پاکستانی معیشت اور سماج کی تباہی کی داستانِ مسلسل

تحریر: کبیر خان

جب 1947ء میں پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو اس نومولود ریاست کے حصے میں کوئی خاطر خواہ صنعتی حصہ نہیں آیا کیونکہ برطانوی نوآبادیات کے عہدوں میں جن علاقوں میں صنعتیں لگائی گئی تھیں، بٹوارے کے دوران ان علاقوں کا زیادہ تر حصہ ہندوستان کے حصے میں چلاگیا۔ اس لئے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے اسے بڑے پیمانے کی صنعت کاری کی اشد ضرورت تھی۔ لیکن پرائیویٹ سیکٹر اس شعبے میں سرمایہ کاری سے کترا رہا تھا، کیونکہ بڑے کاروباری گروہ دراصل تاجر تھے۔ وہ صنعت کاری کے لئے درکار مہارت اور صلاحیت سے محروم تھے اور صنعت کاری کے لئے درکار ٹیکنیکل علم سے بھی بے بہرہ تھے۔ اس سب کے باوجود حکومت وقت نجی شعبے کو صنعت کاری میں شریک کرنے کی شدید خواہاں تھی۔ جس کی بدولت اس نے نجی شعبے کو بڑے پیمانے کی مراعات کی پیش کش بھی کی، لیکن اس کے باوجود نجی شعبے کی جانب سے صنعت کاری میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے کوئی خاطر خواہ ردِعمل نہ آیا کیونکہ ان تاجروں کے لئے اس وقت تجارت میں زیادہ منافع موجود تھا بالخصوص 1950ء تا 1953ء کی جنوبی کوریا، شمالی کوریا جنگ کے دوران ان تاجروں کو بے تحاشا دولت کمانے کا موقع میسر آیا۔ پاکستان کے جنم کے ساتھ ہی سوویت یونین کے سربراہ جوزف اسٹالن نے پاکستان کو سوویت بلاک کا حصہ بننے کی دعوت بھی دی لیکن پاکستانی حکمرانوں نے اس دعوت کو عملأ مسترد کردیا۔ 25 جون 1950ء کو شروع ہونے والی جنوبی کوریا اور شمالی کوریا جنگ نے پاکستانی حکمرانوں کے اس سرد جنگ میں امریکی سرمایہ دار بلاک کا حصہ بننے کے ارادوں کو بالکل واضح کردیا۔ جس کے باعث پاکستانی ریاست، امریکہ کی ایک طفیلی ریاست کے روپ میں ڈھلنا شروع ہوگئی اور اپنی اس تابعداری کے عوض پاکستانی ریاست کو امریکی ملٹری امداد ملنا شروع ہوئی جس سے پاکستانی معیشت کو ابتدائی طور پر خاصا عروج نصیب ہوا۔ امریکی سامراج نے پاکستانی ریاست کے ساتھ سوویت یونین اور چین کے سوشلسٹ نظریات کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اور جنوبی ایشیاء میں ہندوستان کے خلاف توازن قائم کرنے کی غرض سے دوطرفہ دفاعی اور سیکورٹی کے معاہدے کئے۔ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا جنگ میں امریکی بلاک کا حصہ بننے کے باعث ہی پاکستان اور امریکہ بعد ازاں دو مزید دفاعی معاہدے 1954ء میں سیٹو (SEATO) اور 1955ء میں سینٹو (CENTO) کرنے کے قابل ہوئے۔ جنوبی کوریا، شمالی کوریا جنگ دراصل پاکستانی صنعت کے آغاز کے لئے ایک فیصلہ کن آغاز تھا کیونکہ اس جنگ میں پاکستانی تاجروں، عسکری و سول افسر شاہی، حکمران طبقات اور ریاست نے جو دولت کمائی تھی، وہی دولت ریاست کی معاونت سے صنعت میں لگائی جانی تھی اسی وجہ سے پاکستان انڈسٹریل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کا پبلک سیکٹر کے تحت صنعت کاری کرنے میں ایک کلیدی کردار رہا اور بعد ازاں یہی صنعتیں جب منافع بخش ہوتی چلی گئیں، تو انھیں اُٹھا کر سرمایہ داروں کے حوالے کردیا گیا۔ اس طرح پبلک سیکٹر کا اس ملک کی صنعت کاری کی بنیاد رکھنے میں ایک بنیادی اور کلیدی کردار ہے جس کے بغیر پاکستان میں صنعت کاری کا یہ عمل ممکن ہی نہیں تھا۔

اس تیزترین صنعت کاری اور اس کی سرمایہ داروں کو منتقلی سے معیشت کے مختلف شعبوں میں بڑی صنعتی اجارہ داریاں بھی قائم ہوگئیں۔ جس مظہر کی وضاحت کرتے ہوئے بلاننگ کمیشن کے چیف اکانومسٹ ڈاکٹرمحبوب الحق نے لکھا کہ 1960ء کی دہائی کے دوران 66 فیصد صنعتی اثاثہ جات، 70 فیصد بینکنگ اثاثہ جات اور 80 فیصد انشورنس کمپنیوں کے اثاثوں پر 22 خاندانوں کی ملکیت قائم ہوچکی تھی۔ یہ اجارہ داریاں مالیات پر کنٹرول رکھنے کے باعث صنعت اور سرمایہ کاری حتیٰ کہ حکومتی پالیسی سازیوں، قانون سازیوں سمیت ہر چیز پر بھرپور انداز سے اثرانداز ہوتی تھیں۔ اس طرح وہ سیاست، قوانین، پالیسی سازی اور بحیثیت مجموعی پوری ریاست پر اثر انداز ہوتی تھیں، جس کے باعث اقتصادی ترقی کے منافعوں کا رُخ بالادست طبقات کی تجوریوں کو بھرنے اور اکثریتی محنت کش عوام کے شدید استحصال پر کھڑا تھا۔

1968-69ء کی انقلابی تحریک اور بھٹو کا اقتدار

حکمران طبقے کی انہی لبرل سرمایہ دارانہ پالیسیوں کے خلاف محنت کش عوام کا پنپتا ہوا غم و غصہ 1968ء کے آخر میں ایک لاوے کی مانند پھٹ پڑا اور یوں 1968-69ء کی انقلابی سرکشی ابھر کر ہمارے سامنے آئی۔ جس نے طویل عرصے سے مسلّط ایوبی آمریت کا خاتمہ تو کردیا لیکن ریاست نے ایوب خان کو ہٹا کر یحیٰ خان کو مسلّط کردیا، لیکن پھر بھی جب بغاوت ٹھنڈی نہ ہوسکی تو اسے حسبِ معمول ٹھیک 1947ء کی طرح اس طبقاتی تحریک کو قومی بنیادوں پر تقسیم کرتے ہوئے اور اس ملک کو دولخت کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کے تسلط کو محفوظ بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرقی پاکستان یعنی بنگال کا طبقاتی کے ساتھ ساتھ قومی استحصال بھی پوری شدت سےکیا جا رہا تھا اور شیخ مجیب نے جب طبقاتی محرومیوں کو بھی قومی محرومی کے طور پر اجاگر کیا تو اس ملک پر براجمان فوجی افسر شاہی کے لئے اس نظام زر کے تسلط کو برقرار رکھنے کے لئے ملک دو لخت کرنا گوارا ٹھہرا۔ بنگال کے محنت کشوں کی طبقاتی لڑائی کو کچلنے کی غرض سے اِدھر سے اس ریاست کی فوجی آمریت نے بہیمانہ انداز سے چڑھائی کر دی جبکہ دوسری طرف اس تحریک کے ہندوستان میں پھیلاؤ سے خوفزدہ ہندوستانی حکمران طبقے نے بنگالیوں کو بچانے کے نام پر مداخلت کر دی یوں اس پورے عمل میں فوجی اشرافیہ کو ایک ہزیمت اُٹھانا پڑی اور اسے شکست خوردگی کا سامنا کرنا پڑا جس کی بدولت مجبور ہوکر ملک کے اس تباہ حال بچے کھچے ڈھانچے پر ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کو اقتدار منتقل کیا گیا جو اپنے سوشلسٹ پروگرام کے باعث 1968-69 کی تحریک کی کوکھ سے مقبولیت حاصل کرکے 1970ء کے عام انتخابات میں دوسری بڑی سیاسی پارٹی کے طور پر سیاسی اُفق پر اُبھر کرسامنے آئی تھی۔

بھٹو کے بدترین مخالفین بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں اقتدار ایسے بدترین حالات میں منتقل کیا گیا جب 1971ء کے سیاسی، اقتصادی اور انتظامی بحرانات ٹھیک 1947ء کی ان یادوں کو تازہ کئے ہوئے تھے، جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تھا۔ تمام اقتصادی و ریاستی ڈھانچہ تقریباً زمین بوس ہوچکا تھا۔ بھٹو کو صرف ایک طرزِ حکمرانی کو کسی دوسری طرزِ حکمرانی میں منتقل نہیں کرنا تھا بلکہ انہیں ایک منہدم ریاستی و اقتصادی ڈھانچے کو از سرِنو تعمیر کرنا تھا۔ صورتِ حال کی اسی سنگینی کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو نے 20 دسمبر 1971ء کے اپنے ایک خطاب میں کہا کہ ”ہم اپنے ملک کی تاریخ کے بدترین اور تباہ کن بحران کا سامنا کررہے ہیں۔ ہمیں اب چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک نئے پاکستان کی تعمیر کرنا ہوگی، ایک خوشحال اور ترقی پسند پاکستان کی، ایک ایسے پاکستان کی جو استحصال سے پاک ہو“۔ سعید شفقت کی کتاب ”سول ملٹری ریلیشن اِن پاکستان“ کے مطابق بھٹو کو درپیش مسائل اور مشکلات کے تین اہم پہلو تھے جن کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے اپنی اس کتاب کے صفحہ 81 پر لکھا کہ;

”(1) پہچان کا بحران۔ پاکستان کی بنیادوں پر عقلی سوالات اٹھاتے ہوئے ایک معنی خیز بحث کا آغاز ہوگیا تھا۔ اس بحث و مباحثے کا آغاز ”قوم“ اور ”قومیتوں“ کی تعریف اور دوقومی نظریے پر سوالات کی شکل میں ہوا۔ (2) جواز کا بحران۔ (The crisis of Legitimacy)۔ جیسے 1950ء کی دہائی میں ہواتھا، اسی طرح ایک مرتبہ پھر پاکستان کے نظریے اور سیاسی نظام کو متشکل کرنے میں مذہب کا کردار بحث کے مرکزی نکتے کی شکل اختیار کرگیا۔ اسلام پسند مذہبی جماعتیں، خاص طور پر جماعت اسلامی نے بھٹو کو کافر کہنا شروع کردیا اور ان کے پروگرام کو غیر اسلامی اور غیر اخلاقی قرار دے دیا۔ (3) شراکت کا بحران۔ جیسے ہی جابر فوجی افسر شاہی نظام کو عقبی راہداریوں تک واپس جانا پڑا، نئے سماجی گروپس، طبقات اور سیاسی قائدین اقتدار کے دعویداروں کے طور پر سماجی و سیاسی میدان میں اُبھر کر سامنے آگئے۔ دراصل بھٹو نے خود ان طبقات کو تحرک دے کر ان کی توقعات کو بہت بڑھا دیا تھا۔ اس لئے کسان، کرایہ دار، فیکٹری ورکرز اور چھوٹے سرکاری ملازمین ایک ایسی سماجی و اقتصادی تبدیلی کے شدید خواہاں تھے جن کا ان سے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا گیا تھا۔ جبکہ دوسری طرف اس نظام سے منسلک مفادات کے تابع جڑے ہوئے طبقات بشمول صنعتی و مالیاتی گروپس، بیوروکریٹک فوجی اشرافیہ اور جاگیرداروں کا ایک بڑا حصہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اصلاح پسند ارادوں کے متعلق شدید شکوک و شبہات کا شکار تھے۔ سماج کے یہ امیر اور مراعات یافتہ طبقات چیزوں کو جوں کا توں (Status Quo میں) رکھنے کے خواہاں تھے جبکہ پیپلز پارٹی کو ایک تبدیلی کا مینڈیٹ دیا گیا تھا اور اس تبدیلی کی نوعیت کا عکس پیپلز پارٹی کے پروگرام میں جھلکتا تھا جو جاگیرداری کے خاتمے، کسانوں اور محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ، ان کے ہڑتال کے حق کا تحفظ، تمام کلیدی اور بنیادی صنعتوں، ٹرانسپورٹ اور شعبہء تعلیم کی نیشنلائزیشن کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھا“۔

سعید شفقت کی تحریر سے لئے گئے مندرجہ بالا حصے سے ایک چیز بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ دو متحارب طبقات کی خواہشات ایک دوسرے کی بالکل ضد میں کھڑی تھیں۔ مضبوط مالیاتی و صنعتی مراکز، ریاستی عسکری و سول افسرشاہی اور جاگیردار اشرافیہ ایوب کی لبرل اقتصادی پالیسیوں کو جاری و ساری رکھنے کے خواہاں تھے جس کے متعلق ان کے دلائل آج کے نیولبرل دانشوروں اور ماہرین سے قطعی طور پر مختلف نہیں تھے کہ جب سرمایہ داروں کے منافعوں میں ایک بلند سطح کا اضافہ ہوجائے گا، ان کی تجوریاں بھر کر جب اوپر سے چھلکنا شروع ہو جائیں گی تو اس کے اثرات ٹریکل ڈاؤن ہونا شروع ہوجائیں گے اور یہی لبرل اقتصادی ترقی اور آزاد منڈی کی معیشت روزگار کے ایک خود کار نظام کو جنم دے دے گی۔ اس کے لئے کسی ریاستی مداخلت، کسی حکومت کی سیاسی و حکومتی مداخلت کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے اور اگر ایسا کیا گیا تو معیشت برباد ہوکر رہ جائے گی۔ اپنے اس بیانیے کا ورد کرتے ہوئے وہ یہ سب کچھ بھول گئے تھے کہ ابتدائی طور پر یہ ریاست اور پبلک سیکٹر ہی تھا جس نے صنعت کاری کرکے منافع کی سطح پر پہنچا کر صنعتوں کو ان منافع خوروں کے حوالے کیا تھا۔ ورنہ ان کے اندر ایسا کرنے کی تاریخی صلاحیت ہی موجود نہیں تھی۔ کیونکہ یہ تو محض کمیشن خور تاجر تھے۔

اقتدار سنبھالنے کے بعد یکم جنوری 1972ء کو ذوالفقارعلی بھٹو نے اپنے ایک ٹیلی وژن خطاب میں نیشنلائزیشن اینڈ اکنامک ریفارمز آرڈر 1972ء (NERO) کے تحت تین مراحل پر مشتمل اپنے ایک پروگرام کا باقاعدہ اعلان کیا۔ اس اعلان کے مطابق پہلے مرحلے میں تقریباً 31 بڑی صنعتی میگا کارپوریشنوں، صنعتی یونٹس اور انٹرپرائزز کو براہِ راست انتظامی کنٹرول کے تحت 10 مختلف کیٹگریز کے تحت ریاستی و حکومتی کنٹرول میں لیا گیا۔ یہ ستمبر 1973ء میں اداروں کی نیشنلائزیشن کی پالیسی کی جانب پہلا عملی اقدام تھا۔ اسی طرح 26 ویجیٹیبل گھی یونٹس کو بھی قومیا لیا گیا جبکہ یکم جنوری 1974ء کو کئی مالیاتی اداروں کی نیشنلائزیشن کی گئی جس میں تقریباً 13 سے زائد بڑے بینک، درجن سے زائد انشورنس کمپنیاں وغیرہ شامل تھیں۔ اسی طرح دو پیٹرولیم کمپنیوں اور 10 شپنگ کمپنیوں کو بھی قومیالیا گیا۔ نیشنلائزیشن کے دوسرے پروگرام کی سربراہی اس وقت کے وزیر خزانہ مبشر حسن نے کی جن کا موقف یہ تھا کہ ”قوم کی دولت کو ہر حال میں قوم ہی کے مفاد میں استعمال ہونا چاہیے اور اس عمل کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی کہ یہ دولت چند افراد کے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں مرتکز ہو“۔

نیشنلائزیشن کے تیسرے مرحلے کا آغاز یکم جولائی 1976ء کو کیا گیا جب تقریباً 2000 سے زائد کاٹن جننگ اور چاول کے بھوسے کے یونٹوں کو حکومتی کنٹرول میں لیا گیا۔ اس سے قبل 15 مارچ 1972ء کو نئی تعلیمی پالیسی کا اعلان کیا گیا تھا جس کے ذریعے ملک بھر کے تمام 3334 نجی تعلیمی اداروں کی نیشنلائزیشن کی گئی جن میں 1826 سکول، 346 مدرسے، 155 کالج اور 5 ٹیکنیکل ادارے شامل تھے۔اس تعلیمی پالیسی کے تحت ملک بھر میں تین مراحل میں دسویں جماعت تک مفت تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا اور بلا کسی سماجی و مالی رتبے کے ہر بچے کو ان تعلیمی اداروں تک رسائی فراہم کی گئی۔اساتذہ کرام کو اس پروگرام کے تحت سماج میں ایک قابل عزت رتبے پر بٹھایا گیا۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں بھی خاطر خواہ اصلاحات کی گئیں اور عام آدمی کی علاج تک رسائی کو ممکن بنایا گیا۔ اسی طرح تجارتی کارپوریشن کے ذریعے درآمدات اور برآمدات کو بھی حکومتی کنٹرول میں لے لیا گیا یوں انڈسٹریل سیکٹر، سروسز و مالیاتی سیکٹر کی نیشنلائزیشن کے ساتھ ساتھ 1972ء میں بڑے پیمانے کی زرعی اصلاحات بھی کی گئیں۔ جس میں سیراب شدہ زرعی اراضی کی زیادہ سے زیادہ انفرادی حد 500 ایکڑ سے کم کر کے 150 ایکڑ اور بارانی زرعی اراضی کی زیادہ سے زیادہ انفرادی حد 1000 ایکڑ سے گھٹا کر 300 ایکڑ مقرر کی گئی۔ ان حدود سے زائد زرعی اراضیوں کو ان سے واپس لے لیا گیا جس کا حجم تقریباً کوئی آٹھ لاکھ ایکڑ سے زائد بنتا تھا۔ جنہیں بے زمین ہاریوں، کسانوں اور دیہی محنت کشوں کے حوالے کیا گیا۔ باوجود اس کے کہ 16 دسمبر 1971ء کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستان کے کل رقبے میں 151845 مربع کلومیٹر کی کمی واقع ہوئی جو تقسیم سے قبل 947940 مربع کلومیٹر تھا اور بٹوارے کے بعد 796095 مربع کلومیٹر رہ گیا، ان زرعی اصلاحات کے باعث ایوب دور حکومت کے مقابلے میں بھٹو کے دور حکومت کے دوران زرعی فصلوں میں 57.448 فیصد کا اضافہ ہوا۔ زراعت کے شعبے میں بڑے پیمانے کی ریاستی سرمایہ کاری کی گئی۔ 1976-77ء کے دوران 212 ملین روپے کی معمولی رقم کو بڑھا کر 1336 ملین روپے کر دیا گیا۔ اسی مدت میں ادارہ جاتی آسان قرضوں کو 180 ملین روپے سے بڑھا کر 1800 ملین کر دیا گیا۔ جس کے باعث کھاد کا استعمال 308,000 ٹن سے بڑھ کر 650,000 ٹن تک پہنچ گیا۔ ٹیوب ویلوں کی تعداد 88,000 سے بڑھ کر 145,000 ہو گئی۔ ٹریکٹرز کی درآمد جو 1968ء میں 16583 تھی اس میں 1976ء تک تین گنا اضافہ ہو کر یہ 48600 تک پہنچ گئی۔ یوں بھٹو کی زرعی اصلاحات کا عمل صرف زرعی اراضی کی تقسیم تک محدود کوئی عمل نہیں تھا بلکہ پبلک لیڈ گروتھ کے ماڈل کے ذریعے زراعت کو اپنے وقت میں جدید خطوط پر استوار کرنے کا ایک عمل بھی تھا۔ اسی بدولت کئی بنجر علاقوں کو بھی قابل کاشت بنانے کے اقدامات اٹھائے گئے۔ادویات تک عام آدمی کی رسائی کو ممکن بنانے کے لئے ڈرگ ایکٹ 1972ء کو لاگو کیا گیا۔ عام دیہی و شہری عوام کے ہر شخص کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے 1972-73ء سے پیپلز ورکس پروگراموں کا اِجرأ کیا گیا جن کی مد میں لاکھوں روپوں کے فنڈز مختص کئے گئے۔ ان سمیت دیگر ایسے اقدامات اور اصلاحات کے ساتھ سب سے بڑا اقدام جولائی 1972ء میں اور بعد ازاں اگست 1972ء میں اُٹھایا جانے والا لیبر اصلاحات کا تھا جس کے تحت نئی لیبر پالیسی کو تشکیل دیا گیا جس کے ذریعے محنت کشوں کو ٹریڈ یونین کا حق دیا گیا، ملازمتوں کا تحفظ دیا گیا، پنشن، بچوں کی مفت تعلیم، مفت علاج معالجہ اور رہائش وغیرہ کے حقوق دیئے گئے اور یوں مندرجہ بالا پروگراموں کے تحت اُٹھائے جانے والے تمام تر اقدامات دراصل ایک خاص سیاسی، اقتصادی و نظریاتی خاکے کی عکاسی کرتے ہیں، جو اس وقت پوری دنیا میں سوشل ڈیموکریٹک اصلاح پسندانہ ماڈل کے طور پر جانا جاتا تھا۔ جو دراصل پبلک سیکٹر لیڈ گروتھ کا ایک ایسا ماڈل تھا جس میں ریاستی ٹول کو استعمال کرتے ہوئے دولت کی پورے سماج میں قدرے منصفانہ تقسیم عمل میں لائی جاتی رہی اور طبقاتی خلیج کو بہت زیادہ بڑھنے سے روکنے کی ایک کوشش کی جاتی رہی۔

عالمی طور پر اس سوشل ڈیموکریٹک ماڈل کے تشکیل پانے کے پس منظر میں دراصل سوویت یونین کے وجود اور عالمی سطح پر محنت کش عوام کی طبقاتی جدوجہد کا ایک کلیدی عنصر کار فرما تھا۔ اکتوبر انقلاب 1917ء نے عالمی مزدور تحریک اور طبقاتی جدوجہد کو ایک مہمیز بخشی تھی جب کہ سرمایہ دار دنیا میں لبرل معاشی ماڈل کی 1929-30ء کی عالمی کساد بازاری اور بعد ازاں، دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریاں وہ بنیادی ٹھوس وجوہات تھیں جن کے باعث لبرل سرمایہ دار ماڈل کو پسپائی پر مجبور ہونا پڑا تھا اور سوشل ڈیموکریٹک ماڈل دراصل ایک ایسا سرمایہ دارانہ انتظام تھا جس کے ذریعے نیچے سے اُبھرنے والی تحریکوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے سرمایہ دار طبقے کو اپنے منافعوں کے ایک قابلِ قدر حصے کو سماج میں تقسیم کرنے کے اس سرمایہ دارانہ ریاستی انتظام کو قبول کرنا پڑا تھا۔ پاکستان میں اُبھرنے والی 1968-69ء کی تحریک دراصل جن عالمی حالات میں اُبھری تھی اس وقت ایک طرف سوویت ماڈل وجود رکھتا تھا جب کہ دوسری طرف سوشل ڈیموکریٹک ماڈل کا ایک سرمایہ دارانہ انتظام کا ماڈل ایک غالب مثال کے طور پر موجود تھا۔ سوویت ماڈل کی جانب بڑھنے کے لئے 1968-69ء کی تحریک کو ایک سوشلسٹ کیڈر پر مشتمل اجتماعی سیاسی قیادت اور پارٹی کی ضرورت تھی جب کہ پیپلز پارٹی جس کی بنیاد تحریک سے صرف ایک سال قبل یعنی 1967ء میں رکھی گئی تھی، ابھی تک ٹھیک سے ایک سیاسی پارٹی کی شکل بھی اختیار نہیں کرپائی تھی جس کمزوری کے باعث تحریک پارٹی کی بجائی ایک شخص ذوالفقار علی بھٹو کے گرد کھڑی ہوگئی اور ذوالفقارعلی بھٹو سوویت ماڈل کے برعکس مغربی سوشل ڈیموکریٹک ماڈل سے زیادہ متاثر تھے۔ اس لئے اس تحریک کو ہالہ کانفرنس میں برچھی کی بجائے پرچی کی جانب یعنی انقلاب کی بجائے انتخاب کی جانب موڑ دیا گیا۔

ایوبی لبرل اقتصادی ماڈل کے برعکس ذوالفقار علی بھٹو کے اس سوشل ڈیموکریٹک ماڈل کے تحت ہونے والی نیشنلائزیشن کے بچے کھچے ملک کے پورے سماج پر نہایت ہی شاندار اثرات مرتب ہوئے۔ عمومی معیار زندگی میں خاطر خواہ اِضافہ ہونے لگا، محنت کش عوام کے بچے ناخواندگی سے نکلتے ہوئے خواندگی کی جانب بڑھنا شروع ہوئے، بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہونا شروع ہوئے۔ فیکٹریوں، تعلیمی اداروں، مالیاتی اداروں، سروسز سیکٹر اور دیگر شعبوں میں محنت کشوں کو ٹریڈ یونین کے حقوق ملنا شروع ہوئے، طلباء کو تعلیمی اداروں میں یونین سازی کا حق مِلا، زراعت سے منسلک بڑی آبادی کے معیار زندگی میں خاطر خواہ بہتری آنا شروع ہوئی لیکن بالائی ڈھانچے میں سرمایہ دارانہ نظام کے برقرار رہنے کی بدولت عمومی غیر ہمواریت میں خاطر خواہ توازن اور ہمواریت پیدا نہ ہوسکی۔ اس ماڈل کی تمام خوبیوں کے باوجود بڑی خامی یہ رہی کہ اداروں کو قومیا کر ان کی فیصلہ سازی اور انتظامی امور کو افسر شاہی کے حوالے کردیا گیا۔ جنہوں نے فیصلہ سازی میں اداروں، ان سے منسلک محنت کشوں اور سماج کے اجتماعی مفادات کو مدِ نظر رکھ کرفیصلے کرنے کی بجائے اپنے ذاتی اور خاندانی مفادات کو ترجیح دی۔ جن اداروں کو عوامی خدمت پر مامور ہونا چاہئیے تھا ان اداروں میں پڑنے والا ایک چھوٹا سا کام بھی کسی عام محنت کش کے لئے رشوت اور سفارش کے بغیر کروانا محال ہوتا چلا گیا اور بااثر لوگوں کے کام بہ آسانی ہوتے رہے، یوں ان اداروں کی عوام میں ساکھ مجروح ہونا شروع ہوتی چلی گئی۔

جمہوریت کا خاتمہ اور ضیاالحق کا دور

5 جولائی 1977ء کو ذوالفقارعلی بھٹو کی حکومت کے خاتمے اور جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے تسلط کے ساتھ ہی نیشنلائزیشن کے اس سوشل ڈیموکریٹک ماڈل کے خلاف اقدامات اٹھائے جانے شروع کردئیے گئے۔جولائی 1977ء میں ہی جنرل ضیاء الحق نے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں میں اپنے مارشل لاء کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ڈی نیشنلائزیشن، ڈس انوسٹمنٹ اور ڈی سینٹرلائزیشن کی پالیسیوں کو متعارف کرانا شروع کردیا۔ ستمبر 1978ء میں ٹرانسفر آف مینجڈ اسٹیبلشمنٹ آرڈر جاری کیا گیا جس کے تحت وفاقی حکومت کو یہ اختیارات دیئے گئے کہ وہ سابقہ مالکان کو ان اداروں کا کنٹرول سنبھالنے کی پیشکش کرے۔ اس کے تحت دو انڈسٹریل یونٹس کو سابق مالکان کے حوالے کیا گیا جن میں سے ایک میاں شریف بھی شامل تھا۔ 1985ء کے اوائل میں ضیاء آمریت نے کیبنیٹ ڈس انویسٹمنٹ کمیٹی قائم کردی جس کی ساخت کچھ یوں تھی:
(1) وزیر خزانہ۔ چیئرمین کمیٹی (2) وزیر برائے پیداوار۔ ممبر (3) وزیر برائے صنعت۔ ممبر۔

اس کمیٹی نے تربیلا کاٹن اینڈ شپنگ ملز کو فروخت کرکے پرائیویٹ مالکان کے حوالے کردیا اور دیگر کئی چھوٹے ادارے جیسے ڈومیسٹک اپلائنسز لمیٹڈ اور اتھل میں واقع پاک ایران ٹیکسٹائل ملز وغیرہ کو بھی نجی شعبے کو فروخت کرنے کے درپے رہی یوں ڈی نیشنلائزیشن اور نجکاری کا باضابطہ آغاز جنرل ضیاء الحق کی مارشل لاء حکومت کے بالکل آغاز میں ہی شروع ہوگیا تھا اور یوں جنرل ضیاء کی آمریت کا یہ طویل دور محنت کش عوام، ترقی پسند سیاسی کارکنان، متحرک ٹریڈ یونین، طلباء اور کسان لیڈران کے لئے بالخصوص اور پورے سماج کے لئے بالعموم ایک سیاہ دور رہا جس میں آمریت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو اسیری میں ڈالا گیا، کوڑے لگائے گئے، پھانسی پہ چڑھا دیا گیا۔ ضیاء آمریت کا جبر جتنا بڑتا رہا، محنت کش عوام کی مزاحمت اتنی زیادہ بڑھتی رہی۔جنرل ضیاء کو اپنے اقتدار کی طوالت درکار تھی اور امریکی سامراج کو سوویت یونین کے خلاف اپنی پراکسی کی ضرورت تھی یوں افغان ثور انقلاب اور سوویت یونین کے خلاف امریکی اسلحے، ڈالروں اور سعودی ریالوں سے نام نہاد اسلامی جہاد کا آغاز کیا گیا جس سے پورے پاکستانی سماج کو ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر سے زہر آلود کردیا گیا۔ فرقہ واریت کو اپنے عروج پہ پہنچایا گیا لیکن جب امریکہ کو ضیاء کی مزید ضرورت باقی نہ رہی تو اسے 17 اگست 1988ء کو بہاولپور کے نزدیک ایک ہوائی حادثے کی شکل میں اڑا دیا گیا یوں جنرل ضیاء کے ہوائی حادثے میں جان بحق ہونے کے بعد اور ایک طویل آمریت کے بعد 16 نومبر 1988ء کو عام انتخابات کروائے گئے۔ جس میں بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی آئی جے آئی کی 56 سیٹوں کے مقابلے میں 94 سیٹوں پر کامیابی حاصل کر کے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔

بے نظیر بھٹو کا عروج اور پہلا دور

سوویت یونین منہدم ہونے کے قریب کھڑا تھا جس کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو چکے تھے۔ عہدوں کے عروج وزوال کے اثرات بھی کتنے بھیانک ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو چیئرمین ماؤزے تنگ سے خاصے متاثر تھے اسی وجہ سے انھیں چیئرمین بھٹو بننا زیادہ پسند تھا لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بے نظیربھٹو مارگریٹ تھیچر سے بہت زیادہ متاثر تھیں۔ اب یہ محض دو شخصیات کے نام نہیں ہیں بلکہ یہ دونوں دو متضاد نظریات کے نمائندگان ہیں۔ یوں بےنظیر بھٹو نے اپنے باپ کی ایک آمر کے ہاتھوں موت، اس کے کرب، آمریت کی اذیتوں اور کارکنان کی قربانیوں کی تاریخ سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنے کی بجائے، اپنے پہلے ہی دور اقتدار میں ذوالفقار علی بھٹو کی نیشنلائزیشن کے سوشل ڈیموکریٹک ماڈل پر ہی نہ صرف ایک معذرت خواہانہ رویہ اپنایا اور دائیں بازو کی حکمران اشرافیہ اور ریاستی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھرپور مصالحت کی ایک کوشش کی بلکہ ڈی ریگولیشن، لبرل لائزیشن اور پرائیویٹائزیشن کو بھی آگے بڑھ کر گلے لگایا۔ 1988ء میں بے نظیربھٹو حکومت نے ایک برطانوی فرم (M/s N.M. Rothschild) کو نجکاری کی حکمتِ عملی وضع کرنے اور مناسب اداروں کا انتخاب کرنے کی غرض سے بطور کنسلٹنٹ تعینات کیا جس نے مئی 1989ء میں اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی۔ فرم نے پاکستان میں مالیاتی منڈی کی تشکیل کے لئے وسیع نجکاری کی سفارشات پیش کیں۔ 50 اداروں کا جائزہ لینے کے بعد فرم نے سات اداروں کی پہلے پہل نجکاری کی سفارشات پیش کیں جن میں حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کارپوریشن، پاکستان اسٹیٹ آئل، سوئی سدرن گیس کمپنی اور سوئی ناردرن گیس کمپنی لمیٹڈ شامل تھے۔ بے نظیر حکومت کو تجویز کردہ ان تمام اداروں کی نجکاری کا وقت تو نہ مل سکا لیکن جنوری 1990ء میں بے نظیر حکومت نے 274 ملین روپے کے عوض پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کارپوریشن کے 10 فیصد حصص فروخت کئے اور 1990ء میں ہی ان کی حکومت کا خاتمہ کر لیا گیا۔ درحقیقت اس ملک کی محنت کش عوامی تحریک کی نیو لبرل ازم کے سامنے شکست کا یہ فیصلہ کن آغاز تھا کہ جب اس کی سیاسی قیادت خالص سرمایہ دارانہ نیولبرل نظریے کے سامنے اپنی پسپائی کا نہ صرف واضح اعلان کررہی تھی بلکہ اس کا عملاً اظہار کر رہی تھی۔ پیپلز پارٹی کے اس اقدام کو بے نظیر بھٹو کی پسندیدہ سیاسی شخصیت مارگریٹ تھیچر (جو نیو لبرل ازم کے عملی احیا کی ماں کا درجہ رکھتی ہے)، کی اس بات سے سمجھنے کی کوشش کریں تو شاید زیادہ آسان ہوجائے۔ کسی صحافی نے جب اس سے پوچھا کہ آپ اپنے کس عمل کو اپنی سب سے بڑی فتح تصور کرتی ہیں تو اس نے کہا کہ لیبر پارٹی اور اس کی لیڈرشپ کو نیولبرل ایجنڈے کو لاگو کرنے پر آمادہ کرنا وہ اپنی سب سے بڑی فتح تصور کرتی ہیں۔ نومبر 1990ء میں جنرل ضیاء کا سیاسی بیٹا نواز شریف بھرپور ریاستی حمایت سے انتخابات جیت کر پہلی مرتبہ وزیراعظم بنا اور وزیر اعظم بنتے ہی اس نے نجکاری کو اپنی اقتصادی پالیسی کا بنیادی مقصد قرار دیتے ہوئے اداروں کی نیلامی کا آغاز کردیا۔

نواز شریف کا اقتدار اور نجکاری پالیسی

نجکاری کی جانب پہلا قدم اٹھاتے ہوئے نواز حکومت نے ڈس انویسٹمنٹ اینڈ ڈی ریگولیشن کمیٹی تشکیل دی جس نے جنوری 1991ء میں اپنی ابتدائی رپورٹ پیش کرتے ہوئے 118 انڈسٹریل یونٹس کی نجکاری کی سفارشات پیش کیں۔ نواز حکومت نے کمیٹی کے اس منصوبے کو منظور کرتے ہوئے 23 جنوری 1991ء کو پرائیویٹائزیشن کمیشن کا اعلان کر ڈالا تاکہ وہ اس منصوے کو کم سے کم وقت میں عملی جامہ پہنا سکے۔ یوں نواز شریف حکومت نے نجکاری کو نہ صرف ایک ادارجاتی شکل دے ڈالی بلکہ ذولفقار علی بھٹو کی نیشنلائزیشن کے حق میں کی جانے والی قانون سازی کو بھی تبدیل کر ڈالا جو نجکاری کے راستے میں رکاوٹ کا باعث بن رہی تھی، جیسے اکنامک ریفارمز آرڈر 1972ء ایک ایسی قانون سازی تھی جس کے تحت نیشنلائزیشن کے عمل کو واپس نہیں کیا جاسکتا تھا۔

نجکاری کے عمل کو بآسانی آگے بڑھانے اور عوام میں نجکاری کے عمل کے لئے ایک اچھا تاثر قائم کرنے کے لئے باقاعدہ ایک پورا بیانیہ تشکیل دیا گیا اور یہ باور کروایا گیا کہ جو کچھ کیا جارہا ہے یہ دراصل عوام کے عین مفاد میں کیا جارہا ہے۔ اس طرح اس پالیسی کے مندرجہ ذیل مقاصد عوام کے سامنے پیش کئے جاتے رہے۔

(1) یہ عمل ان اداروں کی آپریشنل کارکردگی کو بہت بہتر بنائے گا اور مسابقت کو فروغ دے گا جس سے صارفین کو فائدہ پہنچے گا۔
(2) سبسڈیز اور نئے قرض کی ضرورت کو کم کرکے حکومت کے مالی بوجھ کو کم کرے گا اور حکومت ترقیاتی کاموں کے لئے نئے وسائل حاصل کرنے کے قابل ہوسکے گی۔
(3) کیپٹل مارکیٹ کی بنیادیں وسیع اور گہرا کرتے ہوئے اسے مضبوط بنیادیں فراہم کرے گا۔
(4) ایک ریگولیٹری فریم ورک کو تشکیل دیتے ہوئے صارفین کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔
(5) اقتصادی و معاشی طاقت کو چند ہاتھوں میں مرتکز ہونے سے باز رکھے گا اور اثاثوں کے وسیع ملکیتی تصور کو فروغ دے گا۔
(6) نجکاری کے نتیجے میں سرپلس ہونے والے ملازمین کو معقول معاوضہ فراہم کیا جائے گا اور کہیں دوسری جگہ ملازمت کے لئے انہیں مناسب تربیت فراہم کی جائے گی۔
(7) یہ عمل ایک سازگار اقتصادی ماحول کی تخلیق کرے گا۔
(8) نجکاری کے عمل میں شفافیت کو اولین ترجیح دی جائے گی اور یوٹیلیٹیز اور انفراسٹرکچر سیکٹر سے ریگولیٹری کی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کیا جائے گا۔

نوازشریف حکومت نے 1991ء سے 1993ء تک تمام سیکٹرز کے 68 یونٹس کی بھاری نجکاری کرکے انہیں سرمایہ داروں کے حوالے کیا۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے نجکاری کے اس باضابطہ ابتدائی دور کی جامع جائزہ رپورٹ تیار کرنے کے لئے کنسلٹنٹس ہائیر کئے اور 1998ء میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی جس کے مطابق نجکاری کے ذریعے فروخت کردہ ان یونٹس میں سے صرف 22 فیصد یونٹس نے نجکاری سے قبل کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، 44 فیصد کی کارکردگی تقریباً جوں کی توں رہی اور تقریباً 34 فیصد یونٹس نے نہایت ہی بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ تکلیف دہ امر یہ رہا کہ ان میں سے 20 یونٹس نجی ہاتھوں میں منتقل ہونے کے بعد مکمل طور بند ہوگئے۔ ان یونٹس کی نجکاری اور ان میں سے کچھ کی بندش نے پاکستانی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب کیے۔ 1980ء کی دہائی میں نجکاری سے قبل ملک کی جی ڈی پی گروتھ 6 فیصد سے زائد تھی جو نجکاری کے بعد گر کر 4 فیصد کے قریب پہنچ گئی۔ لبرلائزیشن، ڈی ریگولیشن اور پرائیویٹائزیشن کے جو مقاصد اوپر بیان کئے گئے، نجکاری کے تمام اثرات اس کی ہر شق کی نفی کرتے دکھائے دیئے۔ نجکاری کے ذریعے ان فیکٹریوں اور اداروں کے خریدار ان فیکٹریوں کو چلانے سے زیادہ ان کی زمینوں اور اثاثوں کی لوٹ کھسوٹ کے چکروں میں تھے اس لئے ان میں سے اکثر خریداروں نے نجکاری کی بولی میں حصہ لیا، ایک قسط ادا کی، مشینری کو اتارا، اس یونٹ کی جائیداد کو بیچا اور بھاگ گئے۔ ملت اور الغازی ٹریکٹر کو چھوڑ کر تمام انجینئرنگ یونٹس نجکاری کے بعد بند ہوگئے۔ کیونکہ ان کے خریداروں کا ان کے چلانے کا سرے سے کوئی ارادہ ہی نہیں تھا اور وہ راتوں رات دولت ہتھیا کر اپنی تجوریاں بھرناچاہتے تھے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی اس جائزہ رپورٹ کے مطابق نجکاری کا یہ عمل کسی طرح سے بھی شفاف نہیں تھا بلکہ حکومت وقت نے اپنے چہیتوں کو نوازا اور بھاری بدعنوانیاں دیکھنے کو ملیں۔ جولائی 2002ء میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) نے انکشاف کیا کہ نجکاری سے حاصل کردہ 80 بلین روپے خوردبرد کیے گئے تھے۔ اس نے مزید انکشاف کیا کہ نجکاری کمیشن نے کنسلٹنٹس اور ایڈوائزرز کو بھاری تنخواہوں پر رکھ کر ان پر پانچ بلین روپے سے زائد کی رقم خرچ کی۔

نیو لبرل ازم کی مزدور دشمن نجکاری کی اس پالیسی کے نتیجے میں ہزاروں ورکرز کو بیروزگار ہونا پڑا جب کہ نجکاری کے نام پر فروخت کردہ ان اداروں کے 64 فیصد سے زائد محنت کشوں کو رضاکارانہ علیحدگی اسکیموں اور گولڈن ہینڈ شیک کے نام پر ملازمتوں سے جبراً فارغ کردیا گیا۔ ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے اور مزدوروں کو مزاحمت اور جدوجہد سے باز رکھنے کے لئے نوازشریف کی نام نہاد جمہوری حکومت سے لیکر مشرف کی آمریت تک ہر سول و عسکری حکمران دھڑے نے کئی مزدور دشمن سیاہ قوانین کو محنت کشوں پر مسلّط کیا جیسے بینکنگ سیکٹر میں 2A، 27B اور دیگر شعبوں میں ریموول فرام سروسز آرڈیننس اور ایسے ہی کئی سیاہ قوانین متعارف کروائے گئے۔ ٹریڈ یونین تحریک پر شدید حملے کئے گئے، ان پر پابندیاں عائد کی گئیں، مزدور لیڈروں کو نوکریوں سے برطرف کیا گیا ان پر دہشت گردی کے پرچے کاٹ کر انہیں جیلوں میں ڈالا گیا یوں ان نیولبرل پالیسیوں کے تسلط سے پوری مزدور تحریک کو پے در پے حملوں کے نتیجے میں کمزور سے کمزورتر کیا گیا۔

ان اعداد و شمار سے ہمیں نیولبرل پالیسیوں کے تسلط اور ان کے اثرات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔ 1960ء کی دہائی میں رجسٹرڈ ٹریڈ یونینوں کی تعداد 708 تھی جو ستر کی دہائی میں بڑھ کر 2522 ہوگئی اور اَسی کی دہائی میں 6551 ہوگئی۔ اسی طرح سے 1960ء کی دہائی میں ان ٹریڈ یونینوں کی ڈیکلیئر ممبرشپ 350,000 تھی جو ستر کی دہائی میں 736000 ہوگئی اور 1980ء کی دہائی میں 870000 ہوگئی۔ لیکن نجکاری کے اس نیولبرل معاشی تسلط کے بعد ٹریڈیونین کی ممبرشپ اَسی کی دہائی کی تعداد 870,000 سے کم ہوکر 1999ء میں 296,257 تک پہنچ گئی جو ایک اندازے کے مطابق آج مزید کم ہوگئی ہے۔

نیولبرل پالیسیوں کا تسلط

پاکستان میں نجکاری کا باضابطہ ادارہ جاتی آغاز نوازشریف نے شروع کیا جس پالیسی کو اس نے اپنے ہر دور حکومت میں جاری رکھا اور اسی طرح بے نظیربھٹو نے اپنے دوسرے دورے حکومت میں بھی نیو لبرلزم اور نجکاری کی ان پالیسیوں کو توانائی اور ٹیلی کام سیکٹر میں جاری رکھا۔ اس نے 1994ء میں IPPs کا وہ بدنام زمانہ معاہدہ کیا جس کا خمیازہ اس ملک کی عوام آج تک بھگت رہی ہے اسی طرح ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کے متعلق ڈی ریگولیشن کی ایسی قانون سازی کی گئی جس نے بعد میں مشرف آمریت کو پی۔ٹی۔سی۔ایل کی نجکاری کے لئے راہ ہموار کر کے دی۔ اس نجکاری کے خلاف پی۔ٹی۔سی۔ایل کے محنت کشوں نے تاریخ ساز جہدوجہد کی لیکن مشرف آمریت نے اسے مکمل ریاستی طاقت کے استعمال سے شکست دی اور بولی لگنے کے برعکس جا کر ایتیصلات سے نہ صرف کم نرخوں پر معاہدہ کیا بلکہ 2005ء میں نجکاری ہونے سے لیکر آج تک تقریباً 19 سال گزر جانے کے باوجود ریاست پاکستان ایتیصلات سے باقی کی رقم لینے سے قاصر رہی ہے جبکہ 70000 ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کرتے کرتے آج پورے ملک میں تعداد تقریباً گیارہ ہزار کے قریب بچی ہے جو اس وقت نجی مالکان کے ہاتھوں بیگار کیمپوں کی سی زندگیاں بسر کرنے پہ مجبور ہیں۔ جن کے کام پر آنے کے اوقات ہیں لیکن جانے کے کوئی اوقات نہیں ہیں۔ جن کی تنخواہیں اور پینشن دونوں 2008ء کی سطح پر عملاً منجمد کی جا چکی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے اندر سے نجکاری کے اس عمل کے خلاف چند ترقی پسند آوازوں کو چھوڑ کر، کسی واضح فکری خاکے کے ساتھ بطور پارٹی کبھی کوئی واضح موقف نہیں پیش کیا گیا اور نہ ہی کوئی واضح حکمتِ عملی وضع کی گئی۔ اس کے برعکس ایک ایسا مجرمانہ رویہ اختیار کیا گیا کہ اگر نواز شریف نجکاری کر رہا ہے تو اس کے خلاف کوئی سنجیدہ مسائل کھڑے نہ کئے جائیں، نجکاری کے عمل کی سنجیدہ مخالفت نہ کی جائے بلکہ یہ کہا جائے کہ نجکاری جس طریقے سے کی جارہی ہے، وہ طریقہ درست نہیں ہے یا اس میں بدعنوانی ہو رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نجکاری کے عمل میں اگر بدعنوانی نہ ہو تو پھر نجکاری کا یہ عمل پیپلزپارٹی قیادت کے لئے درست عمل ہے۔ اس طرح پیپلز پارٹی قیادت نے اداروں کی نجکاری میں درحقیقت نواز شریف کے ساتھ ساتھ جنرل مشرف کو بھی اپنی خاموش حمایت فراہم کی ہے۔ یوں نواز شریف اپنے پہلے دوسرے دور اقتدار اور مشرف آمریت اپنے طویل مارشل لاء اقتدار کے دوران نجکاری کے اس عمل کو جارحانہ انداز میں آگے بڑھانے میں کامیاب رہے۔ نواز شریف کی طرح مشرف نے بھی پی۔ٹی۔سی۔ایل کے ساتھ ساتھ پاکستان کی واحد اسٹیل مل کو اپنے چہیتوں کو محض 33 بلین روپوں میں فروخت کردیا تھا۔ جس کے اثاثوں کی مالیت ہی 133 بلین روپے ہے، جسے سپریم کورٹ کے فیصلے کے باعث عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا۔ اس طرح نجکاری کے تمام ادوار کے نتائج اور اثرات بھیانک انداز میں اس سماج کو بربادی کی جانب ہی دھکیلتے رہے۔ بیروزگاری میں مزید اضافہ ہوا۔ غربت کم ہونے کی بجائے مزید بڑھنے کی جانب گئی۔ ریاستی اجارہ داری کے خلاف جو بیانیہ اپنا کر جس منڈی کی مسابقت کی بات کی گئی تھی، اس کے برعکس کارٹیلائزیشن اور سرمایہ داروں کی مافیا کی اجارہ داریاں قائم ہوئیں۔ جیسے شوگر ملز مافیا کی کارٹیلائزیشن کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ نیولبرل ازم اور اس کے ناگزیر جزو نجکاری کے نتیجے میں آٹا، چینی، گھی، سیمنٹ، سریا اور دیگر تمام اشیاء میں مافیا کی ایک اجارہ داری اور کاٹیلائزیشن ہی پیدا ہوئی ہے جو چیزوں کی قیمتیں گرا کر انھیں اٹھاتی ہے اور مصنوعی قلت پیدا کر کے انھیں مہنگے داموں فروخت کرتی ہے۔ جیسے حالیہ عرصے میں گندم کی قیمت اس وقت گرائی گئی جب کسانوں کی گندم تیار ہو چکی تھی۔ اب اعلان کردہ اس قیمت سے کسانوں کی گندم پہ ہونے والی لاگت بھی پوری نہیں ہو پارہی لیکن اتنے کم نرخوں پہ بھی کوئی ان سے گندم خریدنے پہ تیار نہیں یوں ایسے حالات پیدا کئے گئے ہیں کہ کسان اعلان کردہ نرخوں سے بھی کم نرخوں پہ اپنی گندم فروخت کرنے پہ مجبور ہوں اور ایک مرتبہ جب یہی گندم سستے ترین داموں پہ خرید لی جائے گی تو آٹے کی مصنوعی قلت پیدا کر کے آٹا مہنگے سے مہنگے ترین داموں فروخت کیا جائے گا۔ یوں نیو لبرل ازم کی یہ نام نہاد مسابقت دراصل سرمایہ داروں کی اجارہ داری سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے۔

اس طرح سے عوام کے ذہنوں میں نجکاری سے متعلق حکمرانوں نے جو ایک تصور ایک پروپیگنڈے کے ذریعے ٹھونسا تھا کہ اس سے اداروں کی کارکردگی بڑی شاندار ہوجاتی ہے وہ کراچی کی عوام نے KESC کے عملی تجربات سے دیکھ لی ہے۔ وہ پاکستان کی عوام نے چینی، آٹے، گھی، سریا، سیمنٹ، بجلی، گیس اور دیگر تمام اشیاء کی آسمان کو چھوتی قیمتوں سے بخوبی دیکھ لئے ہیں۔نجکاری کے نتیجے میں سماجی ترقی (سوشل ڈیویلپمنٹ) سست روی کا شکار ہوئی ہے اور افراطِ زر یعنی مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔

نجکاری پالیسی کے نقصانات

نجکاری سے قبل (1981 تا 1991ء) کے عرصے کے دوران جی ڈی پی کی اوسط شرح ترقی 6.7 فیصد رہی جبکہ (1991 تا 2001ء) کے دوران یہ گر کر 4.4 فیصد پر پہنچ گئی۔ پاکستان میں نجکاری کے جن دو بڑے مقاصد کو بیان کیا گیا تھا کہ اس سے ملک کا قرض اتارا جائے گا اور غربت میں کمی لائی جائے گی، عملاً دونوں مقاصد میں نہ صرف ناکامی ہوئی ہے بلکہ اس کے بالکل متضاد اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ 1991ء میں مجموعی بیرونی قرضہ 23.363 بلین امریکی ڈالر تھا جو دسمبر 2007ء میں 40 بلین امریکی ڈالر ہوگیا اور آج تو یہ بالکل ہی بے لگام ہو گیا ہے۔ بیروزگاری اور غربت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور آج اس ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پہ مجبور ہے۔ آج سے ٹھیک 33 سال قبل ملکی قرض اتارنے اور غربت کے خاتمے کے لئے نجکاری کے جس عمل کا آغاز کیا گیا تھا، 33 سال بعد پھر آئی ایم ایف سے مزید قرض لینے کے لئے اس ملک کے بچے کھچے اداروں کو بھی نیلام کر کے برباد کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں جانے سے قبل ہی بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیاگیا وہیں بچے کھچے اداروں کی نجکاری کرنا، اب آئی ایم ایف کی طرف سے عائد کردہ بڑی شرائط ہیں جبکہ بجلی و گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اب آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق پاکستانی ریاست پبلک سیکٹر میں کوئی نیا ادارہ بھی نہیں لگا سکے گی۔

وفاقی وزارتِ خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف، پی آئی اے، پاکستان اسٹیل ملز، (RLNG) پاور پلانٹ اور بجلی کی تقسیم کار سرکاری کمپنیوں کی اسی مالی سال میں نجکاری چاہتا ہے۔اس طرح پاکستانی حکمران طبقہ اس اقتصادی بحران سے نکلنے کے لئے انھی پالیسیوں کو لاگو کرنا چاہتا ہے، جو اس بحران کے پیدا ہونے کی وجہ ہیں۔ آج سے تین دہائیاں قبل اس ملک کا حکمران طبقہ جس نسخہء کیمیاء کے ذریعے اس ملک کی اقتصادیات کو درست کرنے کے دعوے کر رہا تھا، تمام تر بربادیوں کے باوجود بھی اس کا یہ نیو لبرل اکنامک ماڈل کا نسخہء کیمیاء نہیں بدلا ہے۔ تقریباً تمام قومی اداروں، جس میں 90 فیصد سے زائد مالیاتی سیکٹر اور 100 فیصد ٹیلی کام سیکٹر کی نجکاری کے باوجود بھی، اس ملک کا اقتصادی اور معاشی بحران مزید بڑھا ہے، باوجود اس کے کہ ایک تخمینے کے مطابق پاکستان کی معیشت کا تقریباً 82 فیصد سے زائد حصہ اس وقت نجی شعبے کے ہاتھوں میں ہے۔ اسٹیٹ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان پر قرضوں کا حجم بڑھ کر 80 ہزار 862 ارب روپے ہو گیا ہے۔ لیکن یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ اس ملک کا حکمران طبقہ ماضی کے تجربات سے سیکھنے کی کوشش نہیں کرتا کیونکہ وہ اس پورے عمل سے اپنی تجوریوں کو مزید بھرتا ہے اپنے کاروبار میں مزید اضافے کرتاہے اور فری مارکیٹ اکانومی کی کرامات کے وہی ورد کرتا ہے جس کے وہ تین دہائیاں قبل ورد کیا کرتا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے لیکر آج تک پاکستان کے سول و عسکری حکمران طبقات نے ان قومی اداروں کو جان بوجھ کر برباد کیا ہے۔ اقتدار میں آکر ان میں سرمایہ کاری کو بند کیا۔ بیوروکریٹک کنٹرول کے باعث ان اداروں کی عوامی سطح پر جو ساکھ خراب ہونا شروع ہوئی تھی وہیں ان میں ریاستی سرمایہ کاری میں کٹوتیاں کروا کر ان کی کارکردگی کو مزید خراب کیا گیا، ان کے منافع بخش ذرائع آمدن کو دانستہ طور پر ختم کروایا گیا تاکہ ان اداروں کو عوامی سطح پر بدترین کارکردگی کی ایک مثال بنا دیا جائے اور ان کی نجکاری کے لئے رائے عامہ کو ہموار کیا جائے اور نجکاری کا جواز پیدا کیا جائے۔ سامان کی ملک گیر ترسیل کے لئے مال گاڑی کا شعبہ ریلوے کے لئے ایک بڑا ذریعہ آمدن تھا جبکہ سامان کی ترسیل کا ٹھیکہ دانستہ طور پر این ایل سی کے حوالے کیا گیا۔ پی آئی اے میں جہاں نئے جہازوں کی خریداری اور پرانے جہازوں کی مرمت کے لئے کوئی ریاستی سرمایہ کاری نہیں کی گئی وہیں اوپن سکائی پالیسی سے پی آئی اے کو جان بوجھ کر بربادی کی جانب دھکیلا گیا۔ پاکستان اسٹیل ملز کو آئرن اؤرز (Iron Ores) کی فراہمی کو روک کر اسے بحران کا شکار کیا گیا اور اس کی جزوی بندش سے سلسلہ اس کی مکمل بندش تک پہنچا دیا گیا۔ پاکستان پوسٹ کے منافع بخش شعبوں کو ایک ایک کر کے تباہ کیا گیا۔ اس کی بچت اسکیموں کے شعبے کو بند کیا گیا اور اس کے باعث ہزاروں عمر رسیدہ اکاؤنٹ ہولڈرز کو ذلیل وخوار کروایا گیا۔ یوں اس ملک کے ایک ایک ادارے کو ان حکمرانوں نے اپنی ہوس پرستانہ سرمایہ دارانہ پالیسیوں کی بھینٹ چڑھا کر تباہ و برباد کیا ہے اور یہ دانستہ طور پر مزید ایسا ہی کریں گے جس سے مزید ابتری ہی پیدا ہوگی۔ مزید بیروزگاری بڑھے گی۔ مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔ مستقل اور پینشن کی حامل ملازمتیں قصہ پارینہ بن جائیں گی۔ آؤٹ سورسنگ، تھرڈ پارٹی، ٹھیکیداری اور کنٹریکٹ ملازمتیں ایک معمول بن چکا ہے اور مزید غالب شکل اختیار کر لے گا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت تاریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے، عوام کو مزید گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا ایک ایسا ملغوبہ لے کر آئی ہے جس سے نجکاری کی راہ کو مزید ہموار کروایا جا رہا ہے اور یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں کیا جا رہا بلکہ 1988ء میں بے نظیر بھٹو بھی نجکاری پہ ایک ایسا ہی خوبصورت پردہ چڑھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اس لئے ان تمام مسائل اور ان کو پیدا کرنے والے حکمران طبقات کے ارادوں اور پالیسیوں سے اب ہمیں پوری طرح سے آشنائی ہو چکی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انھیں روکا جا سکتا ہے اور اگر روکا جا سکتا ہے تو پھر کیسے روکا جا سکتا ہے اور روکنے کےلئے ہمیں کیا کیا اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس کا ایک جواب تو واضح ہے کہ اس سب کو ایک عوامی اور طبقاتی طاقت کو یکجا کرتے ہوئے ہی روکا جا سکتا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم پہلے اس چیز کا تعین کریں کہ ان پالیسیوں سے بحیثیت مجموعی کون کون سی سماجی پرتیں متاثر ہوئی ہیں اور مزید ہو رہی ہیں۔
1). تعلیمی اداروں کی نجکاری اور مہنگی ترین تعلیم سے محنت کش عوام کے بچے متاثر ہوئے۔
2). تمام مالیاتی، صنعتی اور خدمات کے شعبوں کی نجکاری سے ان میں ملازمت کرنے والے ورکرز متاثر ہوئے۔
3). ان اداروں کی نجکاری سے جس سرمایہ دارانہ کارٹیلائزیشن اور چند سرمایہ داروں کی جن اجارہ داریوں نے جنم لیا ہے، اس سے مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور اس سے پورا سماج، پوری عوام متاثر ہوئی ہے۔
4). اکنامک لبرل لائزیشن کے نام پر جب ریاست کو معیشت سے باہر نکالا گیا اور سبسیڈیز کا خاتمہ کیا گیا تو اس عمل سے سب سے زیادہ متاثر کسان ہوئے ہیں جنھیں آزاد منڈی اور سرمایہ داروں کی قائم اجارہ داریوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا جو انھیں گندم پہ ان کی پیداواری لاگت دینے پہ بھی تیار نہیں ہیں، جو انھیں گنے کی پیداوار پر ہفتوں شوگر ملوں کے باہر ذلیل وخوار کر کے رکھتے ہیں اور انھیں لاگت سے بھی کم پر گنا فروخت کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
5). نچلی سطح کا وہ درمیانہ طبقہ جو ان لبرل پالیسیوں کے تسلط اور اقتصادی بحرانات سے بہت شدید متاثر ہوا اور اس کی آمدنیوں کو شدید دھچکہ لگنے کے بعد اس کے عمومی معیار زندگی میں خاطر خواہ گراوٹ آئی۔
6). چھوٹا دوکاندار یا نچلی سطح کا تاجر جس کے کاروبار کا بنیادی انحصار ہی مندرجہ بالا محنت کش عوام کی اس قوت خرید پہ ہے، جس کی گراوٹ سے اس کی آمدنیوں میں بھی گراوٹ آئی اور اس کا معیار زندگی بھی محنت کش عوام کے گرتے معیار زندگی کے ساتھ ہی گراوٹ میں گئی۔

آگے کیا ؟

مندرجہ بالا یہی سماجی پرتیں اور ان سے منسلک ان کے خاندان ہی اس سماج کی اکثریتی آبادی بنتے ہیں جنھیں عام طور پر عوام کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جن کی رائے عامہ کو آزاد منڈی کی معیشت کے حق میں یہ کہتے ہوئے حکمران طبقات نے موڑا تھا کہ یہ نسخہء کیمیاء اپنی مسابقت کے باعث انھیں سستی خوراک، رہائش، خدمات، علاج، تعلیم اور دیگر تمام چیزیں فراہم کرے گا۔ حکمران طبقات اپنے اس پروپیگنڈے میں کامیاب ہوئے، تبھی ایک چھوٹا کاروباری، ایک نچلی درمیانی پرت کا شخص، ایک مزدور اور ایک کسان بھی بڑے فخر سے یہ کہتے ہوئے اپنے بچے کو ایک پرائیویٹ تعلیمی ادارے میں داخل کرواتے ہیں، کہ پرائیویٹ سکولوں میں اچھی تعلیم دی جاتی ہے۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں اچھا علاج کیا جاتا ہے۔ پرائیویٹ گاڑیوں میں اچھا اور آرام دہ سفر ہوتا ہے۔ یہ تھی وہ رائے عامہ جسے آزاد منڈی اور نیو لبرل اکنامک ماڈل کے حق میں اور پبلک سیکٹر لیڈ گروتھ کے ماڈل کے خلاف، سرمایہ دار حکمران طبقات، ان کے دانشور اور ان کے ماہرین، ہموار کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ بلاشبہ اس میں سوویت یونین کے انہدام کے اپنے فیصلہ کن اثرات تھے جس سے سوشلسٹ نظریات کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ سوویت انہدام کو سرمایہ دار طبقات نے سوشلزم کی حتمی ناکامی بنا کر پیش کیا۔ بایاں بازو عمومی طور پر پسپائی اختیار کرتا چلا گیا۔ اصلاح پسند سوشل ڈیموکریٹک ماڈل کے پیچھے چونکہ سب سے بڑی وجہ ہی سوویت یونین کا وجود تھا جس متبادل کے خوف سے اس سرمایہ دارانہ انتظام کو سرمایہ داروں نے قبول کئے رکھا تھا، اس لئے سوویت یونین کا انہدام دراصل نیولبرل سرمایہ دارانہ ماڈل کی فتح کے لئے فیصلہ کن آغاز تھا جسے عوامی رائے عامہ کو اپنے حق میں موڑتے ہوئے وہ مسلّط کرنے میں کامیاب رہا لیکن اب اس نیو لبرل اکنامک ماڈل اور آزاد منڈی کی معیشت کے خوفناک اثرات عملاً سماج کی ان تمام پرتوں کو خوف ناک طریقے سے متاثر کر رہے ہیں۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ بالکل اسی طرح جیسے سرمایہ دار طبقات نے اپنے نیولبرل اکنامک ماڈل کے تسلط کے لئے رائے عامہ ہموار کی تھی۔ مزدور، طلباء اور کسانوں کو اپنے پبلک لیڈ گروتھ کے ماڈل کے حق میں وہ رائے عامہ ہموار کرتے ہوئے، اس اکثریت کی حمایت جیتنا پڑے گی اور ایک واضح طبقاتی لڑائی کو لڑنے کے لئے اپنی وسیع طبقاتی یکجہتی اور اتحاد کو فروغ دینا پڑے گا۔ اس کے لئے انھیں ہر ترقی پسند سیاسی پارٹی، ہر ٹریڈ یونین، ہر ترقی پسند طلباء تنظیم، ہر کسان تنظیم، ہر ترقی پسند ادبی تنظیم، ہر ترقی پسند ثقافتی تنظیم اور محنت کش عوام سے جڑے ہر فورم کو استعمال کرنا پڑے گا، سوشل میڈیا کے تمام ٹولز کا بھرپور استعمال کرنا پڑے گا، اپنے ہر جریدے کا استعمال کرنا پڑےگا، میوزیکل ذرائع کو استعمال کرنا پڑے گا، فن اور آرٹ کے تمام ذرائع کو استعمال کرنا پڑے گا اور اس پبلک لیڈ گروتھ کے ماڈل کی وضاحت کرنا پڑے گی کہ اس کے تحت تمام ادارے کیسے عوامی فلاح و بہبود اور خدمات پر مامور ہوں گے کیونکر یہ اس بیوروکریٹک نیشنلائزیشین کی بدترین کارکردگی کے حامل ماڈل سے مختلف ہوگا، اس کی وضاحت کرنا ہوگی تاکہ محنت کش عوام کے سامنے ایک ایسا متبادل خاکہ موجودہو جو انھیں لڑھنے اور جدوجہد کرنے کا مقصد اور مہمیز دے سکے تبھی جاکر ہم اس سرمایہ دارانہ نظام اور اس کی ان نیو لبرل اکنامک پالیسیوں کے خلاف ایک طبقاتی اور عوامی جہدوجہد کو منظم کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں اور نتیجتاً ایک ایسے سماج کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں جس میں طبقات سے پاک ایک حقیقی سوشلسٹ معاشرے کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے