پاکستان معیشت: اب بحر سے کشتی کیا کھیلے موجوں میں کوئی گرداب نہیں !

تحریر: یاسر خالق

عالمی معیشت 2008ء کے مالیاتی بحران سے سنبھل نہیں پائی تھی کہ 2019ء کے اختتام پر کووڈ 19 نے عالمی مالیاتی و اقتصادی بحران کو مزید گہرا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سرمایہ دارانہ نظام کا یہ کوئی پہلا بحران نہیں اور نا ہی آخری بحران ہے۔ سرمایہ داری نظام بحرانات کے بے شمار پے در پے سائیکلز سے گزرتے ہوئے بند گلی کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے معاشی بحرانات کا تجزیہ کیا جائے تو تمام بحرانات میں ایک عنصر یکساں اور نمایاں نظر آتا ہے کہ ہر بحران کے بعد سرمایہ دارانہ ریاستیں، اس کی حکومتیں اور نظام کے محافظ، سرمایہ دار طبقے کی حمایت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ ایسی پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں جو سرمایہ داروں کے منافعوں اور شرح منافع میں اضافے کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ جب کہ دوسری طرف ان بحرانات سے سب سے زیادہ محنت کش عوام متاثر ہوتے ہیں اور پھر ان بحرانات پر قابو پانے کے لئے اور ان سے نکلنے کے لئے تمام تر بوجھ بھی محنت کش عوام کے کندھوں پر ڈالا جاتا ہے۔

گذشتہ 15 سے 18 سالوں سے جاری عالمی معاشی بحران کا تمام تر بوجھ بھی محنت کش عوام کے کاندھوں پر ڈالا گیا ہے۔ اس عمل کے ذریعے بھی ابھی تک عالمی معیشت مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی ہے بلکہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بحران مزید گہرا اور گھمبیر صورت اختیار کرتا چلاجارہا ہے۔ عالمی طور پر مٹھی بھر چند سرمایہ داروں اور کارپوریشنوں کے منافعوں اور دولت میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے جبکہ دوسری طرف کروڑوں انسان خطِ غربت کی لکیر سے نیچے گر چکے ہیں۔ یہ نظام ہرگذرتے دن کے ساتھ محنت کش عوام کی زندگیوں کو بیروزگاری، غربت، مہنگائی، لاعلاجی، بے گھری اور جنگی جنون کی صورت میں تاراج کررہا ہے۔

آکسفام کی حالیہ ایک رپورٹ کے مطابق 2020ء کے بعد دنیا کے پانچ امیر ترین افراد کی دولت میں 114 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ اسی عرصے کے دوران دنیا کی کل آبادی کے 60 فیصد حصے یعنی کہ پانچ ارب انسانوں کی دولت میں صفر اعشاریہ دو فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 52 ممالک کے 80 کروڑ مزدوروں کی اوسط تنخواہ میں کمی واقع ہوئی ہے اور صرف دو سالوں کے دوران مجموعی طور پر اسی محنت کش عوام کا ایک اعشاریہ پانچ کھرب ڈالر کا نقصان ہواہے جوکہ ہر ایک مزدور کے پچیس دن کی تنخواہ کے برابر ہے۔ یہ عمل کارل مارکس کے سرمایہ داری بارے تجزیہ و تناظر کی درست اور مکمل عکاسی کررہا ہے کہ ”سرمایہ داری کے تحت انسانیت کا مستقبل یہ ہے کہ دولت کا اِرتکاز چند ہاتھوں میں مرتکز ہوجائے گا، جب کہ آبادی کی اکثریت غربت کی اتھاہ گہرایوں میں غرق ہوجائے گی“۔ کیا آج صورت حال اس سے کوئی مختلف خاکہ پیش کررہی ہے؟ اسی عالمی پس منظر کے تسلسل میں اور گہرے ہوتے ہوئے عالمی معاشی بحران کے تناظر میں اگر پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک اور اسی کے دم گھٹتی معیشت کا جائزہ لیا جائے تو صورت انتہائی دگر گون منظر پیش کررہی ہے۔

پاکستان کی معیشت درحقیقت پیداواری یعنی Productive معیشت نہیں ہے۔ جی ڈی پی میں صنعت و زراعت دونوں کا حصہ ملا کر بھی خدمات کا حصہ زیادہ ہے۔ گذشتہ تین دہائیوں کے دوران مجموعی طور پر پیداواری حصہ کم ہوا ہے اور خدمات کا شعبہ مزید وسعت اختیار کرگیا ہے۔ لہٰذا یہ بات کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ پاکستانی معیشت پیداواری معیشت کی بجائے کھپت کی معیشت ہے۔ گذشتہ 56 سالوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 2000ء میں پاکستان کی جی ڈی پی (مجموعی داخلی پیداوار) میں زراعت کا حصہ 31.75 فیصد تھا جو 2023 تک سکڑ کر 19.22 فیصد ہوچکا ہے۔ صنعت کا حصہ 2000ء میں 16.73 فیصد تھا جو اس سال تک کچھ اضافے کے ساتھ 18.47 فیصد ہے اور اسی طرح سروسز سیکٹر یعنی خدمات کے شعبے میں زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 2000ء میں خدمات کا حصہ 51.52 فیصد تھا جو سال 2023 تک بڑھ کر 58.61 فیصد ہوچکا ہے۔

پاکستان کی کھپت کی معیشت کا تمام تر انحصار دراصل کالے دَھن یا غیر دستاویزاتی معیشت پر ہے۔ کالے دَھن کی معیشت کے اہم حصے ٹیکس چوری، کرپشن، سمگلنگ، منشیات کا دھندہ اور اغوا برائے تاوان جیسے مشاغل پر مشتمل ہیں۔ جو شہروں کی چمک دھمک کا موجب بنتے ہیں وگرنہ دیہاتوں میں غربت کی انتہا موجود ہے۔ پاکستان کی کل دستاویزاتی معیشت کا حجم 340 بلین ڈالر ہے جب کہ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 2022ء تک پاکستان کی غیر دستاویزاتی معیشت کا حجم 457 بلین ڈالر تھا، جس میں یقینی طور پر مزید اضافہ ہوا ہوگا۔ پاکستان کی معیشت کے سائیکل میں سے کالے دھن کو نکال لیا جائے تو یہ مصنوعی چمک دھمک اور یہ کھوکھلی معیشت اور کھوکھلا نظام زمین بوس ہوسکتا ہے۔ اس کالے دَھن کو سفید کرنے کے لئے ہر حکومت کی جانب سے ایمنسٹی سکیمیں بھی جاری کی گئیں مگر کبھی بھی کالے دَھن کا کوئی خاطرخواہ حصہ سفید ہوکر دستاویزاتی معیشت کا حصہ نہیں بن سکا ہے، بلکہ اس کے حجم میں مزید اصافہ ہوتا جارہا ہے۔ البتہ اس کے برعکس معیشت مسلسل گراوٹ اور سکڑاؤ کا شکار ہے۔

اس معاشی گراوٹ اور سکڑاؤ کے عمل کو کچھ اعداد و شمار کے ذریعے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مالی سال 2022-23ء میں پاکستان کی جی ڈی پی ترقی منفی صفر اعشاریہ پانچ فیصد رہی ہے۔ جب کہ مالی سال 2024-25 میں 2 فیصد ارتقاء کا تخمینہ لگایا جارہا ہے البتہ اس کا حصول اتنا سہل بھی نہ ہوگا۔ سال 2023ء میں صنعتی ترقی کی شرح میں 10.26 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ صنعتی پیداوار میں چار فیصد کپڑے کی پیداوار میں پندرہ فیصد، لوہے اور سٹیل کی پیداوار میں دو فیصد، جب کہ آٹو موبیل کی پیداوار میں تاریخی 49 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اس معاشی بحران میں پاکستانی روپے کی گرتی ہوئی قدر اور عالمی سامراجی مالیاتی اداروں کے احکامات کی تکمیل کی غرض سے گیس، بجلی اور پیٹرالیم مصنوعات پر بے تحاشہ ٹیکسوں کے نفاذ نے غریب عوام کا جینا تو محال کیا ہی ہے، مگر ان عوامل کے اثرات سے صنعتیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2020 کے بعد اب تک تقریباً 1600 صنعتوں کی بندش کے باعث 7 لاکھ مزدور اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور یہ عمل اب بھی جاری ہے۔ روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے روزانہ 1650 پاکستانی ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ صنعتوں کی بندش کے پیچھے ایک اہم وجہ توانائی یعنی گیس اور بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہے۔ صنعتوں کو فراہم کی جانے والی گیس کی قیمت 819 روپے فی MMBTU سے بڑھ کر 2100 روپے فی MMBTU تک پہنچ چکی ہے، جب کہ بجلی کی قیمتوں میں 115 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے اور تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔

ایک طرف افراط زر میں بے پناہ اضافہ اور دوسری طرف شرح سود میں تاریخی اضافے نے کاروبار کو شدید متاثر کیا ہے۔ گذشتہ دس ماہ سے شرح سود یعنی KIBOR بائیس فیصد تک برقرار ہے۔ جب کہ KIBOR میں کمرشل بینکوں کی اپنی شرح سود کو شامل کیا جائے تو یہ شرح 30 فیصد سے زائد رہی ہے اور آج بھی اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ شرح سود کو برقرار رکھ کر افراطِ زر میں کمی لانے کی تمام تر کوششیں ناکارہ ثابت ہورہی ہیں جب کہ دوسری طرف چیمبر آف کامرس کے قائم مقام صدر کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت بلند شرح سود کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ بلند شرح سود نے کاروبار کی آپریشنل صلاحیت کو محدود کردیا ہے۔ جس میں مقامی کاروباریوں کے لئے قرضے لینے کی کاسٹ انتہائی مہنگی ہوچکی ہے۔ یہی معاملہ کاشتکاروں اور کسانوں کے ساتھ بھی درپیش ہے۔ شرح سود میں اضافہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ صنعتوں کی بندش اور کاروبار میں کمی کا باعث بن رہا ہے۔ جس کا ناگزیر نتیجہ بے روزگاری اور غربت میں اضافے کی صورت سامنے آرہا ہے۔

شرح سود میں اضافے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس سال بینکوں کے منافعوں میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو کہ سال 2023ء میں 83 فیصد بنتا ہے بینکوں کے منافعوں کی صورت میں سرمایہ دار تو منافع کما رہے ہیں لیکن دوسری طرف حکومت اس بلند شرح سود پر بینکوں سے جو قرض حاصل کررہی ہے اس سے قرض لینے کا عمل مزید مہنگا ہوا ہے۔ حکومت نے جولائی سے دسمبر 2023ء تک چار اعشاریہ دو کھرب روپے کا قرض حاصل کیا ہے اور آنے والے عرصے میں اس میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔

صنعتی پیداوار میں کمی کے باعث پاکستان کی برآمدات میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ سال 2022ء میں پاکستان کی برآمدات 39.60 بلین ڈالر تھی جو کہ سال 2023ء میں کم ہو کر 35.21 بلین ڈالر کی سطح پر رہی۔ اسی طرح درآمدات میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور مجموعی طور پر پاکستان کا کل تجارتی خسارہ 24.80 بلین ڈالر ہے۔ تجارتی خسارے میں اضافہ اور ترسیلات زر میں کمی کی وجہ سے ملک میں ڈالرز کی کمی واقع ہوئی ہے جس کی وجہ سے محض ایک سال میں پاکستانی روپے کی قدر میں 20 فیصد گراوٹ واقع ہوئی ہے۔ روپے کی قدر میں گراوٹ نے مہنگائی کے طوفان کی شکل میں عام انسانوں کی زندگیوں کو جہنم میں دھکیل دیا ہے۔ مستقبل میں مہنگائی کے اس سونامی میں مزید اُبھار دیکھنے میں ملے گا جس کی مزید وجوہات کو ہم آگے چل کر زیر بحث لانے کی کوشش کریں گے۔

معیشت کی طرح زراعت کا شعبہ بھی بحرانی کیفیت اور مسلسل سکڑاؤ کے عمل سے گذر رہا ہے۔ نام نہاد زرعی ملک ہونے کے باوجود زیادہ تر اشیاء و اجناس درآمد کرنا پڑتی ہیں۔ سال 2022 کے سیلاب کے بعد پاکستان کی زراعت بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ جس کے باعث اجناس کی پیداوار میں خاطرخواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ جو اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنی ہے۔ ایک طرف ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام پر زرعی رقبے پر قبضے کی صورت میں زرعی رقبہ میں کمی واقع ہورہی ہے تو دوسری طرف تیزترین ماحولیاتی تبدیلیاں زراعت کے لئے ایک سنگین مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ زرعی رقبے میں کمی اور پیداوار میں کمی آنے والے دنوں میں انسانی ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کا باعث بنے گی۔ جو عام انسانوں اور محنت کش عوام کی زندگیوں کو مزید بربادی کی طرف دھکیل دے گی۔
پاکستانی ریاست کے حکمران دھڑوں اور اس کے معاشی/اقتصادی نظریہ دانوں کے پاس مشترکہ طور پر اس بحران سے نکلے اور مقابلہ کرنے کا صرف ایک حل ہے کہ عالمی سامراجی مالیاتی اداروں سے امداد کے نام پر مزید قرض حاصل کیا جائے اور ان سامراجی اداروں کی شرائط کے تحت محنت کش اور غریب عوام پر ٹیکسوں کی صورت میں مزید بوجھ ڈالا جائے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ حکمرانوں کے اس وقتی، جعلی اور مصنوعی حل کے ذریعے بحرانوں کو قابو نہیں کیا جارہا بلکہ ہر نیا قرض بحران کو مزید گہرا اور گھمبیر کرتا چلا جارہا ہے۔ اگر صرف گذشتہ 15 سالوں کی معاشی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو ایک چیز بہت واضح نظرآتی ہے کہ اس عرصے میں اقتدار پر براجمان تمام سیاسی پارٹیوں، انکی قیادتوں اور ان کے اقتصادی ماہرین نے دو کام تسلسل اور تواتر کے ساتھ سرانجام دیے ہیں۔ پہلا کام سامراجی ممالک اور ان کے مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کیا اور دوسرا اُن مالیاتی اداروں کی شرائط کی بنیاد پر محنت کش عوام کے ناتواں کاندھوں پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا گیا ہے۔

قرض اور ٹیکس میں اضافے کے رجحان کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 2011ء سے 2023ء تک فی کس قرض میں چھتیس فیصد اضافہ ہوا ہے یعنی 823 ڈالر فی کس سے بڑھ کر 1122 ڈالر فی کس ہوچکا ہے، یعنی 2011 میں پاکستانی شہری ستّرہزار روپے کا مقروض تھا جو آبادی میں بے تحاشا اضافے کے باوجود تین لاکھ اکیس ہزار روپے کا مقروض ہوچکا ہے۔ اس قرض کی خاص اور اہم بات یہ ہے کہ نا تو یہ قرض محنت کش عوام نے لیا ہے اور نا ہی یہ محنت کش عوام پر خرچ ہوا ہے۔ بلکہ یہ سارا قرضہ پاکستان کی سرمایہ دار اور جاگیردار حکمران اشرافیہ نے لے کر اپنی عیاشیوں پر خرچ کیا ہے۔ محنت کش طبقات کا اس قرض سے بس اتنا سا تعلق ہے کہ اس کی واپسی کی قیمت ان محنت کشوں کا خون نچوڑ کر ادا کی جاتی ہے۔ اس قرض کے نتیجہ میں نا ہی محنت کش عوام کی زندگیوں میں کوئی بہتری آئی ہے اور ناہی صنعت اور زراعت میں کوئی ترقی ہوئی ہے۔ بلکہ محنت کشوں کی زندگیاں بھی تاراج ہوئی ہیں اور صنعت و زراعت بھی گراوٹ کا شکار رہی ہے۔ 2011 سے 2023 تک ایک طرف قرض میں فی کس 36 فیصد اضافہ ہوا ہے تو دوسری طرف اسی عرصے کے دوران فی کس جی ڈی پی میں چھ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ قرضوں میں اِضافہ اور آمدن میں کمی کا رجحان پاکستان کی ریاست اور اس کے ناکام حکمران طبقات کو مجبور کرتا ہے کہ وہ مزید قرض لینے کے سفر کو تیزی کے ساتھ جاری رکھیں اور یہ عمل پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ گذشتہ 15 سالوں کے دوران پاکستان کے بیرونی قرضہ جات میں تقریباً 90 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

گذشتہ 15 سے 18 سالوں کے دوران پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں اقتدار کا حصہ رہی ہیں اور ہر آنے والی سیاسی پارٹی کی حکومت نے جانے والی سیاسی پارٹی کی حکومت سے دوگنا سے زائد قرض لیا ہے اور یہ عمل مزید شدت کے ساتھ جاری ہے جس کی واضح مثال یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بیرونی قرض میں ستائیس اعشاریہ سات فیصد اضافہ ہوا ہے جو کہ تقریباً چودہ ارب ڈالرز بنتا ہے اور اس عمل کو بھی رد از امکان نہیں کیا جاسکتا کہ اگلے ایک سال کے دوران 28 بلین ڈالر سے زائد کا قرضہ لیا جائے۔ اس وقت پاکستان پر کل بیرونی قرض 130 بلین ڈالر ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف کے پروگرام کی آخری قسط ایک اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی صورت میں جاری کی گئی ہے اور یہ پروگرام مارچ کے آخر پر اختتام پذیر ہوچکا ہے جب کہ ایک نئے قرض کے حصول کے لئے اپریل 2024 سے آئی ایم ایف کے ساتھ پھر سے مزاکرات جاری ہیں۔ یہ نیا پھندا تقریباً 6.6 بلین ڈالر کی مالیت کا ہوگا۔

صورت حال یہ ہے کہ قرض اور سود کی ادائیگی کے لئے مزید قرضہ لینا پڑ رہا ہے اور یہ عمل پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو مسلسل منفی کررہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرض کے مزید حصول کے لئے مزید کڑی شرائط مسلط کیے جائیں گے۔ حالات کی سنگینی اور صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آنے والے تین سالوں تک پاکستان کو ہر سال تقریباً 25 سے 30 بلین ڈالرز سود کی ادائیگی اور قرض کی واپسی کے لئے درکار ہوں گے۔ جب کہ اس وقت پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائرمحض 8 بلین ڈالرز تک محدود ہیں۔ لہٰذا قرض کی اس مے کو جاری رکھنے کے لئے مزید قرض کا حصول ایک ناگزیر اور نا ختم ہونے والا عمل بن چکا ہے۔ اور یہ عمل اس وقت بحران کا سب سے اہم موجب ہے۔
جس شدت کے ساتھ قرض میں اضافہ جاری ہے اس سے کئی گنا زیادہ اضافہ قرض کی سخت ترین شرائط میں بھی جاری ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کی سب سے پہلی شرط یہ ہے منڈی کی معیشت کے اُصول کے مطابق ریاست کا کام کاروبار کرنا یا انسانوں کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کرنا ہرگز نہیں ہے۔ لہٰذا پیداواری اور خدمات کے شعبوں میں سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل تیزتر کیا جائے اور ریاست، معیشت سے اپنے آپ کو کلی طور پر بے دخل کرکے اس کا مکمل انتظام سرمایہ داروں کے حوالے کر دے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ پیٹرولیم، گیس، بجلی اور اشیاء خور و نوش پر ٹیکس کی شرح کو بڑھایا جائے۔ تیسری شرط ہے کہ امیروں پر بھی ٹیکس لگایا جائے اور ریاستی اخراجات کے نام پر شاہ خرچیوں کو کم کیا جائے۔ پہلی دو شرائط کا تعلق محنت کش اور غریب عوام کے ساتھ ہے اس لئے ان کی تکمیل کے لئے حکمران طبقات کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں رکھتے اور اصلاحات کے نام پر ردِ اِصلاحات کے ذریعے اداروں کی نجکاری کی جاتی ہے۔ جبری برطرفیاں کی جاتی ہیں، مستقل روزگار کو ٹھیکیداری اور دیہاڑی داری میں تبدیل کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی عوام کے کاندھوں پر ٹیکسوں کے ذریعے مہنگائی کے بوجھ میں مسلسل اضافہ کیا جاتا ہے۔ جبکہ تیسری شرط کا تعلق ریاست کے مقتدر حلقوں اور حکمران اشرافیہ سے ہے۔ لہٰذا اس پر عمل درآمد کرنا سرمایہ دار اور جاگیر دار جرم تصور کرتے ہیں، لہٰذا وہ کیونکر اپنی شاہ خرچیوں کو کم کرنے اور اپنے اوپر ٹیکس عائد کرنے کا جرم کرسکتے ہیں؟ اسی تناظر میں ابھی تک یہاں ریئل اسٹیٹ پر ٹیکس نہیں نافذ ہوسکتا ہے۔ زرعی آمدنی پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوسکا ہے اور نا ہی آج تک ویلتھ ٹیکس کا نفاذ کیا جاسکا ہے۔ جہاں ٹیکس کا نفاذ ضروری ہے وہاں مکمل چھوٹ ہے اور اس کے برعکس جہاں چھوٹ کی ضرورت ہے وہاں بھرمار جاری ہے۔ یہی اس نظام سرمایہ داری کا حقیقی تضاد اور بحران بھی ہے۔

حل کیا ہے؟

جیسا کہ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ یہ دنیا ایک عالمی معاشی و سماجی نظام کے تابع چل رہی ہے، جسے سرمایہ دارانہ نظام کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں اور پاکستان میں جاری اقتصادی و مالیاتی بحران اس نظام کا پیدا کردہ ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی گزشتہ ایک صدی کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں نظر آتا ہے کہ 1917ء میں روس میں برپا ہونے والے سوشلسٹ انقلاب نے سرمایہ داری کو اس کی کمزور کڑی سے توڑ کر ایک متبادل معاشی و سماجی نظام کی بنیاد رکھی۔ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت کسی بھی سماج کے ذرائع پیداوار کی ملکیت نجی ہاتھوں کے کنٹرول میں ہوتی ہے۔ ذرائع پیداوار کی یہ نجی ملکیت پیداوار کے مقصد کو سرمایہ دار کے منافع اور شرح منافع میں اضافے کے قانون کے تابع رکھتی ہے۔ اس قانون کے تحت انسانی محنت کا استحصال کیا جاتا ہے اور قدر زائد پیدا کی جاتی ہے۔ یہ قدر زائد سماج میں طبقاتی خلیج میں اضافہ کرتی ہے اور دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ جب کہ آبادی کی اکثریت بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہوکر غربت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتی ہے۔

1917ء میں جس متبادل معاشی و سماجی نظام یعنی سوشلسٹ یا منصوبہ بند معیشت کی بنیاد رکھی گئی وہ سرمایہ دارانہ معیشت سے اس لئے مختلف تھی کیونکہ اس میں ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت کا خاتمہ کرتے ہوئے اسے محنت کشوں اور مزدوروں کے جمہوری اختیار میں لیا گیا اور پیداوار کا مقصد منافع اور شرح منافع میں اضافے سے تبدیل کرکے انسانی ضروریات کی تکمیل جیسے عظیم مقصد کے تابع کیا گیا۔ یہ عمل کسی روایتی طریقہ کار کے تحت سرانجام نہیں پایا یعنی کہ ایسا ہرگز نہیں ہوا کہ ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت رکھنے والے اپنی رضامندی اور خوشی سے یا کسی ووٹ کے ذریعے ملکیت سے دست بردار ہوئے ہوں۔ بلکہ یہ عمل غیر روایتی اور انقلابی طریق کار کے تحت سرانجام دیا گیا۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں اور محنت کش عوام نے ایک انقلابی تنظیم اور ایک انقلابی پارٹی کی قیادت میں یہ تاریخی کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے معیشت کے کلیدی حصوں، بڑی جاگیروں، بینکوں اور دیگر ذرائع پیداوار کو اپنے جمہوری کنٹرول میں لیتے ہوئے سیاسی اقتدار اپنے ہاتھوں میں لیا اور متبادل ریاست یعنی مزدور ریاست یا سوشلسٹ ریاست کی بنیاد رکھی۔ ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت کا خاتمہ اور پیداوار کے مقصد میں تبدیلی کے بعد بہت کم عرصے کے اندر ایسے معاشی معجزے دکھائے جو اس سے قبل تاریخ نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ اس کی خامیوں اور کمزوریوں پر الگ سے بات ہوسکتی ہے مگر ہم اسی متبادل معاشی و سماجی نظام کی دنیا بھر میں پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیں گے۔ 1917ء کے بعد دنیا بھر کے مظلوموں، محکوموں، مزدوروں، کسانوں اور نوجوانوں نے سرمایہ داری کے خلاف پے در پے بغاوتیں کی۔ کئی انقلابات ناکام ہوئے کچھ کامیاب بھی ہوئے مگر محنت کش طبقے کی اس طبقاتی جڑت اور اٹھان نے سرمایہ دارانہ ریاستوں کو مجبور کیا کہ وہ نظام سرمایہ داری کو قائم اور بحال رکھنے کے لئے محنت کش عوام کے حق میں اصلاحات کریں۔ سرمایہ دارانہ ریاستوں نے صنعت، زراعت اور خدمات کے شعبوں میں ریاستی سرمایہ کاری کا عمل دخل بڑھا کر اصلاحات کے ذریعے تحریکوں اور انقلابات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی اور کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔ تحریکیں ماند پڑنا شروع ہوئیں اور خاص کر سویت یونین کے انہدام کے بعد سرمایہ دارانہ ریاستوں نے محنت کش طبقات کو دی گئی حاصلات کو واپس چھیننا شروع کردیا۔ جس میں نجکاری کے ذریعے صنعت اور خدمات کے کلیدی حصوں کو واپس نجی سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں دے دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مستقل روزگار کے مواقعوں کا خاتمہ ہوا، پینشن کا خاتمہ، مفت تعلیم، مفت علاج، مفت سفری سہولیات، مفت رہائشی سہولیات کو چھیننا شروع کیا گیا اور اس وقت یہ عمل اپنی پوری شدت کے ساتھ اپنی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں خوراک، تعلیم، علاج، رہائش سمیت مستقل روزگار انسانیت کی اکثریت کے لئے ایک خواب بنتا جارہا ہے۔ اس سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہتے ہوئے بھی اگر پاکستان کے مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کی جائے تو اس کے لئے بھی نجی ملکیت کے خاتمے کی طرف بڑھنا پڑے گا، جیسا کہ بھٹو دور میں انقلاب کی ناکامی کے بعد اصلاحات کی گئی تھی۔ جاگیروں کی ملکیت تبدیل کرنے کی ایک کوشش کی گئی تھی، صنعت کو قومی یا ریاستی تحویل میں لیا گیا تھا، نجی تعلیمی اداروں، نجی اسپتالوں کو ریاستی انتظام میں لیا گیا تھا، بینکوں کو قومی تحویل میں لیا گیا تھا۔ اس طرح کے اقدامات کا مقصد یہ تھا کہ پیداوار کو ریاستی کنٹرول میں لے کر انسانی ضروریات کی تکمیل کو کسی حد تک پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔ لیکن 1917ء کے انقلاب کے تحت ذرائع پیداوار کو مزدوروں کے جمہوری انتظام دینے کی کوشش کا آغاز ہوا تھا۔ جب کہ پاکستان میں ذرائع پیداوار کو سرمایہ دارانہ ریاست کے انتظام میں لیا گیا تھا۔ اس عمل کے ذریعے سرمایہ دارانہ ریاست کی بیوروکریسی نے سارا انتظام اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور پوری معیشت کو بدعنوانی کے ایسے گھن چکر میں ڈال دیا کہ آج ریاستی تحویل میں چلنے والا کوئی بھی ادارہ منافع میں نظر نہیں آتا اور خساروں کو جواز بنا کر انہی اداروں کو واپسی نجی ہاتھوں میں دیا جارہا ہے۔

ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت اور قومی اداروں کی نجکاری کے ذریعے اگر ادارہ منافع بخش یونٹ بن بھی جاتا ہے تو اس کا فائدہ سماج کی اکثریت کو کم جبکہ نجی سرمایہ داروں کو زیادہ پہنچتا ہے۔ دولت کے نجی ہاتھوں میں ارتکاز کے ذریعے سماج میں موجود بنیادی انسانی مسائل کا خاتمہ ممکن نہیں بلکہ اس عمل کے نتیجے میں سماجی مسائل میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ اس بنیاد پر اگر دیکھیں تو آج بھی پاکستان کے اندر چند بڑی کمپنیوں اور چند بڑے اور دولتمند خاندانوں کے پاس اتنی دولت ہونے کے باوجود ملکی مسائل حل ہونے کی بجائے مزید بگڑتے جارہے ہیں۔ جب تک ذرائع پیداوار کی ملکیت کو نجی ہاتھوں کے چنگل سے آزاد نہیں کروایا جاتا اس وقت تک موجودہ مسائل کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔

آج بھی یہ عمل کسی روایتی طریقہ کار یا سرمایہ دارانہ نظام کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے ممکن نہیں۔ اس تاریخی فریضے کو سرانجام دینے کے لئے غیر روایتی اور اس نظام کے خلاف بھرپور انقلابی طریقہ کار اور پالیسیاں اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ یہ غیر روایتی اور انقلابی طریقہ کار ہی کے تحت ہوسکتا ہے جس کے تحت: اوّل۔ صنعت اور زراعت سے وابستہ ذرائع پیداوار یعنی تمام بڑی فیکٹریوں اور بڑی جاگیروں کو کسانوں، مزدورں اور محنت کش عوام کے جمہوری انتظام میں لیا جائے۔ دوم۔ تمام نجی بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کو بھی مزدوروں اور محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں لیا جائے۔ سوم۔ خدمات کے شعبے کے تمام بڑے حصوں یعنی نجی تعلیمی اداروں، نجی اسپتالوں، نجی ائیرلائنوں، بڑی ٹرانسپورٹ کمپنیوں، بڑے شاپنگ مالز اور پلازوں اور بڑی رہائشی سوسائٹیوں کو بھی عوام کے جمہوری کنٹرول میں لیاجائے۔

جب تک پاکستان کے کسان، مزدور، محنت کش عوام اور نوجوان اپنے آپ کو بطور طبقہ منظم نہیں کرتے اور سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ سماج اور نظام کے خلاف منظم لڑائی اور بغاوت کا آغاز نہیں کرتے اس وقت تک یہ غیر روایتی طریق کار اور انقلابی اقدامات نہیں اُٹھائے جاسکتے۔ کیونکہ یہ سماجی قانون ہے کہ جو قوت اور طاقت کسی سماج اور نظام کو چلا رہی ہوتی ہے وہی قوت اور طاقت اس نظام کو روکنے کی سکت بھی رکھتی ہے اور اس نظام کو ایک نئے نظام میں بدلنے کی صلاحیت بھی اسی قوت و طاقت کو حاصل ہوتی ہے۔ یقینی طور پر اس سماج و نظام کو چلانے کی طاقت اور قوت کسانوں، مزدوروں اور خدمات کے شعبے سے منسلک محنت کش عوام کے ہاتھوں میں ہے۔ لہٰذا سماج کے یہی طبقات اس نظام کو بدلنے اور نئے نظام کی بنیادیں رکھنے کی صلاحیت اور طاقت کے ساتھ ساتھ تاریخی جرات بھی رکھتے ہیں۔ گو کہ آج کے عہد میں ہمیں یہ طاقت بہت منتشر اور کمزور حالت میں نظر آرہی ہے لیکن کوئی حادثہ،کوئی واقعہ اس طاقت کو یکجا کرتے ہوئے نظام کے خلاف فیصلہ کن بغاوت کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ لیکن جب تک اس سماجی طاقت کے پاس اپنی سیاسی طاقت کے اظہار کے لئے ایک متبادل سیاسی و نظریاتی اور انقلابی تنظیم اور پارٹی موجود نہیں ہوگی تب تک اس نظام کی مکمل جراحی ممکن نہیں اور جراحی کے بغیر سرمایہ داری کے اس سرطانی پھوڑے کا خاتمہ اور علاج ممکن نہیں۔ لہٰذاآج کے عہد میں وقت بہت صبر اور جرات و حوصلے کے ساتھ سرمایہ داری کو بے نقاب کرتے ہوئے محنت کش طبقات اور نوجوانوں کو سوشلزم کے متبادل نظریات پر جیتنا اور انہیں منظم کرنا ہی سب سے بڑا تاریخی فریضہ ہے۔ جسے ہمیں ہر حال میں پورا کرنا ہوگا کیونکہ آج انسانیت کے پاس واضح طور پر دو ہی راستے بچے ہیں؛

”بربریت یا سوشلزم“

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے