بھارت: معاشی ترقی کے بھیانک تضادات

تحریر: حسن جان
بھارت کے مالیاتی مرکز ممبئی کے الٹاماﺅنٹ روڈ ( جسے ارب پتیوں کی گلی بھی کہا جاتا ہے) کمبالا ہل پر تقریباً چار لاکھ مربع فٹ رقبے پر ایک ستائیس منزلہ رہائشی عمارت ہے جسے انٹیلیا کہتے ہیں۔ اس عمارت کی اونچائی 173میٹر ہے۔ اس عمارت میں زندگی کی تمام تر آسائشات موجود ہیں۔ 168گاڑیوں کی پارکنگ، ان گاڑیوں کی مرمت کے لیے کار گیراج، تقریبات کے لیے ہال، نو ہائی سپیڈ ایلیویٹر، تھیٹر، باغیچہ، سوئمنگ پول، مندر، ہیلتھ سینٹر، ہیلی پیڈ، مصنوعی برفباری کے حامل کمرے وغیرہ شامل ہیں۔ اس عمارت کی تعمیر کی مجموعی لاگت 2ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ یہ عمارت بھارت کے دوسرے سب سے امیر آدمی مکیش امبانی کی ملکیت ہے۔ یہ دنیاکا دوسرا سب سے مہنگا گھر ہے جبکہ پہلا برطانیہ کا بکنگھم پیلس ہے لیکن بکنگھم پیلیس کسی شخص کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ تاج برطانیہ کی سرکاری ملکیت ہے۔ اس حساب سے مکیش امبانی کا یہ گھر دنیا کا سب سے مہنگا نجی گھر ہے جو امبانی خاندان کے چار افراد کی رہائش کے لیے ہے جبکہ ان چار افراد کی خدمت کے لیے ہمہ وقت چھ سو ملازمین موجود رہتے ہیں۔

دوسری طرف اسی ممبئی میں رہائشی زمین کی قلت کا یہ عالم ہے کہ کچی آبادی کا ایک علاقہ دھراوی ہے جہاں محض 2.3مربع کلومیٹر یا 590ایکڑ علاقے میں دس لاکھ سے زائد افراد بستے ہیں جبکہ مجموعی طور پر ممبئی کی آدھی سے زیادہ آبادی کچی آبادیوں (Slums) میں رہتی ہے۔ان کچی آبادیوں میں لوگوں کو بد ترین حالات میں زندگی کی انتہائی بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ حال ہی میں بھارت اور ایشیا کے سب سے امیر آدمی گوتم اڈانی نے اس علاقے کو ’ترقی دینے‘ کا ٹھیکہ حاصل کیا ہے ۔ ترقی کا یہ منصوبہ دراصل دھراوی کی پوری کچی آبادی کو کسی اور جگہ منتقل کرکے یہاں ممبئی کے مرکز میں پرتعیش ہاﺅسنگ سکیم، شاپنگ مالز وغیرہ بنانا ہے۔

پورا بھارت ارب پتی سرمایہ داروں کے پرتعیش اور مہنگے محلات کے پہلو بہ پہلو جھونپڑ پٹیوں اور کچی آبادیوں کے مناظر اور متضاد دنیاﺅں کی تصویر پیش کرتا ہے۔ پچھلی دو دہائیوں سے کارپوریٹ میڈیا میں بھارت کی ترقی اور ابھرتی ہوئی معیشت کے بارے میں جو دعوے کیے جاتے رہے ہیں وہ ترقی دراصل آبادی کے ایک انتہائی قلیل حصے کو مستفید کررہی ہے جبکہ وسیع تر آبادی اس معاشی ترقی کے ثمرات سے مکمل محروم رہی ہے کیونکہ جن معاشی نسخوں کی بنیاد پر یہ ترقی حاصل ہوئی ہے ان کا بنیادی مقصد ہی سرمایہ داروں کو اپنی منافع خوری کے لیے اتنی سہولیات فراہم کرنا ہے کہ پہلے ان کے جام ِ زر بھر جائیں اور پھر بھر کر چھلک جائیں اور ان چھلکتے ہوئے قطروں سے سماج میں خوشحالی آئے۔ اس معاشی نسخے کو ٹریکل ڈاﺅن معاشیات کہا جاتا ہے۔

2014ءمیں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعظم نریندرا مودی نے Make in Indiaمنصوبے کا آغاز کیا جس کا مقصد ملک کی مینو فیکچرنگ (پیداواری ) شعبے کو ترقی دینا، اس شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری لانا، چین کو پچھاڑتے ہوئے انڈیا کو دنیا کا مینوفیکچرنگ حب بنانا اور جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ کے حصے کو 25فیصد تک بڑھانا تھا۔لیکن مودی سرکار کے تمام بلند و بانگ دعوﺅں کے برعکس یہ شعبہ 2014ءمیںجی ڈی پی کے 15.07فیصد سے گر کر 2021ءمیں 13.98فیصد ہوگئی۔ اسی طرح اس شعبے میں موجود ورک فورس بھی 2017ءکے 51ملین سے کم ہو کر 2021ءمیں 27.3ملین ہوگئی یعنی تقریباً 46فیصد کمی۔ ایک صحت مند معیشت کے لیے جاندار مینوفیکچرنگ شعبہ لازمی جزو ہے۔ لیکن یہاں حالت یہ ہے کہ شہروں میں روز گار کی تلاش میں آئے ہوئے لوگ روزگار نہ ملنے کی وجہ سے واپس اپنے گاﺅں جا رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2021-2022ءمیں مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری میں 76فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا لیکن بھارتی معیشت دان سنتوش مہروترا کے مطابق یہ اعداد و شمار یہ بات نہیں بتاتی کہ اس میں Mergers and acquisitions(ایک کمپنی کا دوسری میں انضمام یا ایک کمپنی کا دوسری کو خرید لینا)کا حصہ کتنا ہے۔ ”اگر بیرونی کمپنیاں پہلے سے موجود بھارتی کمپنیوں کو خرید رہی ہیں اور نئی پیداواری یونٹس تعمیر نہیں کر رہےں تو مینوفیکچرنگ کے شعبے میں روزگار کیسے پیدا ہوگی“۔ چونکہ ملک میں ہنرمند مزدوروں کی کمی ہے اس لیے بیرونی کمپنیاں بھی ملکی کمپنیوں کے ہنرمند مزدوروں پر ہی اکتفا کرتی ہیںاور نئے روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوتے۔ مہروترا کا مزید کہنا ہے، ”زیادہ تر توجہ کیپیٹل انٹینسو (Capital intensive) شعبوں(یعنی ایسے شعبے جہاں انسانی محنت کم سے کم لگتی ہے اور اس لیے روزگار کم پیدا ہوتی ہے) پر ہے۔ بھارت کے مینوفیکچرنگ کے شعبے کا مسئلہ جاری رہے گا جس کا زیادہ تر حصہ کیپٹل انٹینسیو ہے“ ۔

بھارت کی معاشی ترقی اور جی ڈی پی میں نمو میں سب سے بڑا کردار خدمات کے شعبے کاہے۔تمام تر معاشی چکاچوند، فلمی ستاروں اور سینماﺅں کی ریل پیل، ’شائننگ انڈیا‘ کے دعوے، مارک زکربرگ کے دورے اور آئی ٹی کمپنیوں کی ملک میں آمد و رفت اسی شعبے کے بل بوتے پر ممکن ہوئے ہیں۔ مجموعی داخلی پیداوار میں اس شعبے کا حصہ تقریباً 54فیصد ہے۔ اس شعبے میں عام طور پر تجارت، مرمت، ہوٹل، ریسٹورانٹ، ٹرانسپورٹ، سٹوریج، کمیونیکیشن، آئی ٹی، مالیاتی خدمات، انشورنش، رئیل اسٹیٹ، پبلک ایڈمنسٹریشن، دفاع اور دیگر سیکٹرز شامل ہیں لیکن روزگار پیدا کرنے کے حوالے سے اس شعبے کا حصہ مجموعی افرادی قوت کا ایک تہائی سے بھی کم ہے۔ بھارت میں آئی ٹی کے شعبے کی پیشرفت کا بڑا چرچا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک کی مجموعی افرادی قوت 410ملین افراد میں سے صرف دو ملین افراد کو ہی اس شعبے میں روزگار مل سکا ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی بنگلور کے پروفیسر امیت باسولے کے مطابق، ”یہ شعبے بلند شرح نمو کے حامل شعبے ہیں لیکن یہ روزگار پیدا کرنے والے شعبے نہیں ہیں“۔

آئی ایم ایف کی پیش گوئی کے مطابق اس سال بھارتی معیشت کی شرح نمو 6.1فیصد ہوگی اور اگلے سال 2024ءمیں یہ شرح نمو بڑھ کر 6.8فیصد ہو جائے گی۔ یہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں تیز ترین معاشی نمو ہے۔ لیکن اس تمام تر ترقی اور معاشی چمک دمک کے ثمرات نیولبرل معاشیات کی ساخت کی وجہ سے وسیع تر آبادی تک پہنچ ہی نہیں سکیں۔ ملک میں بے روزگاری ایک شدید مسئلہ بنچکا ہے۔ نریندرا مودی جب 2014ءمیں برسراقتدار آیا تھا تو اس وقت بے روزگاری کی شرح 4.9فیصد تھی۔ سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے اعداد وشمار کے مطابق فروری 2023ءمیں بے روزگاری کی شرح 7.45فیصد تک بڑھ چکی ہے۔

مودی کی تمام تر نیولبرل پالیسیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بھارت پہلے سے بھی گمبھیر سماجی تضادات کا مجموعہ بن چکا ہے۔ ایک طرف امارت کی بیہودہ ریل پیل ہے تو دوسری طرف بے انتہا غربت ، بے روزگاری، لاعلاجی اور پسماندگی ہے۔ اس حقیقت کو اکسفیم کی حالیہ رپورٹ بعنوان Survival of the richest: The India Storyسے بہتر سمجھا جا سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق امیر ترین 1فیصد افراد کے پاس ملکی دولت کا 40.5فیصد ہے۔ اوپر کی آبادی کے 5فیصد کے پاس قومی دولت کا 60فیصد ہے جبکہ آبادی کے نچلے طبقات کے 50فیصد کے پاس قومی دولت کا محض 3فیصد ہے۔ اسی طرح ملک میں ارب پتیوں کی تعداد 2020ءمیں 102سے بڑھ کر 2022ءمیں 166ہوگئی۔ بھارت کے سو امیر ترین افراد کے پاس مجموعی طور پر 660اَرب ڈالر کی دولت ہے جو ملک کے ڈیڑھ سال کے بجٹ کے برابر ہے۔

ان تمام تر سماجی اور معاشی تضادات کے ہوتے ہوئے بی جے پی کی اقتدار میں موجودگی کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے کیونکہ ایسے پرانتشار سماج پر کتابی قاعدے سے حکومت کرنا ناممکن ہے۔ پچھلے نو سالوں میں بھارت میں مذہبی فسادات میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ کارپوریٹ میڈیا جسے بھارت کے ترقی پسند حلقے گودی میڈیا بھی کہتے ہیں جان بوجھ کر مسجد یا مندر میں کسی بھی وجہ سے ہونے والے واقعے کو ہندو مسلم تضاد کی شکل دے کر گھنٹوں اس پر نشریات چلاتے ہیں تاکہ سماج میں ایک عمومی تاثر پھیلایا جائے کہ ملک میں سب سے اہم مسئلہ ہندو مذہب کا تحفظ ہے جسے مسلمانوں سے خطرہ ہے۔ اگرچہ یہ کام ملک میں پہلی دفعہ نہیں ہو رہا۔ اپنے آپ کو سیکولر کہنے والی انڈین نیشنل کانگریس وقتاً فوقتاً مذہبی تضادات کو ہوا دے کر اپنی حاکمیت کو سنبھالا دینے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ مثلاً اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ کانگریس نے ہی ساٹھ کی دہائی میں اس وقت کے بمبئی شہر کی فیکٹریوں اور صنعتوں میں مزدوروں کی طاقتور یونینز اور کمیونسٹوں کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کے منافعوں کے لیے شیو سینا جیسی ہندو بنیادپرست تنظیم کی داغ بیل ڈالی۔ اس کے شروع کے لیڈر بھی کانگریس سے ہی تھے۔

لیکن آج عالمی سطح پر سرمایہ داری کے نامیاتی زوال نے جہاں ترقی یافتہ ملکوں میں حکمران طبقات کی روایتی سیاسی پارٹیوں کو شکست و ریخت اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار کیا ہے تو بھارت جیسی تیسری دنیا کے ملک میں حکمرانوں کی پارٹیاں بھلا اس عالمی زوال سے کیسے محفوظ رہ سکتی ہےں۔ تقریباً ساٹھ سال تک سیکولر بھارت کے نام پر حکمرانی کرنے والی کانگریس نئے حالات میں بھارت کے حکمران طبقات کے لیے زیادہ کارآمد نہیں رہ گئی تھی کیونکہ شدید معاشی اور سماجی تضادات کے ہوتے ہوئے سیکولرزم اور بورژوا جمہوریت کی دیگر نزاکتوں کے لیے کم ہی گنجائش رہ جاتی ہے۔ ایسے میں نظام کو چلانے کے لیے حکمران طبقات کو زیادہ شدید اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔ بی جے پی کو اقتدار میں لانا دراصل ان ہی شدید اقدامات میں سے ایک ہے۔

مودی کو مقبول عام بنانے کے لیے کارپوریٹ میڈیا اور ان کے آقاﺅں نے باقاعدہ مہم چلائی۔ 2002ءمیں گجرات میں بطور وزیر اعلیٰ مودی نے جو مذہبی فسادات کروائے تھے، جس میں دو ہزار سے زائد مسلمان قتل ہوئے، اس داغ کو دھونے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ ایک غریب نوجوان کے طور پر ریلوے اسٹیشن پر چائے بیچنے کے اس کے پس منظر کو خوب اچھالا گیا اور سماج میں موجود طبقاتی تضادات کے خلاف نفرت کو دائیں جانب موڑنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔

2014ءمیں اقتدار میں آنے کے بعد مودی کے تمام تر اقدامات کا مقصد نیولبرل معاشیات کو زیادہ شدت کے ساتھ لاگو کرنا تھا۔ اس کے خلاف ملک گیر ہڑتالوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ اس طرح کی تمام تر مزاحمتوں کو روکنے یا بے اثر کرنے کے لیے بی جے پی کی حکومت نے ہندو بنیاد پرست نیم عسکری تنظیموں کو کھلی چھوٹ دے دی ۔ ملک بھر میں ان تنظیموں کی جانب سے مسلمانوں سمیت دیگر مذہبی اقلیتوں اور نچلی ذات کے ہندوﺅں کے خلاف گائے کا گوشت کھانے اور دیگر بہانوں سے ہجومی تشدد کے واقعات میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ ہر اہم موقع پر مودی سرکار نے مذہب کا بھرپور استعمال کیا۔ مثلاً دسمبر 2019ءمیں مسلم نفرت انگیزی پر مبنی قانون سی اے اے کے خلاف جب مختلف شہروں میں مظاہرے شروع ہوئے تو حکومت نے دہلی میں بھرپور ہندو مسلم فسادات کروا کر ان مظاہروں کو کچلنے کی کوشش کی حالانکہ ان فسادات کے دوران دہلی میں امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ بھارت کے دورے پر تھا۔ سماجی شعور کو کند کرنے کے لیے حکومتی سطح پر انتہائی جاہلانہ بحثوں کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی، جیسے گائے کے گوبر یا پیشاب سے فلاں فلاں بیماریوں کا علاج ہوسکتا ہے۔ بی جے پی اور دائیں بازو کے مورخین نے تعلیمی اداروں میں ہندوستان کی تاریخ میں مغلوں اور مسلمان حکمرانوں کے کردار کو یا تو نصاب سے حذف کیا یا انہیں اس انداز میں پیش کیا گیا جس سے مذہبی نفرت کو مزید ہوا دی جاسکے۔لیکن ان تمام اقدامات اور مذہبی نفرتوں کو ہوا دے کر حکمرانی کرنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے کیونکہ آخر میں معاشی سوال ہی سب سے اہم ہوتی ہے۔ 2014ءمیں اسی معاشی سوال کو استعمال کرکے مودی نے دائیں بازو کی پاپولزم کی بنیاد پر اقتدار حاصل کیا۔ اس بار دو مرتبہ اقتدار میں رہنے کے بعد اس معاشی سوال کو استعمال کرنا مودی کے لیے شاید ممکن نہ ہو۔ اس لیے اگلے سال ہونے والے الیکشن سے پہلے مودی مذہبی تضادات اور پاکستان کے ساتھ تنازعات کو اور زیادہ ہوا دینے کی کوشش کرے گا۔

دوسری طرف اپوزیشن پارٹیوں کے پاس بھی ان تمام تر معاشی ناہمواری، غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کے خلاف کوئی جامع پروگرام نہیں ہے بلکہ ان کی پروگرام دینے میں ناکامی اور صرف جمہوریت کا راگ الاپنے میں ہی مودی کی اصل طاقت چھپی ہوئی ہے۔اپوزیشن کی بڑی پارٹی کانگریس کا زیادہ تر زور بھارتی جمہوریت کا تحفظ، امن اور سیکولرزم پر ہے لیکن ان کی یہ نعرے بازی بھی انتہائی نحیف ہے۔ حال ہی میں کرناٹکا کے ریاستی انتخابات میں کانگریس نے اقتدار میں آنے کی صورت میں ہندو بنیاد پرست تنظیموں بجرنگ دل اور آر ایس ایس پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا لیکن اقتدار میں آنے کے بعد فوراً اس اعلان پر یو ٹرن لے لیا۔ اسی سے واضح ہوتا ہے کہ بھارتی سیکولر ازم کتنی کمزور اور جعلی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے کانگریسی لیڈر اور نہرو خاندان کے چشم و چراغ راہول گاندھی نے ”بھارت جوڑو یاترا“ کا آغاز کیا تھا جس دوران وہ مختلف ریاستوں کے دورے میں پیدل مارچ کرتے ہوئے ملک میں مذہبی ہم آہنگی پیدا کرنے کی مہم چلا رہا تھا جو ملک کے لبرل مڈل کلاس کے لیے شاید کشش رکھتا ہو لیکن وسیع تر عوام کے لیے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ ان کے مسائل جمہوریت اور سیکولرزم سے زیادہ گہرے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں کانگریس کا مستقبل زیادہ روشن نظر نہیں آتا۔ شاید اسی وجہ سے کانگریس نے پارٹی میں جان ڈالنے کے لیے پہلی دفعہ نہرو خاندان سے باہر ایک شخص ملیکارجن کھرگے کو پارٹی کا نیا صدر بنایا ہے۔

بھارت کے بائیں بازو کی حالت بھی کانگریس سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ 2004ءکے عام انتخابات میں کمیونسٹ پارٹیز نے مجموعی طور پر 64نشستیں جیتی تھیں لیکن منموہن سنگھ کی کانگریسی حکومت کا اتحادی ہونے کی انہیں بڑی قیمت چکانی پڑی۔ 2014ءکے الیکشن میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے محض 9نشستیں جبکہ 2019کے الیکشن میں دونوں کمیونسٹ پارٹیز نے پانچ نشستیں حاصل کیں۔ بھارتی بائیں بازو کا یہ زوال دنیا بھر میں بائیں بازو کے زوال سے زیادہ مختلف وجوہات نہیں رکھتا۔ لیکن بائیں بازو کے کیڈرز کو یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ بھارتی جمہوریت اور سیکولرزم کی ناکامی دراصل بھارت میں سرمایہ دارانہ بنیادوں پر ترقی کے ناممکن ہونے کی وجہ سے ہے ۔ بی جے پی کا ابھار دراصل اس سماجی معاشی عمل کا سیاسی اظہار ہے۔ اس لیے بورژوا پارٹیوں کی جمہوریت اور سیکولرزم کی بے وقت کی راگنی کے پیچھے جانے کی بجائے اپنی پارٹی کی اساس کی طرف جانے کی ضرورت ہے۔بورژوا جمہوریت کا حصہ بننے کی بجائے ان اداروں میں جا کر انہیں عوام تک پہنچنے کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے اور ایک حقیقی کمیونسٹ پروگرام کو اپنانے کی ضرورت ہے جس میں ملک کی معیشت کے تمام کلیدی حصوں کو قومی تحویل میں لے کر مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں دینے کا پروگرام دیا جائے۔بی جے پی اور دیگر ہندو بنیاد پرست قوتوں کا مقابلہ بھارتی بورژوا جمہوریت کے بس کی بات نہیں ۔ صرف بائیں بازو کے ایک ریڈیکل پروگرام کے ذریعے ہی اس عفریت کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے