سفید خون

تحریر : ڈاکٹر لال خان
ڈاکٹر لال خان کی یہ تحریر 2015ء میں پہلی بار شائع ہوئی، اسے دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔
پرکھوںکی سنائی داستانوں اور محاوروں میں عموماً یہ سبق سنایا جاتا تھا کہ لڑائیوں‘ جھگڑوں اور حقارتوں کی تین وجوہ ہوتی ہیں‘ زن زر اور زمین۔ یہ جس ماضی بعید کی کہاوت ہے‘ تب عورت جنس سے مختلف نہ تھی ۔زر اتنی عام نہ تھی اور نہ زمین انفرادی ملکیت میں آکر ان تنازعات کا باعث بنی تھی۔ تاریخ کے تمام طبقاتی سماجوں میں بالادست اور محنت کش محکوم طبقات کے درمیان بنیاد ی تضاد اور تفریق اس عہدکے ذرائع پیداوار کی ملکیت اور اس پر کام کرنے والی محنت کے درمیان تھی‘ لیکن جوں جوں زن اور زمین پر زر کاغلبہ بڑھتا گیا‘ اس کے ساتھ ساتھ منافع اور شرح منافع کی ہوس میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ماضی کے نظاموں پر براہِ راست منافع اور اس کی طرح کے کاروبار کا زیادہ بوجھ نہ تھا۔ زمینوں میں کب‘ کتنے مہینوں بعد اناج اُگنا ہے‘ کب اس کی کٹائی ہونی ہے اور اس کی ترسیل میںنقد اور زر کتنی ملنی ہے وغیرہ وغیرہ؛ یعنی مال کے بدلے مال کے تبادلے سے ضروریات پوری کرنے کا عمل زیادہ حاوی تھا۔چاہے زندگی کی رفتار سست تھی لیکن اس سے ایک پسماندہ ہی سہی استحکام ضرور تھا۔افراتفری اور دولت کی اندھی دوڑ کے عذاب میں پورا معاشرہ مبتلا نہ تھا۔ اس سے رشتوں میں کچھ خلوص، جذبوں میں کچھ سچائی اور لہو میں الفت کی گرمی آج کی نسبت کہیں زیادہ تھی۔لیکن آج جس طرح اس ہوسِ زر نے زندگیوں کو اتنا تیز اور سفر کواتنا سست کردیا ہے‘ اس سے مجروح ہونے والا ہر انسانی رشتہ اور محبتوں کا بندھن آج حسد،مقابلہ بازی اور دوسروںکو دولت کے حصول کی لڑائی میں روند دینے کی اذیت میں مبتلا ہے ۔ آج کا خاندان اس پورے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے‘ جو لالچ اور حسد کی آگ میں سلگ رہا ہے۔پرانی کہاوت ہے کہ” برے وقت میں تو اپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔‘‘ لیکن انسان ہے کہ مانتا نہیں۔ سب کچھ جان کر بھی جھوٹے رشتوں اور سردمہر آسروں پر تکیہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔
سماجی نظام کا بحران صرف اس کی معیشت ‘ سیاست ‘ثقافت‘ صحافت اور ریاست کی ہی تنزلی کا مرتکب نہیں ہوتا بلکہ اس کے ہر ڈھانچے‘ ہر رشتے کو کھوکھلااور ناقابل اعتبار بنا دیتا ہے۔ عام طور پر لوگوں میں اس بیگانگی کے عالم میں بھی خاندان پر انحصار کا ایک لاشعوری سا آسرا ہوتا ہے‘ لیکن جب مفادات اور مالیات کے تقاضوں کے تھپیڑوں کا سامنا ہوتا ہے تو پھر پتا چلتا ہے کہ کون اپنا، کون پرایا ہے۔ خاندان کا ڈھانچہ سماج کا بنیادی یونٹ تصور کیا جاتا ہے۔ ظاہری اور روایتی طور پر جذبات اور لگن کے رشتوں پر مبنی اس خاندان میں ایک دوسرے کے لیے قربانی اور ایثار کے تصورات‘ سماجی نفسیات میں پائے جاتے ہیں۔ ایک مخصوص عہد اور نظام میں شاید اس کی افادیت بھی تھی‘ لیکن جوں جوں نظامِ زر نے معاشرے میں طاعون کی طرح سرایت کیا اس کے خاندانی نظام کو بھی کھوکھلا کر ڈالا ہے۔ رشتوں کی پہچان اب مالیاتی حیثیتوں اور سماجی رتبوں پر مبنی ہو کر رہ گئی ہے۔ کسی بیروزگار نوجوان کی جانب اس کے جاذب ترین خونی رشتوں کی نظریں بھی بدل جاتی ہیں، اس سے اجتناب کرنے لگتی ہیں۔امارت اور غربت کا فرق خاندان کو بھی طبقاتی بنیادوں پر دولخت کردیتا ہے۔امیر گھرانوں میں پلنے والے غریب رشتہ دار جس اذیت سے گزرتے ہیں‘ عمر بھر اس کے عذاب سے نہیں نکل سکتے۔ماضی کا وہ خاندان جس کا تصور افسانوں اور داستانوں میںملا کرتا تھا‘ آج سردمہری سے مٹ کر پارہ پارہ ہو چلا ہے۔
اب سماجی حیثیت خاندانی رتبے کا تعین کرتی ہے۔ یہ سماجی حیثیت دولت اور طاقت کی لونڈی ہوتی ہے۔ ایک طبقاتی نظام میںخاندان‘ رجعتی کردار کا اس لیے حامل ہو جاتا ہے کہ خاندان میں مقام بنانے کے لیے ہر ناتہ‘ ہر خونی رشتہ اور ہر جذباتی لگائو کا تعلق صرف یہی ترغیب دیتا ہے کہ ” معاشرے میں اپنا مقام بنائو‘‘! یہ مقام بنانے کے لیے اس سماج میں نہ صرف ضمیر کے سودے کرنے پڑتے ہیں‘ بلکہ دولت کے حصول کی اس اندھی دوڑ میں ہر کسی کو روند کر آگے بڑھنے کی دیوانگی اپنے خونی رشتوں اور قریبی عزیزوں کو بھی معاف نہیں کرتی۔
ہر وہ کاوش ‘ ہر وہ جدوجہد جو ان گھٹیا اور مادی مفادات سے ہٹ کر ہو‘ فن اور ثقافت کے میدان میں ہو یا اس سماج کو بدلنے اور نسلِ انسانیت کی نجات کے عظیم مقصد کے لیے ہو‘ خاندان کی نظر میں ہیچ اور تضحیک آمیز بن جاتی ہے‘ کیونکہ جس خاندان کی اپنی بنیادیں سرمائے کی بیساکھیوں کے آسرے پر ہوں‘ وہ اس معاشرے کے دیے ہوئے نفسیاتی اور جذبوں کے اپاہج پن سے بھلا کیسے آزاد ہونے دے گا۔ جب ہر معیار‘ ہر تقدس‘ ہر محبت اور ہر ناتے کی قیمت لگ جائے‘ تو وہ ایک بازاری جنس کے علاوہ کیار ہ جاتی ہے۔
خاندان کا بنیادی ستون ماں ہوتی ہے۔ ماں ہی جنس اور دولت کے دوہرے استحصالوں میںجکڑی ہوئی ہو تو پھر وہ خاندان کیسے کسی کا آسرا بن سکتا ہے؟ اس نظامِ زر سے چھٹکارا صرف معاشرے اور خاندان کی آزادی کا نام نہیں‘ بلکہ ہر اس لطیف جذبے ‘ خونی رشتے اور سچے پیار کوزر کی غلامی سے آزاد کرواکے اس کو اس پاکیزگی سے منور کروانا مقصود ہوتا ہے جس کو اس نظام نے مجروح اور گھائل کیا ہے۔ ایسا خاندان جو مفادات اور سماجی رتبوں کے لیے اپنوں کو فراموش کردے ‘ سچے جذبے رکھنے والے رشتوں کو بے دخل کردے خود اس قابل نہیں کہ اس کو مقدس بنایا جاسکے۔اس خاندان کو انسانی رشتوں کی لطافت اور لگن کا گہوارہ بنانے کے لیے پہلے اس زہر سے آلودہ ہر رشتے سے آزاد ہونا پڑتا ہے۔آج کی ماں کو اتنا مجبور کردیا گیا ہے کہ وہ اپنی جاننے والیوں یا رشتہ داروں میں صرف اس بیٹے یا بیٹی کا ذکر کریں جس کی سماجی حیثیت اور عزت ہو۔دولت سے حاصل کردہ یہ عزت اور مرتبہ ایسے بھائیوں اور بہنوں کے لیے کتنا عذاب بن جاتا ہے جو ”نالائق‘‘ رہ گئے ہوں، جنہیں اس مقابلہ بازی کے جہنم کی دنیا میں پچھاڑدیا گیا ہو یا پھر وہ کسی ایسے فن اور ہنر میں دلچسپی رکھتے ہوں جو دولت، افسری اور مرتبے کے حصول کا باعث نہیں بن سکتا۔ وہ ماں تو اپنی اس نالائق اولاد سے بھی شاید اتنا ہی زیادہ پیار کرتی ہوگی جتنا کامیاب اولاد کے ساتھ‘ لیکن یہ معاشرہ اس ماں کو کتنامجبور اور معذور کردیتا ہے کہ اُسے اپنے ان جذبوںکو چھپانا اور دبانا پڑتا ہے۔ اس نظام نے ہر خونی رشتہ مفلوج کردیاہے۔ خون جس میں محبتوں اور جذبوں کی حرارت دوڑا کرتی تھی‘ اس کو اس نظام ِ زر نے ”سفید خون‘‘ کردیا ہے۔
کچھ غریب لوگ خاندانوں سے دھتکارے جانے کے بعد حادثات اور واقعات کے ذریعے جب” بڑے آدمی‘‘ بن جاتے ہیں تو یہی خاندان خود ان کی قدم بوسی کرتا ہے‘ لیکن اس نظام میں بڑا آدمی ہمیشہ بہت چھوٹا ہوتا ہے۔نیچ ہوئے بغیر اس میں بڑا کوئی بن نہیں سکتا۔ ایسی لڑائی کو انسانیت اور تاریخ کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ کسی لعنت سے کم نہیں‘ لیکن بڑائی صرف وہ ہوتی ہے جو انسان میں‘ اس زندگی میں ایک ایسا مقصد حاصل کرکے اس کے لیے اپنی زندگی وقف کردینے کا حوصلہ پیدا کر دے‘ جو مقصد اس زندگی سے بڑا ہو‘ جو کسی انسان کی انفرادی زندگی کے لیے محدود نہ ہو بلکہ نسلِ انسان کی زندگی کو  فلاح اور خوشحالی بہم پہنچانے کی زندگی ہو۔اس معاشرے میں اپنا صرف وہی ہوسکتا ہے جو سماجی تبدیلی کے لمبے سفر میں آخری منزل تک مطلب اور مفاد کے بغیر ساتھ نبھاسکے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے