اور جدلیاتی مادیت کے اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے حالات کے دھارے کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کی کوششوں کو مزید تیز کریں۔

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے