جموں و کشمیر کے پہاڑوں سے ابھرنے والی فتح مند سرکشی جاری

رپورٹ: احسن آفتاب / خواجہ حسان

خطہ جموں وکشمیر کے بہادر اور مزاحمتکار عوام ناقابلِ مصالحت سیاسی جدوجہد کی تاریخ کے امین ہیں اور یہ عوامی جدوجہد لازوال قربانیوں سے بھی عبارت ہے۔ اِسی پس منظر میں پاکستان کے زیر انتظام جموں وکشمیر میں5 اگست 2019ء کے بھارت سرکار کے جابرانہ و غاصبانہ قبضے کو مستقل شکل دینے کے اقدامات کے خلاف اسلام آباد اور مظفرآباد کے حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی کے خلاف عوامی غم و غصہ سے بھرپور احتجاجی اور مزاحمتی عمل پچھلے کئی سال سے مسلسل چلتا رہا ہے۔ ایک طرف ان احتجاجوں کا محور قومی محرومی اور نوآبادیاتی تسلّط کے خلاف رہا تو دوسری طرف نیو لبرل معاشی پالیسیوں کے نتیجہ میں عوام پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بوجھ کے خلاف بھی عوامی مزاحمت جاری رہی۔ تحریکیں ابھرتی رہیں، ناکام ہوتی رہیں اور ان ناکامیوں سے اسباق حاصل کرتے ہوئے مزید منظم انداز میں نئے سرے سے ابھرتی رہیں۔ پیپلز نیشنل الائنس 2019-20ء اور آل پارٹیز پیپلز رائٹس فورم (2021-22ء) کی قیادت میں دونوں تحریکیں کامیاب تو نہ ہو سکیں مگر ان تحریکوں نے اجتماعی عوامی سیاسی شعور کی بیداری میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اسکے بعد بھی ضلع پونچھ میں کسی نہ کسی شکل میں آٹے اور بجلی کے ایشوز پر احتجاجی مظاہرے اور دھرنے جاری رہے اور علاقائی عوامی ایکشن کمیٹیوں کا قیام عمل میں آتا رہا۔ اس پورے مزاحمتی عمل سے بڑھتے ہوئے سیاسی شعور کی بدولت ہی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (2022-23ء) کی بنیاد رکھی جا سکی۔

مئی 2023ء میں آٹے کی قیمت میں 600 روپے فی من اضافے کے خلاف راولاکوٹ میں احتجاجی دھرنے کا آغاز ہوا۔ آگے چل کر بجلی کی قیمت میں ظالمانہ و جابرانہ ٹیکسوں کے ذریعے بے پناہ اضافے کے خلاف پایا جانے والا غم و غصہ بھی تحریک کا حصہ بن گیا۔ یہ دھرنا پہلے پہل ضلع پونچھ میں ایک بار پھر سے عوامی تحریک کے آغاز کا سبب بنا جس نے آگے چل کر پاکستان کے زیر انتظام پورے کشمیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پاکستان کے زیر انتظام پورے کشمیر سے تاجروں، ٹرانسپورٹروں، وکلاء، سیاسی و سماجی کارکنوں اور طلباء پر مشتمل ایک اجلاس میں ”جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی“ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس تیس رکنی مرکزی کمیٹی میں ہر ضلع سے تین ممبرز لئے گئے جن میں ایک ممبر انجمن تاجران، ایک ٹرانسپورٹ یونین اور ایک ممبر باقی پرتوں (وکلاء، سیاسی و سماجی کارکنان اور طلباء) سے لیا گیا۔ ایک مفصل چارٹر آف ڈیمانڈ تیار کیا گیا جس کے تین بنیادی مطالبات سب سے اہم تھے۔

(۱)آٹے پر سبسڈی کی بحالی۔(۲) بجلی کی قیمت کا پیداواری لاگت پر تعین۔(۳)حکمران اشرافیہ اور بیوروکریسی کی ناجائز مراعات کا خاتمہ۔

یہ تینوں مطالبات اپنے اندر طبقاتی اساس کے حامل ہیں اور سماج کی اکثریت سے براہ راست جڑے ہیں۔ اس لئے اس تحریک کا کردار پہلے پہل طبقاتی ہے کیونکہ عوام براہ راست حکمران طبقات کو چیلنج کر رہے تھے۔ چونکہ جموں کشمیر متنازعہ حیثیت کا حامل خطہ ہے اس لئے یہ مطالبات کسی نا کسی طرح سے قومی مسئلے کے ساتھ بھی جڑے ہوئے ہیں۔ یوں یہ دونوں مطالبات کسی نہ کسی طرح اسلام آباد سے جڑے ہوئے تھے اور اسی بنیاد پر قومی جذبات بھی تحریک پر حاوی رہے۔ اگلے مرحلے میں شہر شہر، گاؤں گاؤں، محلہ محلہ احتجاجی کیمپ لگنا شروع ہو گئے اور ایکشن کمیٹی کے فیصلہ کے مطابق عوام کی اکثریت نے بجلی بل بائیکاٹ کا آغاز کر دیا اور احتجاجی مظاہروں میں اجتماعی طور پر کروڑوں روپے مالیت کے بجلی بلوں کو جلانا اور دریا برد کرنا شروع کر دیا۔ ریاست بھر میں پہیہ جام، شٹرڈاؤن، طلباء کے مظاہروں اور خاص کر خواتین کے مظاہروں نے اس تحریک میں نئی روح پھونکی اور اکتوبر 2023ء تک سماج کی تمام پرتیں سیاسی طور پر انتہائی متحرک ہو چکی تھیں۔ ریاست نے تشدد سے لیکر گرفتاریوں تک اور ریاستی پروپیگنڈہ سے لیکر انتظامیہ کے زیرسایہ اقتدار پرست سیاسی ٹھگوں کے ذریعے تحریک کو کمزور کرنے، بدنام کرنے اور توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر عوام کا شعور ہر واقعہ کے بعد ایک نئی چھلانگ لگا کر آگے بڑھتا رہا اور عوام مزید منظم ہوتی رہی۔ اقتدار پرست تمام سیاسی پارٹیوں کی قیادت تحریک کے خلاف یک زبان رہی جبکہ ان پارٹیوں کے باشعور سیاسی کارکنان نے پارٹیوں کے احکامات کے برخلاف عوام کے ساتھ کھڑا رہنے کو ترجیح دی۔ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان مزاکرات کا آغاز ہوا اور حکومت نے تمام مطالبات کو درست اور جائز تسلیم کرتے ہوئے مطالبات کے حل کے لئے وقت لیا مگر مقررہ وقت گزرنے کے بعد بھی مظفرآباد کے حکمرانوں کے کسی وعدے پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ تحریک نے اس وقت ایک نیا موڑ لیا جب 5 فروری 2024ء کو مزاکرات کے ذریعے ایک حکومتی نوٹیفیکشن سامنے آیا اور ایکشن کمیٹی نے رات گئے پہیہ جام ہڑتال کی کال واپس لینے کا اعلان کیا۔ عوام نے 5 فروری کو رضاکارانہ پہیہ جام ہڑتال کے ذریعے اور اپنے تاریخی احتجاجوں میں نعروں اور تقاریر کے ذریعے نوٹیفیکشن کو یکسر مسترد کر دیا اور عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت پر شدید دباؤ بڑھا کر یہ ثابت کیا کہ عوام، کمیٹی قیادت سے بہت آگے نکل چکے ہیں اور مطالبات کی حتمی اور مکمل منظوری کے بغیر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ عوام کو اس قدر منظم کرنے کے پیچھے جس عنصر کا بنیادی کردار رہا وہ بجلی بل بائیکاٹ تھا۔ لہٰذا لڑائی لڑنے اور لڑائی کو جیتنے کے علاوہ دوسرا کوئی آپشن ناقابل عمل بن چکا تھا۔

عوامی ردعمل اور حکومتی ٹال مٹول کے باعث ایکشن کمیٹی نے 11 مئی 2024ء کو بھمبر سے مظفرآباد عوامی لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ حکومت نے مارچ کے خلاف پروپیگنڈے، سازشیں اور ریاستی اقدامات اٹھانا شروع کر دیے۔ میرپور ڈویژن جہاں سے مارچ کا آغاز ہونا تھا وہاں 8 مئی کو تحریک کی قیادت کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں جسکے ردعمل میں 9 مئی کو پوری ریاست میں احتجاجی مظاہروں کی کال دی گئی، ڈڈیال شہر میں پولیس نے مظاہرین پر تشدد کیا اور شیلنگ کی گئی جس سے سکول کی بچیاں متاثر ہوئیں۔ جسکے جواب میں عوام نے پولیس اور انتظامیہ کو سخت ردعمل دیتے ہوئے پولیس اور AC ڈڈیال کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس ریاستی حملے کے بعد مرکزی ایکشن کمیٹی نے مکمل لاک ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی کال دے دی۔ مارچ کو روکنے کے لئے حکومت نے میرپور ڈویژن میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی، مختلف مقامات پر پولیس، ایف سی، پی سی تعینات کی اور مظفراباد میں رینجرز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔ ایف سی، پی سی اور رینجرز کی تعیناتی کے فیصلے نے عوام کو مزید مشتعل کیا۔ حکومت کا اندازہ تھا کہ میرپور ڈویژن سے شاید زیادہ عوام نہیں نکلے گی اور انہیں طاقت کے زور پر روک کر مارچ کو ناکام بنا دیا جائے گا مگر 11 مئی کو ہزاروں افراد انتہائی عزم و حوصلے اور مرنے مارنے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہوکر سڑکوں پر نکل آئے۔ یوں سب تجزیے تبصرے اور اندازے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ ریاستی تشدد کی ناکام کوشش کے بعد حکومت کو اندازہ ہوگیا کہ اب عوامی طاقت کو ریاستی طاقت کے ذریعے روکنا مشکل ہوگا، لہٰذا پونچھ ڈویژن میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کی گئی۔ مارچ میں قافلے شامل ہوتے گئے اور تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوتا چلا گیا۔ مارچ جس جس شہر سے گزرا ہزاروں کی تعداد میں عوام نے والہانہ استقبال کیا۔ کھانے پینے سے لیکر رہائش کے بندوبست تک عوام نے جس قدر مہمان نوازی، اپنائیت اور اجتماعیت کا مظاہرہ کیا وہ بے مثال اور تاریخی تھا۔ ان تمام تاریخی واقعات و لمحات کو دنیا کی نظر سے اوجل رکھنے کے لیے انٹرنیٹ سروس کی بندش کی گئی۔ جب ہزاروں افراد پر مشتمل عوامی مارچ راولاکوٹ شہر میں پہنچا تو ایک بار پھر ریاستی اداروں کے ساتھ مزاکرات کا دور چلا جو ناکام رہا اور مارچ مظفرآباد کی طرف روانہ ہوگیا۔ دھیرکوٹ کے مقام تک مارچ میں میرپور اور پونچھ ڈویژن کے تمام قافلے جمع ہوچکے تھے، عوام پرجوش اور پرعزم تھے اور ان تاریخی لمحات سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ مارچ ایک جشن اور میلے کا سا سماں پیش کر رہا تھا۔ جبکہ مظفرآباد ڈویژن سے ہزاروں کی تعداد میں قافلے شہر اقتدار کی طرف چل پڑے تھے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس مارچ میں 50 ہزار سے زائد لوگوں نے عملاً شرکت کی جبکہ ریاست بھر میں لاکھوں کی تعداد میں عوام مختلف طریقوں سے اس تحریک کے ساتھ جڑے رہے تو یہ کوئی مبالغہ آرائی ہرگز نہ ہوگی۔

مارچ کا قافلہ ابھی مظفرآباد کی حدود میں داخل نہیں ہوا تھا کہ ریاست و حکومت نے عوامی طاقت کے سمندر کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک دیے اور تحریک کے دو بنیادی مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے بجلی اور آٹے سے متعلق دو حکومتی نوٹیفکیشن سامنے آئے، جن میں بجلی اور آٹے کی نئی قیمتوں کا تعین کیا گیا۔ آٹے کی نئی قیمت 2000 روپے فی من مقرر ہوئی اور بجلی کی نئی قیمتیں کچھ اس طرح مقرر ہوئیں: گھریلو بل: 3 سے 5 روپے فی یونٹ، کمرشل بل: 15 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی۔ نوٹیفکیش کے بعد بھی عوام ہرحال میں مظفرآباد جانا چاہتے تھے عوام نے ایک بار پھر طاقت اپنے ہاتھ میں لے لی تاکہ تحریک کی فتح کا جشن شہر اِقتدار میں منایا جائے۔

چونکہ مظفرآباد 8 مئی سے ہی سری نگر بنا ہوا تھا مسلح پولیس اور نہتے نوجوانوں کے درمیان شدید چھڑپیں چل رہی تھیں، ماحول میں تناؤ تھا اور اسی تناؤ اور چھڑپوں کے دوران نوٹیفکیشن ہو جانے کے بعد پاکستان رینجرز نے متعدد نوجوانوں کو سیدھی گولیاں چلا دی جس سے تین نوجوان شہید ہوگئے اور متعدد زخمی ہو گے۔ یوں ایک کامیاب تحریک کو خون میں نہلا کر یہ پیغام دیا گیا کہ ریاست خیرات میں کچھ نہیں دیتی، حق مانگنا ہے تو جان ہتھیلی پر رکھ کر مانگو۔ رات گئے ایکشن کمیٹی کی قیادت نے نوٹیفکیشن کا جائزہ لیکر مارچ کے خاتمے اور شہادتوں پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ اگلے دن یونیورسٹی گراؤنڈ میں شہدائے تحریک کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کر کے تحریک کے ساتھ اپنی وابستگی ظاہر کی۔ یوں کشمیر بھر کے محنت کش عوام اپنے فتح مند قدموں اور افسردہ دلوں کے ساتھ اپنے اپنے شہروں کو واپس روانہ ہوئے جہاں انکے والہانہ استقبال اور اظہار تشکر کی ریلیاں اور پروگرامات جاری ہیں۔ 27 مئی کو اسیران کی غیرمشروط رہائی کےلیے پھر کشمیر بھر میں مظاہرے کیے گے۔ اس کے بعد میرپور سے گرفتار تحریک کے تین کارکنوں کو رہا کر دیا گیا جبکہ 4 لوگ اب بھی پابند سلاسل ہیں۔ 8 اور 9 جون کو ضلع سدھنوتی کے سیاحتی مقام "چار بیاڑ” میں منعقدہ فیسٹیول کے موقعہ پر وزیر حکومت کی طرف سے سیاسی نعرے بازی کی گئ جسکے ردعمل میں دوسری طرف سے بھی نعرہ بازی شروع ہوئی اور منسٹر کے ڈنڈا بردار اور اسلحہ بردار غنڈوں نے پولیس کی موجوگی میں نہتی عوام تشدد اور فیسٹیول سے واپسی پر انہی غنڈوں نے ایکشن کمیٹی کے ممبران کی گاڑیوں کو روک کر تشدد کا نشانہ بنایا اور فائرنگ کی۔ اس واقعہ کے خلاف ایکشن کمیٹی کے قائدین تھانہ بلوچ میں درخواست دینے گۓ تو پولیس نے انکو گرفتار کر کے جھوٹی اور بے بنیاد ایف آئی آر درج کر لی۔ ایف آئی آر میں تھانے پر حملے اور توڑ پھوڑ کے بے بنیاد الزامات لگاۓ گے ہیں۔ ان گرفتاریوں کے خلاف اور اسیران تحریک کی غیرمشروط رہائی کے لیے 13 جون کو پونچھ ڈویژن نے ضلع سدھنوتی کے ہیڈکوارٹر پلندری کی طرف مارچ کا اعلان کیا گیا اور پلندری میں پونچھ ڈویژن سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہوۓ اور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اسی دوران اسیران کو پصندری سے کوٹلی شفٹ کر دیا گیا تو ایکشن کمیٹی نے مارچ کا رخ پلندری سے کوٹلی کی طرف موڑ دیا۔ آج کوٹلی شہر کے شہید چوک میں عوام کا جم غفیر موجود ہے اور ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ اگر کل دن 12 بجے تک تمام اسیران کو غیرمشروط رہا نہیں کیا جاتا تو پھر مظفرآباد یا کسی اور مقام کی طرف مارچ کا اعلان کر دیا جاۓ۔ یعنی تحریک ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ وہ اپنی پہلی تاریخی فتح سے شکتی لے کر آگئے بڑھنے کو تیار ہے۔ اس تحریک کی حاصلات ایک طرف معاشی ہیں تو دوسری طرف سیاسی و سماجی ہیں۔ عوام میں اجتماعی جدوجہد، مزاحمت اور مشترکہ مسائل کے گرد منظم لڑائی لڑنے کا شعور ایک جست کے ساتھ آگے بڑھا ہے اور کئی دہانیوں کا سفر چند دنوں میں طے ہوتا ہوا نظر آیا ہے۔ یقیناً جموں و کشمیر کی یہ فتح مند تحریک ناصرف کشمیری محنت کش عوام کو نئی تحریکوں کے آغاز اور کامیابی کا حوصلہ مہیا کرے گی بلکہ برصغیر اور دنیا بھر کے محنت کش عوام کے لئے ایک متبادل بحث اور جدوجہد کے لیے عزم و حوصلے اور جرات کا باعث بنی گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے