اداریہ: امریکی طلباء کی احتجاجی تحریک

اداریہ جدوجہد

امریکی طلباء کی غزہ جنگ کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز اپریل کے وسط میں ہوا۔ یہ تحریک کولمبیا یونیورسٹی نیویارک سے شروع ہوئی اور جلد ہی ستر سے زائد یونیورسٹیوں اور کالجوں تک پھیل گئی۔ ہزاروں طلباء نے تین ہفتوں تک مختلف یونیورسٹیوں میں فلسطین کے حق میں، غزہ جنگ اور صیہونی بربریت کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ طلباء کی احتجاجی تحریک میں شدت اس وقت آئی جب 17 اپریل کو طلباء نے کولمبیا یونیورسٹی میں احتجاجی کیمپ لگایا اور کئی عمارتوں پر فلسطین کا پرچم لہرایا۔ اس احتجاج میں طلباء اور اساتذہ دونوں شامل تھے۔ کولمبیا یونیورسٹی کی احتجاج کے حوالے سے اپنی ایک تاریخ ہے۔ ویت نام کی جنگ کے خلاف مظاہرے ہوں یا سول رائٹس موومنٹ کے حق، اس یونیورسٹی کے طلباء ہمیشہ ہراول کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ویت نام جنگ کے خلاف تحریک کا اہم مرکز کولمبیا یونیورسٹی تھی۔ ہزاروں طلباء نے یونیورسٹی کی پانچ عمارتوں پر قبضہ کرلیا تھا جو کئی دنوں تک برقرار رہا۔

اس تاریخ کو مدِنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ نے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے پولیس طلب کی۔ پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے پرامن مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور 108 طلباء کو گرفتار کرلیا۔اس پولیس ایکشن کا مقصد تو تحریک کے پھیلاؤ کو روکنا تھا مگر اس کے نتیجے میں تحریک دیگر تعلیمی اداروں تک پھیل گئی۔ ایک کے بعد دوسری یونیورسٹی انتظامیہ نے پولیس کی مدد سے احتجاجی تحریک کو کچلنے کی کوشش کی مگر انتظامیہ کو اس مقصد میں کامیابی نہ مل سکی۔ 2700 سے زائد طلباء کو گرفتار کرلیا گیا جب کہ متعدد پروفیسرز بھی گرفتار کئے گئے۔ درجنوں طلباء کو یونیورسٹیوں سے معطل کردیا گیا یا نکال دیا گیا۔ حکومت اور انتظامیہ تحریک کے پھیلاؤ سے خوفزدہ تھے اسی لئے طاقت کے استعمال سے طلباء تحریک کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ مگر جبر اور تشدد کے نتیجے میں تحریک کمزور نہ ہوئی۔ پولیس کی طرف سے تشدد اور طاقت کا استعمال طلباء میں ریڈیکلائزیشن کو پھیلا رہا ہے۔ امریکہ میں پرجوش سیاسی کارکنوں کی نئی کھیپ اُبھر کر سامنے آئی ہے، وہ جدوجہد کے میدان میں اُترے ہیں۔

طلباء کی اس تحریک نے امریکی سرمایہ دارانہ ریاست کا اصل چہرہ بھی بے نقاب کیا ہے۔ امریکی عہدیدار، حکمران اور نمائندے پوری دنیا کو جمہوریت، انسانی حقوق اور اظہارِ رائے کے حق پر لیکچر دیتے ہیں۔ وہ امریکہ کے علاوہ پوری دنیا میں پرامن احتجاج کی حمایت کرتے ہیں۔ مگر جب امریکہ میں فلسطین کے حق میں مظاہرے ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تحریک نے امریکی سرمایہ داری کا اصل چہرہ بے نقاب کیا ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ، حکومتی عہدیداران، میڈیا، دائیں بازو کے دانشور اور ری پبلکن پارٹی کے راہنماؤں نے طلباء تحریک کے خلاف نہایت ہی جارحانہ پروپیگنڈہ مہم چلائی۔ فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کی مخالفت کو یہود مخالفت قرار دیا۔ اسرائیل کی فاشسٹ حکومت کے جبر، وحشت اور بربریت کو یہودیوں کی نفرت قرار دے کر پروپیگنڈہ کیا گیا۔ یہ پروپیگنڈہ اس حقیقت کے باوجود کیا گیا کہ مظاہروں میں یہودی طلباء بھی موجود تھے۔ یہ تحریک یہودیوں کے خلاف نہیں تھی بلکہ اسرائیل کی صیہونی ریاستی پالیسیوں کے خلاف تھی۔ اس پروپیگنڈے کے ذریعے تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی مگر یہ کوشش زیادہ کامیاب نہ ہوسکی۔ امریکہ کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں طلباء مظاہرے کوئی نیا مظہر نہیں ہیں۔ امریکہ میں طلباء احتجاج کی ایک شاندار تاریخ ہے۔ امریکی طلباء نہ صرف اپنے کیمپس کے مسائل پر احتجاج کرتے ہیں بلکہ وہ جنگوں معاشی و سماجی ناانصافی اور نسل پرستی کے خلاف بھی جدوجہد کرتے آئے ہیں۔ ویت نام جنگ کے خلاف طلباء کی تحریک ایک وسیع البنیاد عوامی تحریک میں تبدیل ہوگئی تھی جس نے امریکی حکومت کو مجبور کردیا تھا کہ وہ ویت نام سے فوج کو واپس بلائے۔ طلباء نے 1967-68 کی سول رائٹس تحریک میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

امریکی طلباء نے ایک بار پھر بین الاقوامیت اور یکجہتی کا شاندار مظاہرہ کیا ہے۔ جس کے اثرات امریکی سیاست پر واضح طور پر مرتب ہوں گے۔ ویت نام جنگ کے خلاف تحریک ایک بڑی عوامی تحریک میں تبدیل ہوگئی تھی۔ مگر موجودہ طلباء تحریک ابھی تک ایک وسیع عوامی تحریک میں تبدیل نہیں ہوسکی۔ امریکی تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے یہ تحریک کمزور پڑگئی ہے اور اس کی شدت میں کمی آئی ہے، جب کہ دوسری طرف مختلف یونیورسٹیاں احتجاجی طلباء کے ساتھ معاہدے کررہی ہیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے تعاون کو کم کریں گی۔ اسرائیلی فنڈنگ کے حوالے سے شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ اسرائیل کی فوجی کمپنیوں کے ساتھ تحقیق اور تعاون کو کم کیا جائے گا۔ ان معاہدوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تحریک کا کتنا دباؤ موجود ہے۔ مختلف یونیورسٹیاں اور کالجز معطل اور نکالے گئے طلباء کو بحال بھی کررہے ہیں تاکہ تحریک کی شدت کو کم کیا جاسکے۔

امریکی طلباء درست طور پر یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ غزہ جنگ میں امریکہ کی مالیاتی اور فوجی مدد کو بند کیا جائے۔ امریکہ کی مالی مدد اور اسلحے کی فراہمی اسرائیل کے لئے اشد ضروری ہے۔ غزہ کی جنگ میں امریکی سرمائے اور اسلحے کا بہت اہم کردار ہے۔ امریکہ اسرائیل کے لئے اب تک 35 ارب ڈالر کی امداد کی منظوری دے چکا ہے۔ امریکہ اسرائیل کو اس کی ضروریات کا 65 فیصد اسلحہ فراہم کرتا ہے جب کہ جرمنی 30 فیصد اور اٹلی 5 فیصد ہتھیار فراہم کرتا ہے۔ اسرائیل جو کچھ غزہ میں کررہا ہے وہ امریکی مدد کے بغیر کرنا ممکن نہیں ہے۔

امریکہ سمیت دنیا بھر میں غزہ جنگ کی مخالفت بڑھ رہی ہے مگر زیادہ تر سامراجی حکومتیں اس جنگ کی حمایت کررہی ہیں اور اسرائیل کی مدد کررہی ہیں۔ عوام کی بڑی تعداد کے جذبات اپنے حکمرانوں کی پالیسیوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ اسرائیل کی دنیا بھر میں اتنی مخالفت پہلے کبھی نہ تھی جو اس وقت ہے۔ اسی طرح امریکہ کو بھی دنیا بھر میں مخالفت کا سامنا ہے۔ عالمی رائے عامہ مظاہروں اور امریکی طلباء کی تحریک کے باعث تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ فلسطین کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے جب کہ اسرائیل اور اس کے مغربی اتحادیوں کے خلاف نفرت اور غصہ بڑھ رہا ہے۔ امریکی طلباء نے ساری دنیا کے لئے ایک بہترین مثال قائم کی ہے۔ وہ اپنی ٹیوشن فیس میں کمی اور دیگر مسائل کے لئے نہیں لڑے بلکہ انسانیت، انسانی حقوق، جمہوریت اور انسانی برابری کے اعلیٰ آدرشوں کے لئے لڑے ہیں۔ امریکی طلباء کی یہ تحریک مستقبل کی تحریکوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ نوجوان، محنت کش، طلباء، کسان اور خواتین ایک نئی انگڑائی لینے کو ہیں۔ ان کی نئی پرتیں جدوجہد کے میدان میں اُترنے کو تیار ہیں۔ ان تحریکوں کے نتیجے میں عالمی منظرنامے میں نمایاں تبدیلیوں کے امکانات موجود ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے